Tafsir As-Saadi
10:5 - 10:6

وہی ہے (اللہ) جس نے بنایا سورج کو چمک (والا) اور چاند کو نور (والا)اور اس نے مقرر کیں اس کی منزلیں تاکہ معلوم کر لو تم گنتی سالوں کی اور حساب (بھی)، نہیں پیدا کیا اللہ نے یہ (سب کچھ) مگر ساتھ حق کے، وہ تفصیل سے بیان کرتا ہے اپنی آیتیں واسطے ان لوگوں کے جو جانتے ہیں (5) بلاشبہ (بدل بدل کر) آنے جانے میں رات اوردن کے اور (اس میں بھی) جو کچھ پیداکیا اللہ نے آسمانوں اور زمین میں ، یقینا بڑی نشانیاں ہیں واسطے ان لوگوں کے جو ڈرتے ہیں (6)

[6,5] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی ربوبیت اور الوہیت کو متحقق کرنے کے بعد اپنے اسماء و صفات کے کمال پر عقلی اور آفاقی دلائل بیان کرتا ہے جو تمام آفاق، یعنی سورج، چاند، زمین و آسمان اور کائنات میں پھیلی ہوئی تمام مخلوقات پر محیط ہیں اور آگاہ فرماتا ہے کہ یہ نشانیاں ان لوگوں کے لیے ہیں ﴿ لِقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’جو علم رکھتے ہیں ‘‘ اور ان کے لیے ہیں جو تقویٰ کا التزام کرتے ہیں کیونکہ علم دلالت کی معرفت اور انتہائی مناسب طریقے سے دلائل کے استنباط کی کیفیت کی طرف راہ نمائی کرتا ہے۔ تقویٰ قلب میں بھلائی کی طرف رغبت اور برائی سے خوف کو جنم دیتا ہے۔ یہ دونوں دلائل و براہین اور علم و یقین سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس تمام بحث کا حاصل یہ ہے کہ ان مخلوقات کی، اس وصف کے ساتھ مجرد تخلیق اس کی کامل قدرت، اس کے علم، اس کی حیات اور اس کی قیومیت پر دلالت کرتی ہے۔ اس کائنات میں جاری احکام، اس کا اتقان اور اس کا حسن و ابداع اللہ تعالیٰ کی حکمت، اس کے حسن تخلیق اور وسعت علم پر دلالت کرتے ہیں ۔ اس کائنات میں پھیلے ہوئے منافع و مصالح... مثلاً: سورج کی روشنی اور چاند کے نور سے جو ضروری فوائد حاصل ہوتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت، اپنے بندوں پر اس کی عنایت، اس کی لامحدود نوازش اور اس کے احسان پر دلالت کرتے ہیں ۔اس کائنات کی خصوصیات اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کے ارادۂ نافذہ پر دلالت کرتی ہیں ۔ یہ سب کچھ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اکیلا معبود، محبوب محمود، جلال و اکرام اور عظیم اوصاف کا مالک ہے، رغبت و رہبت کے ساتھ اسی کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ تمام امور میں مخلوقات و مربوبات، جو بذات خود اللہ کی محتاج ہیں ، کی بجائے اپنی دعا میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارا جائے۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور و فکر کرنے اور ان کو عبرت کی نگاہ سے دیکھنے کی ترغیب ہے۔ اس لیے کہ اس سے بصیرت بڑھتی ہے، ایمان و عقل میں اضافہ ہوتا ہے اور ملکہ راسخ ہوتا ہے اور ان میں غوروفکر نہ کرنے سے اللہ کے احکام سے بے پروائی، ایمان میں زیادتی کا راستہ بند ہوتا اور قلب و ذہن میں جمود طاری ہوتا ہے۔