Tafsir As-Saadi
67:16 - 67:18

کیا بے خوف ہو گئے ہو تم اس (اللہ) سے جو آسمان میں ہے، یہ کہ وہ دھنسا دے تمھیں زمین میں تو ناگہاں وہ (تیز) تیز حرکت کرنے لگے؟ (16) کیا بے خوف ہو گئے ہو تم اس (اللہ) سے جو آسمان میں ہے، یہ کہ وہ بھیجے تم پر پتھراؤ کرنے والی آندھی پس عنقریب جان لو گے تم کیسا ہے میرا ڈرانا؟ (17) اور تحقیق تکذیب کی تھی ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، پس کیسا تھا میرا عذاب؟ (18)

[16] یہ اس شخص کے لیے تہدید و وعید ہے جو اپنی سرکشی، تعدی اور نافرمانی پر جما ہوا ہے جو سزا اور عذاب کے نزول کی موجب ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ ءَاَمِنۡتُمۡ مَّنۡ فِي السَّمَآءِ﴾ ’’کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے، نڈر ہو۔‘‘ اس سے مراد اللہ تعالیٰ ہے جو اپنی مخلوق پر بلند ہے ﴿ اَنۡ يَّخۡسِفَ بِكُمُ الۡاَرۡضَ فَاِذَا هِيَ تَمُوۡرُ﴾ ’’کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے۔‘‘ تمھیں لے کر کانپنے لگے اور تم ہلاک اور تباہ و برباد ہو جاؤ ۔
[18,17]﴿ اَمۡ اَمِنۡتُمۡ مَّنۡ فِي السَّمَآءِ اَنۡ يُّرۡسِلَ عَلَيۡكُمۡ حَاصِبًا﴾ ’’کیا تم اس سے جو آسمان میں ہے، بے خوف ہو کہ وہ تم پر پتھر برسادے۔‘‘ یعنی آسمان سے عذاب نازل کرے، تم پر پتھر برسائے اور اللہ تعالیٰ تم سے انتقام لے ﴿ فَسَتَعۡلَمُوۡنَ۠ كَيۡفَ نَذِيۡرِ﴾ یعنی تمھیں عنقریب معلوم ہو گا کہ وہ عذاب تم پر کیسے آتا ہے جس کے بارے میں تمھیں رسولوں اور کتابوں نے ڈرایا تھا۔ پس تم یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین اور آسمان کے عذاب سے تمھارا محفوظ ومامون ہونا تمھیں کوئی فائدہ دے گا۔ تم عنقریب اپنے کرتوتوں کا انجام ضرور دیکھو گے، خواہ یہ مدت لمبی ہو یا چھوٹی کیونکہ تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں نے بھی جھٹلایا جیسے تم نے جھٹلایا ہے تو دیکھ لوکیسے اللہ تعالیٰ نے انھیں اس تکذیب سے روکا؟ اللہ تعالیٰ نے آخرت کے عذاب سے پہلے انھیں دنیا میں عذاب کا مزا چکھایا، اس لیے ڈرو کہ کہیں تم پر بھی وہی عذاب نازل نہ ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا۔