کس چیز کی بابت وہ باہم سوال کرتے ہیں؟(1) اس عظیم خبر کی بابت(2) کہ وہ اس میں اختلاف کرتے ہیں(3) ہرگز نہیں!عنقریب وہ جان لیں گے(4) پھر ہرگز نہیں! عنقریب وہ جان لیں گے(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والے کس چیز کے بارے میں پوچھ رہے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ نے اس چیز کے بارے میں بیان فرمایا جس کے بارے میں وہ پوچھ رہے ہیں، چنانچہ فرمایا:﴿عَنِ النَّبَاِ الۡعَظِيۡمِۙ۰۰ الَّذِيۡ هُمۡ فِيۡهِ مُخۡتَلِفُوۡنَؔ﴾ یعنی عظیم خبر کے بارے میں پوچھ رہے ہیں جس میں تکذیب اور مستبعد ہونے کی وجہ سے ان کا نزاع طول پکڑ گیا اوران کی مخالفت پھیل گئی حالانکہ وہ ایسی خبر ہے جو شک کو قبول کرتی ہے نہ اس میں کوئی شبہ داخل ہو سکتا ہے مگر مکذبین کا حال یہ ہے کہ اگر ان کے پاس تمام نشانیاں ہی کیوں نہ آ جائیں، یہ اپنے رب سے ملاقات پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ اس لیے فرمایا:﴿كَلَّا سَيَعۡلَمُوۡنَؔۙ۰۰ ثُمَّ كَلَّا سَيَعۡلَمُوۡنَؔ﴾ یعنی عنقریب جب عذاب نازل ہو گا جسے وہ جھٹلایا کرتے تھے تو انھیں معلوم ہو جائے گا، اس وقت انھیں جہنم کی آگ میں دھکے دے کر ڈالا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا:﴿هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ﴾(الطور:52؍14) ’’یہ وہ آگ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے نعمتوں اور ان دلائل کا ذکر کیا ہے جو اس چیز کی صداقت پر دلالت کرتے ہیں جسے رسول لے کر آئے ہیں۔ فرمایا: