اور وہ لوگ جنھوں نے بنائی ایک مسجد ضرر پہنچانے اور کفر پھیلانے اور تفرقہ ڈالنے کے لیے درمیان مومنوں کےاور انتظار کرنے کے لیے اس شخص کا جس نے لڑائی کی اللہ اور اس کے رسول سے، پہلے اس سےاور ضرور قسمیں کھائیں گے وہ کہ نہیں ارادہ کیا تھا ہم نے مگر اچھائی کااور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بلاشبہ وہ بالکل جھوٹے ہیں (107) نہ کھڑے ہوں آپ اس مسجد (ضرار) میں کبھی بھی، البتہ وہ مسجد کہ بنیاد رکھی گئی ہے (اس کی) تقویٰ پر پہلے ہی دن سے، زیادہ حق دار ہے اس کی کہ کھڑے ہوں آپ اس میں ، اس میں تو ایسے لوگ ہیں جو پسند کرتے ہیں اس بات کہ کہ پاک ہوں وہ اور اللہ پسند کرتا ہے پاک رہنے والوں کو(108) کیاپس وہ شخص جس نے بنیاد رکھی اپنی عمارت کی اللہ کے تقویٰ اور (اس کی) رضا مندی پر، (وہ) بہتر ہے یا وہ شخص کہ جس نے بنیاد رکھی اپنی عمارت کی اوپر کنارے کھوکھلے گرنے والے کے ، پس وہ (گڑھا) لے ہی گرا اس (شخص) کو آتش جہنم میں ؟ اور اللہ ہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو (109) ہمیشہ رہے گی عمارت ان کی، وہ جو انھوں نے بنائی تھی، شک ڈالنے والی ان کے دلوں میں مگر یہ کہ پاش پاش ہو جائیں دل ان کےاور اللہ خوب جاننے والا، خوب حکمت والا ہے (110)
[107] اہل قبا میں سے کچھ منافقین نے مسجد قبا کے پہلو میں ایک مسجد بنائی اس مسجد کی تعمیر سے ان کا مقصد مسلمانوں کو نقصان پہنچانا اور ان کے درمیان اختلاف اور افتراق پیدا کرنا تھا، نیز اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے خلاف تخریب کاری کرنے والوں کے لیے بوقت ضرورت محفوظ پناہ گاہ تیار کرنا تھا، اللہ تعالیٰ نے ان کی رسوائی کو بیان کرتے ہوئے ان کا بھید ظاہر کر دیا، چنانچہ فرمایا:﴿ وَالَّذِيۡنَ اتَّؔخَذُوۡا مَسۡجِدًا ضِرَارًا﴾ ’’اور وہ لوگ جنھوں نے ایک مسجد بنائی نقصان پہنچانے کے لیے‘‘ یعنی اہل ایمان اور ان کی اس مسجد کو نقصان پہنچانے کی خاطر جس میں اہل ایمان جمع ہو کر نماز پڑھتے تھے ﴿ وَّكُفۡرًا﴾ ’’اور کفر کے لیے‘‘ اس مسجد کی تعمیر میں ان کا مقصد کفر تھا جبکہ ان کے علاوہ دیگر لوگوں کا مقصد ایمان تھا۔ ﴿ وَّتَفۡرِيۡقًۢا بَيۡنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور مومنوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کے لیے‘‘ تاکہ اہل ایمان مختلف گروہوں میں تقسیم ہو کر افتراق کا شکار ہو جائیں اور آپس میں اختلاف کرنے لگیں ﴿ وَاِرۡصَادًا﴾ ’’اور گھات لگانے کے لیے‘‘ یعنی تیار کرنے کے لیے ﴿ لِّمَنۡ حَارَبَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ مِنۡ قَبۡلُ ﴾ ’’اس شخص کو جو لڑ رہا ہے اللہ اور اس کے رسول سے پہلے سے‘‘ یعنی اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کرنے والوں کی اعانت کے لیے، جن کی جنگ اور تخریب کاری پہلے ہی سے جاری اور جن کی عداوت بہت شدید تھی، مثلاً:ابوعامر راہب کی عداوت اور اس کی سازشیں ۔ ابوعامر اہل مدینہ میں سے تھا جب رسول اللہﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو اس نے آپ کا انکار کر دیا حالانکہ وہ زمانہ جاہلیت میں ایک عبادت گزار شخص تھا۔ وہ مشرکین کے پاس چلا گیا تاکہ رسول اللہﷺ کے خلاف جنگ میں مشرکین سے مدد حاصل کرے مگر اسے اپنا مقصد حاصل نہ ہوا، چنانچہ وہ اس خیال سے قیصر روم کے پاس چلا گیا کہ وہ اس کی مدد کرے گا... مگر وہ لعین راستے ہی میں مر گیا۔ اس نے اور منافقین نے ایک دوسرے کی مدد کا وعدہ کر رکھا تھا، منافقین نے اس کی سازشوں کے لیے پناہ گاہ کے طور پر مسجد ضرار تعمیر کروائی تھی، چنانچہ اس بارے میں وحی نازل ہوئی۔ رسول اللہﷺ نے اس مسجد کو منہدم کرنے اور اس کو جلانے کے لیے کسی کو بھیجا، چنانچہ اس مسجد کو منہدم کر کے جلا دیا گیا اور اس کے بعد مسجد ضرار کی جگہ کوڑا ڈالنے کی جگہ بن گئی۔اس مسجد کی تعمیر میں پنہاں ان کے برے مقاصد کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:﴿ وَلَيَحۡلِفُنَّ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ ﴾ ’’اور وہ قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے نہیں ارادہ کیا‘‘ یعنی اس مسجد کی تعمیر سے ﴿ اِلَّا الۡحُسۡنٰى ﴾ ’’مگر بھلائی ہی کا‘‘ یعنی کمزور، معذور اور نابینا اہل ایمان کے ساتھ بھلائی کرنا مقصود ہے۔ ﴿ وَاللّٰهُ يَشۡهَدُ اِنَّهُمۡ لَؔكٰذِبُوۡنَؔ ﴾ ’’اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں ۔‘‘ پس ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی گواہی ان کے حلف سے زیادہ معتبر ہے۔
[108]﴿ لَا تَقُمۡ فِيۡهِ اَبَدًا﴾ ’’آپ اس میں کبھی کھڑے بھی نہ ہونا۔‘‘ یعنی اس مسجد میں ، جو مسلمانوں کو ضرر پہنچانے کے لیے تعمیر کی گئی ہے، کبھی نماز نہ پڑھیے۔ اللہ آپ کو اس سے بے نیاز کرتا ہے اور آپ اس مسجد کے ضرورت مند بھی نہیں ۔ ﴿ لَمَسۡجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقۡوٰى مِنۡ اَوَّلِ يَوۡمٍ ﴾ ’’البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے ہی تقویٰ پر رکھی گئی‘‘ قبا میں اسی مسجد سے اسلام ظاہر ہوا... اس سے مراد مسجد قبا ہے۔ جس کی اساس دین میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص، اس کے ذکر کی اقامت اور اس کے شعائر پر رکھی گئی ہے۔ یہ قدیم اور معروف مسجد تھی۔یہ فضیلت والی مسجد ﴿ اَحَقُّ اَنۡ تَقُوۡمَ فِيۡهِ﴾ ’’زیادہ قابل ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوا کریں ۔‘‘ یعنی اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ آپ اس میں عبادت اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں کیونکہ یہ فضیلت والی مسجد ہے، اس میں نماز پڑھنے والے فضیلت کے مالک ہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی مدح کرتے ہوئے فرمایا:﴿ فِيۡهِ رِجَالٌ يُّحِبُّوۡنَؔ اَنۡ يَّتَطَهَّرُوۡا﴾ ’’اس میں ایسے لوگ ہیں جو اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ پاک رہیں ‘‘ یعنی گناہوں ، میل کچیل، نجاستوں اور ناپاکی سے پاک صاف رہنا پسند کرتے ہیں اور یہ بات معلوم ہے کہ جو کوئی کسی چیز کو پسند کرتا ہے وہ اس کے حصول کی سعی اور جدوجہد کرتا ہے اس لیے یہ لابدی ہے کہ اہل قبا گناہوں ، میل کچیل اور حدث سے پاک رہنے کے بہت حریص تھے۔ اس لیے وہ ان لوگوں میں سے تھے جنھوں نے اسلام قبول کرنے میں سبقت کی، جو نماز قائم کرنے والے، رسول اللہﷺ کی معیت میں جہاد کی حفاظت کرنے والے، اقامت دین کی کوشش کرنے والے اور اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت سے بچنے والے تھے۔ جب اہل قبا کی مدح میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو رسول اللہﷺ نے ان کی طہارت کے بارے میں ان سے پوچھا تو انھوں نے عرض کی کہ وہ استنجا کرتے وقت پتھر کے بعد پانی استعمال کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اس فعل پر ان کی تعریف فرمائی۔ ﴿ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُطَّهِّرِيۡنَ ﴾ ’’اللہ پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ معنوی طہارت یعنی شرک اور اخلاق رذیلہ سے تنزہ اور حسی طہارت یعنی نجاستوں اور حدث سے پاکیزگی کو پسند کرتا ہے۔
[109] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس مسجد میں نماز پڑھنے والوں کے مقاصد اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے ساتھ ان کی موافقت کے مطابق اس مسجد کو دیگر مساجد پر فضیلت بخشی، چنانچہ فرمایا:﴿ اَفَمَنۡ اَسَّسَ بُنۡيَانَهٗ عَلٰى تَقۡوٰى مِنَ اللّٰهِ ﴾ ’’بھلا جس شخص نے بنیاد رکھی اللہ کے تقویٰ پر‘‘ یعنی جو صالح نیت اور اخلاص پر بنیاد رکھتا ہے ﴿ وَرِضۡوَانٍ ﴾ ’’اور اس کی رضامندی پر‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی موافقت کرتے ہوئے اپنے عمل میں اخلاص اور اتباع کو جمع کرتا ہے ﴿ خَيۡرٌ اَمۡ مَّنۡ اَسَّسَ بُنۡيَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ ﴾ ’’زیادہ بہتر ہے یا وہ شخص جس نے اپنی عمارت کی بنیاد رکھی ایک کھائی کے کنارے پر جو گرنے کو ہے‘‘ یعنی کھوکھلے اور بوسیدہ کنارے پر، جو منہدم ہونے کے قریب ہو۔ ﴿ فَانۡهَارَ بِهٖ فِيۡ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِي الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’پھر وہ اس کو لے کر گر پڑا جہنم کی آگ میں اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘ کیونکہ اس کے اندر ان کے دین اور دنیا کے مصالح ہیں ۔
[110]﴿ لَا يَزَالُ بُنۡيَانُهُمُ الَّذِيۡ بَنَوۡا رِيۡبَةً فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ ﴾ ’’ہمیشہ رہے گا اس عمارت سے جو انھوں نے بنائی، ان کے دلوں میں شبہ‘‘ یعنی شک اور ریب، جو ان کے دل میں جڑ پکڑ گیا ﴿ اِلَّاۤ اَنۡ تَقَطَّعَ قُلُوۡبُهُمۡ﴾ ’’مگر یہ کہ ٹکڑے ہو جائیں ان کے دل کے‘‘ سوائے اس کے کہ انتہائی ندامت کی بنا پر ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں ، وہ اپنے رب کی طرف توبہ کے ساتھ رجوع کریں اور اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ ڈریں ، تب اس بنا پر اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دے گا۔ ورنہ یہ مسجد جو انھوں نے بنائی ہے ان کے شک و ریب اور نفاق میں اضافہ کرتی چلی جائے گی۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ ﴾ اور اللہ تعالیٰ تمام اشیاء کے ظاہر و باطن اور ان کے خفی اور جلی تمام پہلوؤں کو جانتا ہے، نیز وہ ان باتوں کو بھی خوب جانتا ہے جو بندے چھپاتے ہیں یا ظاہر کرتے ہیں ۔ ﴿ حَكِيۡمٌ ﴾ وہ صرف وہی کام کرتا ہے یا تخلیق کرتا ہے یا وہ حکم دیتا ہے یا منع کرتا ہے، جس کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے۔ فللہ الحمد۔ ان آیات کریمہ سے متعدد فوائد مستفاد ہوتے ہیں :(۱)کوئی ایسی مسجد تعمیر کرنا جس سے کسی دوسری مسجد کو نقصان پہنچانا مقصود ہو جو اس کے قریب موجود ہو، حرام ہے، نیز یہ کہ مسجد ضرار کو، جس کو تعمیر کرنے والوں کا مقصد ظاہر ہو... منہدم کرنا واجب ہے۔(۲)کام خواہ کتنا ہی فضیلت والا کیوں نہ ہو، فاسد نیت اس کی نوعیت کو بدل ڈالتی ہے تب وہی کام ممنوع ہو جاتا ہے، جیسے مسجد ضرار کی تعمیر کرنے والوں کی بری نیت نے ان کے اس نیک کام کو برائی میں بدل ڈالا۔(۳)ہر وہ حالت جس کے ذریعے سے اہل ایمان میں تفرقہ پیدا کیا جائے، گناہ شمار ہوتی ہے اس کو ترک کرنا اور اس کا ازالہ ضروری ہے۔ اسی طرح ہر وہ حالت جس سے اہل ایمان میں اتفاق اور الفت پیدا ہوتی ہے، اس کی پیروی کرنا، اس کا حکم اور اس کی ترغیب دینا ضروری ہے کیونکہ ان کے مسجد ضرار تعمیر کرنے کی یہ علت بیان کی ہے کہ یہ ان کا فاسد مقصد تھا جو اس مسجد کے ممنوع ہونے کا موجب بنا، جیسے یہ مسجد کفر اور اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کی موجب ہے۔(۴)اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے معصیت کے مقامات میں نماز پڑھنے اور ان کے قریب جانے سے روکا ہے۔(۵) گناہ زمین کے ٹکڑوں کو متاثر کرتے ہیں جیسے ان منافقین کے گناہ مسجد ضرار پر اثر انداز ہوئے اور اس مسجد میں نماز پڑھنے سے روک دیا گیا۔ اسی طرح نیکی زمین کے ٹکڑوں پر اثر انداز ہوتی ہے جیسے مسجد قبا پر اثر انداز ہوئی۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کے بارے میں فرمایا: ﴿ لَمَسۡجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقۡوٰى مِنۡ اَوَّلِ يَوۡمٍ اَحَقُّ اَنۡ تَقُوۡمَ فِيۡهِ ﴾بنا بریں مسجد قبا کو وہ فضیلت حاصل ہے جو کسی دوسری مسجد کو حاصل نہیں ہے۔ حتیٰ کہ رسول اللہﷺ ہر ہفتے مسجد قبا کی زیارت کے لیے جایا کرتے تھے اور اس میں نماز پڑھنے کی ترغیب دیا کرتے تھے۔(۶)آیات کریمہ میں مندرجہ بالا تعلیل سے چار اہم شرعی قاعدے بھی مستفاد ہوتے ہیں ۔(الف)ہر وہ کام جس سے کسی مسلمان کو نقصان پہنچتا ہو یا جس میں اللہ کی نافرمانی ہو... اور نافرمانی کفر کی ایک شاخ ہے... یا جس سے اہل ایمان میں تفرقہ پیدا ہوتا ہو یا اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے عداوت رکھنے والے کی اعانت ہوتی ہو تو یہ کام ممنوع اور حرام ہے۔ اس کے برعکس اور متضاد تمام کام مستحب ہیں ۔(ب)چونکہ مسجد قبا وہ مسجد ہے جس کی اساس تقویٰ پر رکھی گئی ہے (اس کی یہ فضیلت ہے)اس لیے مسجد نبوی جس کی بنیاد خود رسول اللہ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے رکھی، آپ نے اس میں کام بھی کیا، اللہ تعالیٰ نے بھی اس مسجد کو آپ کے لیے چن لیا... وہ فضیلت میں زیادہ اولیٰ ہے۔(ج)وہ عمل جو اخلاص اور اتباع رسولﷺ پر مبنی ہے۔ یہی وہ عمل ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے جو اپنے عامل کو نعمتوں بھری جنت میں پہنچائے گا۔(د) وہ عمل جو برے مقصد اور بدعت و ضلالت پر مبنی ہے یہی وہ عمل ہے جس کی بنیاد کھوکھلے اور بوسیدہ کنارے پر رکھی گئی ہے جو اپنے عامل کو جہنم میں لے گرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ظالموں کی راہ نمائی نہیں کرتا۔