اور اللہ ہی کے لیے ہیں نام اچھے اچھے، سو تم پکارو اسے ساتھ ان (ناموں) کےاور چھوڑ دو ان لوگوں کو کج روی اختیار کرتے ہیں اس کے ناموں میں عنقریب بدلہ دیے جائیں گے وہ اس کا جو تھے وہ عمل کرتے(180)
[180] یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے جلال کی عظمت اور اس کے اوصاف کی وسعت کو بیان کرتی ہے نیز یہ بیان کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام نام اسمائے حسنیٰ ہیں ، یعنی اس کا ہر نام اچھا ہے۔ اس کا قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر نام ایک عظیم صفت کمال پر دلالت کرتا ہے۔ اسی لیے ان اسماء کو اسمائے حسنیٰ کہا گیا ہے۔ اگر یہ اسماء صفات پر دلالت نہ کرتے بلکہ محض علم ہوتے تو یہ اسماء ’’حسنیٰ‘‘ نہ ہوتے اس طرح اگر یہ اسماء کسی ایسی صفت پر دلالت کرتے جو صفت کمال نہ ہو بلکہ اس کے برعکس صفت نقص یا صفت منقسم ہوتے یعنی بہ یک وقت مدح و قدح پر دلالت کرتے تب بھی یہ اسماء ’’حسنیٰ‘‘ نہیں کہلا سکتے۔ پس اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ہر اسم پوری صفت پر دلالت کرتا ہے جس سے یہ اسم مشتق ہے اور وہ اس صفت کے تمام معنی کو شامل ہے۔ مثلاً: اللہ تعالیٰ کا اسم مبارک (اَلْعَلِیم) اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ ایسے علم کا مالک ہے جو عام ہے اور تمام اشیاء کا احاطہ کیے ہوئے ہے، پس زمین و آسمان میں ایک ذرہ بھی اس کے دائرہ علم سے باہر نہیں ۔ اس کا اسم مبارک (اَلرَّحِیم) دلالت کرتا ہے کہ وہ عظیم اور بے پایاں رحمت کا مالک ہے جو ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ (اَلْقَدِیر) دلالت کرتا ہے کہ وہ قدرت عامہ کا مالک ہے کوئی چیز بھی اس کی قدرت کو عاجز اور لاچار نہیں کر سکتی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اسماء کا کامل طور پر (حُسْنٰی) ہونا یہ ہے کہ اس کو ان اسماء حسنیٰ کے سوا کسی اور اسم سے نہ پکارا جائے بنابریں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ﴿فَادۡعُوۡهُ بِهَا ﴾’’پس اس کو انھی ناموں سے پکارو‘‘ اور اس دعا میں دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ دونوں شامل ہیں ۔ پس ہر مطلوب میں اللہ تعالیٰ کو اس کے اس اسم مبارک سے پکارا جائے جو اس مطلوب سے مناسبت رکھتا ہے۔پس دعا مانگنے والا یوں دعا مانگے ’’اے اللہ مجھے بخش دے مجھ پر رحم کر بے شک تو بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔‘‘ ’’اے توبہ قبول کرنے والے میری توبہ قبول کر‘‘ ’’اے رزق دینے والے مجھے رزق عطا کر‘‘ اور ’’اے لطف و کرم کے مالک مجھے اپنے لطف سے نواز...‘‘ وغیرہ۔﴿ وَذَرُوا الَّذِيۡنَ يُلۡحِدُوۡنَ فِيۡۤ اَسۡمَآىِٕهٖ١ؕ سَيُجۡزَوۡنَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں کج روی اختیار کرتے ہیں ، عنقریب ان کو ان کے عملوں کا بدلہ دیا جائے گا‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے اسماء میں الحاد کی پاداش میں انھیں سخت سزا اور عذاب دیا جائے گا اور الحاد کی حقیقت یہ ہے کہ ان اسماء کو ان معانی سے ہٹا کر جن کے لیے ان کو وضع کیا گیا ہے، دوسری طرف موڑنا، (اور اس کی مختلف صورتیں ہیں )۔ (۱) ان ناموں سے ایسی ہستیوں کو موسوم کرنا جو ان ناموں کی مستحق نہیں ، مثلاً: مشرکین کا اپنے معبودوں کو ان ناموں سے موسوم کرنا۔ (۲) ان اسماء کے اصل معانی مراد کی نفی اور ان میں تحریف کر کے، ان کے کوئی اور معانی گھڑ لینا، جو اللہ اور اس کے رسول کی مراد نہیں ۔ (۳) ان اسماء سے دوسروں کو تشبیہ دینا۔ پس واجب ہے کہ اسمائے حسنیٰ میں الحاد سے بچا جائے اور اسماء میں الحاد کرنے والوں سے دور رہا جائے۔ صحیح حدیث میں نبئ اکرمﷺ سے ثابت ہے، آپ نے فرمایا: ’’اللہ تبارک و تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جو ان کو یاد کر لیتا ہے وہ جنت میں داخل ہوگا۔‘‘ (صحیح البخاري، کتاب الشروط، باب مایجوزمن الاشتراط والثنیا فی الإقرار… الخ، ح: 2736)