اور وہ لوگ جنھوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو، ضرور بتدریج پکڑیں گے ہم انھیں جہاں سے انھیں علم بھی نہ ہوگا(182) اور مہلت دیتا ہوں میں انھیں، بلاشبہ میری تدبیر انتہائی مضبوط ہے(183)کیانہیں غور کیا انھوں نے کہ نہیں ہے ان کے ساتھی (پیغمبر) کو کوئی جنون؟ نہیں ہے وہ مگر ڈرانے والا ظاہر(184)اور کیا نہیں دیکھا انھوں نے بادشاہی میں آسمانوں اورزمین کی اور جو کچھ پیدا کیا اللہ نے ہر چیز سے؟ اور یہ کہ شاید قریب آگئی مقررہ مدت ان کی پس ساتھ کس بات کے، بعد اس (قرآن) کے وہ ایمان لائیں گے؟(185)جس کو گمراہ کردے اللہ تو نہیں کوئی ہدایت دینے والا اسےاور وہ چھوڑ دیتا ہے انھیں ان کی سرکشی میں، وہ سرگرداں پھرتے ہیں(186)
[183]﴿وَاُمۡلِيۡ لَهُمۡ﴾ ’’اور میں ان کو مہلت دیتا ہوں ‘‘ یہاں تک کہ وہ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ان کا مواخذہ نہیں کیا جائے گا اور ان کو سزا نہیں دی جائے گی، پس وہ کفر اور سرکشی میں بڑھتے چلے جاتے ہیں اور ان کے شر میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ بنابریں ان کی سزا میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے اور ان کا عذاب کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور انھیں علم تک نہیں ہوتا۔ اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّ كَيۡدِيۡ مَتِيۡنٌ ﴾ ’’میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے۔‘‘ یعنی میری چال بہت مضبوط اور کارگر ہے۔
[184]﴿ اَوَلَمۡ يَتَفَؔكَّـرُوۡا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمۡ﴾ ’’کیا انھوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کو‘‘ یعنی محمد مصطفیﷺ کو ﴿ مِّنۡ جِنَّةٍ ﴾ ’’کوئی جنون نہیں ‘‘ یعنی کیا انھوں نے غور و فکر نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کا حال، جس کو یہ اچھی طرح جانتے ہیں ، چھپا ہوا نہیں ہے۔ کیا وہ پاگل ہے؟ پس اس کے اخلاق و اطوار، اس کی سیرت، طریقے اور اس کے اوصاف کو دیکھیں اور اس کی دعوت میں غور و فکر کریں ۔ وہ اس میں کامل ترین صفات، بہترین اخلاق اور ایسی عقل و رائے کے سوا کچھ نہیں پائیں گے جو تمام جہانوں پر فوقیت رکھتی ہے۔ وہ بھلائی کے سوا کسی چیز کی دعوت نہیں دیتا اور برائی کے سوا کسی چیز سے نہیں روکتا۔ پس اے صاحبان عقل و دانش! کیا اس شخص کو جنون لاحق ہے یا یہ شخص بہت بڑا رہ نما، کھلا خیر خواہ، مجد و کرم کا مالک اور رؤف و رحیم ہے؟ بنابریں فرمایا:﴿ اِنۡ هُوَ اِلَّا نَذِيۡرٌ مُّبِيۡنٌ ﴾ ’’وہ تو صرف ڈرانے والا ہے‘‘ یعنی وہ تمام مخلوق کو اس چیز کی طرف بلاتا ہے جو انھیں عذاب سے نجات دے اور جس سے انھیں ثواب حاصل ہو۔
[185]﴿ اَوَلَمۡ يَنۡظُرُوۡا فِيۡ مَلَكُوۡتِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ﴾ ’’کیا انھوں نے آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں نظر نہیں کی‘‘ کیونکہ جب یہ لوگ زمین و آسمان کی بادشاہی میں غور و فکر کریں گے تو وہ اسے اس کے رب کی وحدانیت اور اس کی صفات کمال پر دلیل پائیں گے۔ ﴿ وَمَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنۡ شَيۡءٍ﴾ ’’اور جو کچھ پیدا کیا اللہ نے ہر چیز سے‘‘ اسی طرح وہ ان تمام چیزوں میں غور و فکر کریں کیونکہ کائنات کے تمام اجزا اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی قدرت، اس کی حکمت اور اس کی بے کراں رحمت، اس کے احسان، اس کی مشیت نافذہ اور اس کی ان عظیم صفات پر سب سے بڑی دلیل ہیں ، جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ اکیلا خلق و تدبیر کا مالک ہے وہ اکیلا معبود محمود، وہ اکیلا پاکیزگی کا مستحق اور واحد محبوب ہے۔ فرمایا ﴿ وَّاَنۡ عَسٰۤى اَنۡ يَّكُوۡنَ قَدِ اقۡتَرَبَ اَجَلُهُمۡ ﴾ ’’اور شاید کہ قریب آ گیا ہو ان کا وعدہ‘‘ یعنی وہ اپنے خصوصی احوال میں غور کریں اس سے قبل کہ ان کا وقت آن پہنچے اور اچانک ان کی غفلت اور اعراض کی حالت میں موت کا پنجہ ان کو اپنی گرفت میں لے لے اور اس وقت وہ اپنی کوتاہی کا استدراک نہ کر سکیں ﴿ فَبِاَيِّ حَدِيۡثٍۭؔ بَعۡدَهٗ يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’تو اس کے بعد وہ اور کسی بات پر ایمان لائیں گے۔‘‘ یعنی اگر یہ اس جلیل القدر کتاب پر ایمان نہیں لائے تو پھر کون سی بات پر ایمان لائیں گے؟ کیا یہ جھوٹ اور گمراہی کی کتابوں پر ایمان لائیں گے؟ کیا وہ ہر بہتان طراز اور دجال کی بات پرایمان لائیں گے؟
[186] مگر گمراہ شخص کی ہدایت کی کوئی سبیل نہیں ، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ مَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِيَ لَهٗ١ؕ وَيَذَرُهُمۡ فِيۡ طُغۡيَانِهِمۡ يَعۡمَهُوۡنَ ﴾ ’’جس کو اللہ گمراہ کر دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں اور اللہ چھوڑے رکھتا ہے ان کو گمراہی میں سرگرداں ‘‘ یعنی وہ اپنی سرکشی میں حیران و سرگرداں پھرتے ہیں ، وہ اپنی سرکشی سے نکل کر حق کی طرف نہیں آتے۔