بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے عمل کیے نیک اور عاجزی کی انھوں نے اپنے رب کی طرف، یہی لوگ اہل جنت ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (23) مثال دونوں فریقوں کی مانند (مثال) اندھے اور بہرے، دیکھنے والے اور سننے والے کی ہے، کیا دونوں برابر ہو سکتے ہیں مثال میں ؟ کیا پس نہیں نصیحت حاصل کرتے تم؟ (24)
[23] اللہ تبارک و تعالیٰ نے (بدبختوں کا حال اور اللہ کے ہاں ان کا اجروثواب بیان کرنے کے بعد خوش بخت لوگوں کا حال بیان کرتے ہوئے) فرمایا: ﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’جولوگ ایمان لائے۔‘‘ یعنی جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اصول دین اور اس کے قواعد پر ایمان لانے کا حکم دیا تو انھوں نے ان امور کا اعتراف کیا اور ان کی تصدیق کی۔ ﴿ وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’اور عمل نیک کیے۔‘‘ جو اعمال قلوب، اعمال جوارح اور اقوال لسان پر مشتمل ہیں ۔ ﴿ وَاَخۡبَتُوۡۤا اِلٰى رَبِّهِمۡ﴾ ’’اور عاجزی کی انھوں نے اپنے رب کے سامنے‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے سامنے سرافگندہ ہوگئے، اس کی قوت و اقتدار کے سامنے تذلل اور انکساری اختیار کی، اپنے دل میں اس کی محبت، اس کا خوف اور اس پر امیدیں رکھتے ہوئے اس کی طرف لوٹے اور اس کے حضور اپنی عاجزی اور بے مائیگی کا اظہار کیا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾ ’’یہی‘‘یعنی وہ لوگ جن میں یہ تمام صفات جمع ہیں ﴿ اَصۡحٰؔبُ الۡجَنَّةِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ ﴾ ’’جنتی ہیں ، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے‘‘ کیونکہ بھلائی کا کوئی ایسا مقصد نہیں جو انھوں نے حاصل نہ کیا اور کوئی ایسی منزل نہیں جس کی طرف انھوں نے سبقت نہ کی ہو۔
[24]﴿ مَثَلُ الۡفَرِيۡقَيۡنِ ﴾ ’’مثال دو گروہوں کی‘‘ یعنی بدبختوں کا گروہ اور نیک بختوں کا گروہ ﴿ كَالۡاَعۡمٰى وَالۡاَصَمِّ ﴾ ’’اندھے اور بہرے کی مانند ہیں ‘‘ یعنی ان بدبختوں کا گروہ ﴿ وَالۡبَصِيۡرِ وَالسَّمِيۡعِ﴾ ’’اور دیکھنے، سننے والے کی مانند ہیں ‘‘ یعنی سعادت مند لوگوں کی مثل۔ ﴿ هَلۡ يَسۡتَوِيٰنِ مَثَلًا﴾ ’’کیا یہ دونوں مثال میں برابر ہو سکتے ہیں ؟‘‘ یعنی مثال میں دونوں مساوی نہیں ہیں بلکہ دونوں کے درمیان فرق ہے جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ ﴿ اَفَلَا تَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’پس تم کیوں دھیان نہیں دیتے‘‘ ان اعمال کی طرف جو تمھیں فائدہ دیں اور تم انھیں بجا لاؤ اور ان اعمال کی طرف، جو تمھارے لیے نقصان دہ ہیں ، پس تم ان کو چھوڑ دو۔