Tafsir As-Saadi
12:10 - 12:10

کہا ایک کہنے والے نے ان میں سے، نہ قتل کرو تم یوسف کو اور ڈال دو تم اسے تہ میں کنویں کی، کہ اٹھالے جائے اسے کوئی مسافر، اگر ہو تم کرنے والے ہی (10)

[10]﴿ قَالَ قَآىِٕلٌ مِّؔنۡهُمۡ﴾’’ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا۔‘‘ یعنی یوسفu کے بھائیوں میں سے کسی نے کہا جنھوں نے یوسفu کو قتل کرنے یا جلا وطن کرنے کا ارادہ کیا ﴿ لَا تَقۡتُلُوۡا يُوۡسُفَ﴾ ’’یوسف کو قتل نہ کرو‘‘ کیونکہ اس کو قتل کرنا بہت بڑی برائی اور بہت بڑا گناہ ہے اور یہ مقصد کہ یوسفu کو اس کے باپ سے دور کردیا جائے، یوسف کو قتل کیے بغیر حاصل ہوجائے گا، اس لیے تم یہ کرو کہ باپ سے دور کرنے کے لیے اسے اندھے کنویں میں ڈال دو اور یوسف کو دھمکی دو کہ وہ بھائیوں کی اس کارستانی کے بارے میں کسی کو آگاہ نہ کرے اور اپنے بارے میں یہی بتائے کہ وہ بھاگا ہوا ایک غلام ہے۔ اس وجہ سے کہ ﴿ يَلۡتَقِطۡهُ بَعۡضُ السَّيَّارَةِ ﴾ ’’کوئی قافلے والا نکال کر اسے لے جائے گا۔‘‘ جو کہیں دور جا رہے ہوں گے اور وہ یوسفu کو ساتھ لے جائیں گے اور اس کی حفاظت کریں گے۔ اس قول کا قائل جناب یوسفu کے بارے میں سب سے اچھی رائے رکھنے والا اور اس پورے قضیے میں سب سے زیادہ نیک اور تقویٰ پر مبنی رویے کا حامل تھا کیونکہ کچھ برائیاں دوسری برائیوں سے کم تر ہوتی ہیں اور کم تر نقصان کے ذریعے سے بڑے نقصان کو دور کرلیا جاسکتا ہے۔ پس جب وہ اس رائے پر متفق ہوگئے۔