Tafsir As-Saadi
16:95 - 16:97

اور نہ خریدو تم بدلے میں اللہ کے عہد کے قیمت تھوڑی (دنیوی فائدہ) یقینا جو (اجر) اللہ کے ہاں ہے وہ بہت ہی بہتر ہے واسطے تمھارے، اگر ہو تم جانتے (95) جو کچھ تمھارے پاس ہے وہ فنا ہو جائے گا اور جو (ثواب) اللہ کے پاس ہے وہ (ہمیشہ) باقی رہنے والا ہےاور البتہ ضرور ہم بدلہ (میں ) دیں گے ان لوگوں کو جنھوں نے صبر کیا، اجروثواب ان کا زیادہ اچھا اس سے جو تھے وہ عمل کرتے (96) جس نے عمل کیا نیک، مرد ہو یا عورت، جبکہ وہ مومن ہو تو زندگی بخشیں گے ہم اس کو (دنیا میں ) زندگی پاکیزہ اور البتہ ضرور بدلہ (میں ) دیں گے ان کو اجروثواب ان کا، زیادہ اچھا اس سے جو تھے وہ عمل کرتے (97)

[95] اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو متاع دنیا اور اس کے چند ٹکڑوں کی خاطر عہد اور قسم کو توڑتے ہیں ۔ فرمایا: ﴿ وَلَا تَشۡتَرُوۡا بِعَهۡدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيۡلًا﴾ ’’اور نہ لو تم اللہ کے عہد پر تھوڑا سا مول‘‘ یعنی وہ متاع دنیا جو تم بدعہدی کے ذریعے سے حاصل کرتے ہو۔ ﴿ اِنَّمَا عِنۡدَ اللّٰهِ﴾ ’’بے شک جو اللہ کے ہاں ہے‘‘ دنیوی اور اخروی ثواب، اس شخص کے لیے جو اللہ کی رضا کو ترجیح دیتا اور اس عہد کو پورا کرتا ہے جو اللہ نے اس سے لیا۔ ﴿ هُوَ خَيۡرٌ لَّكُمۡ﴾ ’’وہ تمھارے لیے بہتر ہے‘‘ اور وہ زائل ہو جانے والی دنیا کی متاع سے کہیں بہتر ہے۔
[96] پس انھوں نے باقی رہنے والی چیز کو ختم ہو جانے والی چیز پر ترجیح دی ہے۔ ﴿مَا عِنۡدَكُمۡ﴾ ’’جو کچھ تمھارے پاس ہے‘‘ خواہ وہ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو ﴿يَنۡفَدُ﴾ ’’وہ ختم (ہو کر فنا) ہو جائے گا‘‘ ﴿ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ بَاقٍ﴾ ’’اور جو اللہ کے پاس ہے، وہ باقی رہے گا‘‘ کیونکہ وہ خود باقی رہنے والا ہے، اسے فنا اور زوال نہیں ۔ پس وہ شخص عقل مند نہیں جو فانی اور خسیس چیز کو ہمیشہ رہنے والی نفیس چیز پر ترجیح دیتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ ﴿ بَلۡ تُؤۡثِرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَاٞۖ۰۰وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ وَّاَبۡقٰى﴾(الاعلیٰ : 87؍ 16۔ 17) ’’مگر تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو حالانکہ آخرت بہتر اور ہمیشہ رہنے والی چیز ہے۔‘‘ ﴿وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ خَيۡرٌ لِّلۡاَبۡرَارِ﴾(آل عمران : 3؍ 198) ’’اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لیے بہتر ہے۔‘‘اس آیت کریمہ میں زہد اور دنیا سے بے رغبتی کی ترغیب دی گئی ہے، خاص طور پر زہد متعین اور اس سے مراد ان چیزوں میں بے رغبتی اور ان سے پہلو بچانا ہے جو بندے کے لیے ضرر رساں ہیں اور اس بات کی موجب ہیں کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی واجب کی ہوئی چیزوں کو چھوڑ کر ان دنیاوی چیزوں میں مشغول ہو جائے اور حقوق اللہ پر ان دنیاوی چیزوں کو ترجیح دینے لگے، اس لیے کہ یہ زہد فرض ہے۔ زہد کے اسباب میں سے ایک داعیہ (سبب) یہ ہے کہ بندہ دنیا کی ناپائیدار لذات و شہوات کا آخرت کی بھلائیوں کے ساتھ تقابل کرے۔ وہ ان کے درمیان بہت بڑا فرق اور تفاوت پائے گا اور یہ تفاوت اسے بلند تر چیز کو ترجیح دینے پر آمادہ کرے گا۔اور عبادات ، مثلاً:نماز، روزے اور ذکر اذکار وغیرہ پر توجہ مرکوز کر کے دنیا سے منقطع ہوجانا، زہد ممدوح نہیں ہے بلکہ صحیح معنوں میں زاہد بننا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ بندہ مقدور بھر شریعت کے ظاہری اور باطنی احکام کی تعمیل نہ کرے اور قول و فعل کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف دعوت نہ دے۔ پس حقیقی زہد یہ ہے کہ بندہ ہر اس چیز سے منہ موڑ لے جس کا دین و دنیا میں کوئی فائدہ نہیں اور ہر اس چیز کے حصول کے لیے رغبت کے ساتھ کوشش کرے جو دین و دنیا میں فائدہ مند ہے۔﴿ وَلَنَجۡزِيَنَّ الَّذِيۡنَ صَبَرُوۡۤا﴾ ’’اور ہم بدلے میں دیں گے صبر کرنے والوں کو‘‘ یعنی جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر کے اور اس نافرمانی سے باز رہ کر صبر کرتے ہیں اور دنیاوی شہوات سے منہ موڑ لیتے ہیں جو ان کے دین کے لیے مضر ہیں ۔ ﴿ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان کے اعمال کا نہایت اچھا بدلہ۔‘‘ یعنی نیکی کا اجر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ہے بلکہ اس سے بھی کئی گنا زیادہ تک۔ کیونکہ جو کوئی نیک کام کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔
[97] بنا بریں اللہ تعالیٰ نے عمل کرنے والوں کے لیے دنیاوی اور اخروی ثواب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى وَهُوَ مُؤۡمِنٌ﴾ ’’جس نے نیک کام کیا مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو‘‘ اس لیے کہ ایمان، اعمال صالحہ کی صحت اور ان کی قبولیت کے لیے شرط ہے بلکہ اعمال صالحہ کو ایمان کے بغیر اعمال صالحہ کہا ہی نہیں جاسکتا۔ ایمان، اعمال صالحہ کا تقاضا کرتا ہے کیونکہ ایمان تصدیق جازم کا نام ہے۔ واجبات و مستحبات پر مشتمل اعمال جوارح ایمان کا ثمرہ ہیں ۔پس جو کوئی ایمان اور عمل صالح کو جمع کر لیتا ہے ﴿ فَلَنُحۡيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً﴾ ’’تو ہم اس کو زندگی دیں گے اچھی زندگی‘‘ یہ زندگی اطمینان قلب، سکون نفس اور ان امور کی طرف عدم التفات پر مشمل ہے جو قلب کو تشویش میں مبتلا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کو اس طرح رزق حلال سے نوازتا ہے کہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔ ﴿ وَلَنَجۡزِيَنَّهُمۡ﴾ ’’اور ہم بدلے میں دیں گے ان کو‘‘ یعنی آخرت میں ﴿ اَجۡرَهُمۡ بِاَحۡسَنِ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’ان کے اعمال کا نہایت اچھا صلہ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ انھیں مختلف قسم کی لذات سے نوازے گا جن کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں کبھی ان کا خیال گزرا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ انھیں دنیا میں بھی بھلائی سے نوازے گا اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کرے گا۔