Tafsir As-Saadi
64:8 - 64:8

پس ایمان لاؤ تم ساتھ اللہ اور اس کےرسول کے اور (ساتھ) اس نور کے وہ جو نازل کیا ہم نے اور اللہ ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو، خوب خبردار ہے(8)

[8] چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان لوگوں کے انکار کا ذکر کیا ہے جو قیامت کا انکار کرتے ہیں نیز یہ بھی ذکر کیا کہ ان کا یہ انکار اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات کے ساتھ ان کے کفر کا موجب ہے، اس لیے اس نے اس چیز کا حکم دیا جو ہلاکت اور بدبختی سے بچاتی ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ، اس کے رسول (ﷺ) اور اس کی کتاب پر ایمان، اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو نور سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس کی ضد تاریکی ہے۔ جو احکام، قوانین اور اخبار اس کتاب میں ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے، روشنی ہیں جس کے ذریعے سے جہالت کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں راہ نمائی حاصل ہوتی ہے اور جس کے ذریعے سے رات کی سیاہ تاریکی میں چلا جاتا ہے۔ کتاب اللہ کی راہ نمائی کے سوا تمام علوم ایسے ہیں جن کے نقصانات ان کے فوائد سے بڑھ کر اور جن کا شر ان کی خیر سے زیادہ ہے بلکہ اس میں کوئی خیر اور کوئی فائدہ ہی نہیں، سوائے اس کے جو انبیاء و مرسلین کی لائی ہوئی تعلیمات کے موافق ہو۔اللہ تعالیٰ، اس کے رسول (ﷺ) اور اس کی کتاب پر ایمان، عزم کامل ان (احکامات و قوانین) پر یقین صادق، اس تصدیق کے مقتضیٰ یعنی اوامر کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب کا تقاضا کرتے ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِيۡرٌ﴾ ’’اور اللہ تمھارے عملوں سے باخبر ہے۔‘‘ پس وہ تمھارے اچھے اور برے اعمال کی جزا دے گا۔