یہ کچھ خبریں ہیں غیب کی، ہم وحی کرتے ہیں یہ آپ کی طرف اور نہیں تھے آپ پاس ان (برادران یوسف) کے جب اتفاق کیا تھا انھوں نے اپنے معاملے پراور وہ مکرو فریب کرتے تھے (102)
[102] اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول مصطفیﷺ پر یہ قصہ بیان کرنے کے بعد فرمایا: ﴿ ذٰلِكَ ﴾ یعنی یہ خبر جس سے ہم نے آپ کو آگاہ کیا ہے۔ ﴿ مِنۡ اَنۢۡبـَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهِ اِلَيۡكَ ﴾ ’’غیب کی خبریں ہیں ، جو ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں ‘‘ اور اگر ہم آپ کی طرف وحی نہ کرتے تو اس جلیل القدر واقعہ کی خبر آپ تک نہ پہنچ سکتی۔ ﴿ وَمَا كُنۡتَ لَدَيۡهِمۡ ﴾ ’’اور آپ ان کے پاس موجود نہ تھے۔‘‘ ﴿ اِذۡ اَجۡمَعُوۡۤا اَمۡرَهُمۡ ﴾ ’’جب وہ اتفاق کر رہے تھے اپنے کام پر‘‘ یعنی یوسف کے بھائی فریب پر اتفاق کر رہے تھے۔ ﴿ وَهُمۡ يَمۡؔكُرُوۡنَ ﴾ ’’اور وہ چال چل رہے تھے۔‘‘ جبکہ ان کے اور ان کے باپ کے درمیان جدائی ڈالنے کے لیے اس طرح سازش کر رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اطلاع نہ تھی اور نہ کسی کے لیے یہ ممکن ہی تھا کہ اصل واقعہ معلوم کر سکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ اصل واقعہ سے آگاہ نہ کرے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے جب موسیٰu کا قصہ بیان کرنے کے بعد وہ حالات بیان فرمائے جن کا علم، اللہ کی وحی کے بغیر مخلوق کو حاصل نہیں ہو سکتا تو وہاں فرمایا:﴿ وَمَا كُنۡتَ بِجَانِبِ الۡغَرۡبِيِّ اِذۡ قَضَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسَى الۡاَمۡرَ وَمَا كُنۡتَ مِنَ الشّٰهِدِيۡنَ…﴾(القصص: 28؍44) ’’اور جب ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی تو آپ طور کے غربی جانب نہ تھے اور نہ آپ اس واقعہ کا مشاہدہ کرنے والے تھے۔‘‘ اور یہ اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ حق ہے۔