Tafsir As-Saadi
10:98 - 10:98

پس کیوں نہ ہوئی کوئی بستی ایسی کہ ایمان لائی ہو وہ (عذاب سے پہلے)، پھر نفع دیا ہوا اس کو اس کے ایمان (لانے) نے، سوائے (لوگ) قوم یونس کے، جب ایمان لائے وہ تو دور کر دیا ہم نے ان سے عذاب رسوائی کا دنیا کی زندگی میں اور ہم نے فائدہ دیا انھیں ایک وقت (مقرر) تک (98)

[98]﴿ فَلَوۡلَا كَانَتۡ قَرۡيَةٌ﴾ ’’پس کیوں نہ ہوئی کوئی بستی‘‘ یعنی جھٹلانے والی بستیوں میں سے، ﴿ اٰمَنَتۡ ﴾ ’’کہ وہ ایمان لائی‘‘ جب انھوں نے عذاب دیکھا ﴿فَنَفَعَهَاۤ اِيۡمَانُهَاۤ ﴾ ’’پھر کام آیا ہو ان کو ان کا ایمان لانا‘‘ یعنی ان تمام بستیوں میں سے کسی بستی کو عذاب دیکھ کر ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہ ہوا جیسا کہ فرعون کے ایمان لانے کے بارے میں گزشتہ صفحات میں قریب ہی اللہ تعالیٰ کا ارشاد گزر چکا ہے اور جیسے فرمایا: ﴿ فَلَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحۡدَهٗ وَؔكَفَرۡنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشۡرِكِيۡنَ۰۰فَلَمۡ يَكُ يَنۡفَعُهُمۡ اِيۡمَانُهُمۡ لَمَّا رَاَوۡا بَاۡسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِيۡ قَدۡ خَلَتۡ فِيۡ عِبَادِهٖ﴾(غافر: 40؍84-85) ’’پس جب انھوں نے ہمارا عذاب دیکھا تو کہا ہم ایک اللہ پر ایمان لائے اور ان کا ہم نے انکار کیا جن کو ہم اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے لیکن ہمارا عذاب دیکھ لینے کے بعد ان کو ان کے ایمان لانے نے کوئی فائدہ نہیں دیا۔‘‘ یہ سنت الٰہی ہے جو اس کے بندوں کے بارے میں چلی آرہی ہے۔‘‘ اور ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ﴿ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الۡمَوۡتُ قَالَ رَبِّ ارۡجِعُوۡنِۙ۰۰ لَعَلِّيۡۤ اَعۡمَلُ صَالِحًا فِيۡمَا تَرَؔكۡتُ كَلَّا ﴾(المومنون: 23؍99-100) ’’حتیٰ کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے گی تو وہ کہے گا اے میرے پروردگار! مجھے دنیا میں پھر واپس بھیج دے شاید کہ میں جسے پیچھے چھوڑ آیا ہوں نیک کام کروں ، ہرگز نہیں !‘‘اور اس میں حکمت ظاہر ہے کہ ایمان اضطراری حقیقی ایمان نہیں ہے اگر اللہ تعالیٰ ان سے عذاب کو دور ہٹا لے جس سے مجبور ہو کر انھوں نے ایمان لانے کا اقرار کیا تھا تو وہ پھر کفر کی طرف لوٹ جائیں گے۔ فرمایا ﴿ اِلَّا قَوۡمَ يُوۡنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوۡا كَشَفۡنَا عَنۡهُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡيِ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ ﴾ ’’سوائے یونس کی قوم کے، جب وہ ایمان لائی، (عذاب دیکھ لینے کے بعد) تو ہم نے ان پر سے ذلت کا عذاب اٹھا لیا دنیا کی زندگی میں اور ایک وقت تک ہم نے ان کو فائدہ پہنچایا‘‘ پس حضرت یونسu کی قوم گزشتہ عموم سے مستثنیٰ ہے اس میں ضرور اللہ تعالیٰ عالم الغیب والشہادۃ کی حکمت پوشیدہ ہے۔ جہاں تک پہنچنے اور اس کے ادراک سے ہمارا فہم قاصر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَاِنَّ يُوۡنُسَ لَمِنَ الۡمُرۡسَلِيۡنَؕ۰۰.....وَاَرۡسَلۡنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلۡفٍ اَوۡ يَزِيۡدُوۡنَۚ۰۰فَاٰمَنُوۡا فَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ ﴾(الصافات: 37؍139-148) ’’اور یونس اللہ کے رسولوں میں سے تھا جب وہ (گھر سے) بھاگ کر بھری ہوئی کشتی میں سوار ہوا، اس وقت قرعہ ڈالا گیا تو اس نے زک اٹھائی پس اس کو مچھلی نے نگل لیا اور وہ قابل ملامت کام کرنے والوں میں سے تھا۔ پس اگر وہ اللہ کی تسبیح بیان نہ کرتا تو قیامت کے روز تک مچھلی کے پیٹ میں رہتا، پھر ہم نے اس کو (مچھلی کے پیٹ سے نکال کر) اس حالت میں کھلے میدان میں ڈال دیا کہ وہ بیمار تھا اور اس پر کدو کی بیل اگا دی اور اس کو ایک لاکھ یا کچھ اوپر لوگوں کی طرف مبعوث کیا۔ پس وہ ایمان لے آئے اور ہم نے ان کو ایک وقت مقررہ تک فائدہ اٹھانے دیا۔‘‘شاید اس میں حکمت یہ ہے کہ اگر حضرت یونسu کی قوم کے علاوہ کوئی اور قوم ہوتی اور ان پر سے عذاب کو ہٹا لیا جاتا تو وہ پھر اسی کام کا اعادہ کرتے جس سے ان کو منع کیا گیا تھا اور رہا یونسu کی قوم کا معاملہ تو اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں زیادہ جانتا تھا کہ وہ اپنے ایمان پر قائم رہیں گے بلکہ وہ قائم رہے۔ واللہ اعلم