البتہ تحقیق تھیں یوسف اور اس کے بھائیوں (کے واقعے) میں نشانیاں سوال کرنے والوں کے لیے (7) جب کہا انھوں نے (آپس میں ) ، البتہ یوسف اور اس کا بھائی (بنیامین) زیادہ پیارے ہیں طرف ہمارے باپ کی ہم سے حالانکہ ہم ایک (طاقتور) جماعت ہیں ، بے شک ہمارا باپ غلطی میں ہے جو کہ واضح ہے (8) تم قتل کر دو یوسف کو یا پھینک دو اسے کسی زمین میں ، کہ خالی ہو جائے تمھارے لیے چہرہ تمھارے باپ کااور تم ہو جانا بعد اس کے نیک لوگ (9)
[7] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ لَقَدۡ كَانَ فِيۡ يُوۡسُفَ وَاِخۡوَتِهٖۤ اٰيٰتٌ ﴾ ’’یقینا یوسف اور ان کے بھائیوں (کے قصہ) میں نشانیاں ہیں ۔‘‘ یعنی قصۂ یوسف میں عبرتیں اور بہت سے مطالب حسنہ پر دلائل ہیں ﴿ لِّلسَّآىِٕلِيۡنَ ﴾ ’’پوچھنے والوں کے لیے۔‘‘ یعنی ہر اس شخص کے لیے جو زبان حال یا زبان قال کے ذریعے سے اس قصے کے بارے میں سوال کرتا ہے کیونکہ سوال کرنے والے لوگ ہی آیات الٰہی اور عبرتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور رہے روگردانی کرنے والے تو وہ آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتے ہیں ، نہ قصوں اور واضح دلائل سے۔
[8]﴿ اِذۡ قَالُوۡا ﴾ ’’جب انھوں نے کہا۔‘‘ یعنی جب انھوں نے آپس میں کہا: ﴿ لَيُوۡسُفُ وَاَخُوۡهُ ﴾ ’’یوسف اور اس کا بھائی۔‘‘ یعنی یوسفu اور ان کے حقیقی بھائی بنیا مین، ورنہ تو وہ سب ان کے بھائی تھے ﴿ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِيۡنَا مِنَّا وَنَحۡنُ عُصۡبَةٌ﴾ ’’ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں اور ہم ایک جماعت ہیں ‘‘ یعنی حالانکہ ہم بھائی ایک جماعت ہیں پھر وہ اپنی محبت اور شفقت میں ان دونوں کو کیوں فضیلت دیتے ہیں ؟ ﴿ اِنَّ اَبَانَا لَفِيۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’یقینا ہمارا باپ واضح غلطی پر ہے‘‘ کیونکہ اس نے بغیر کسی موجب کے جس کو ہم دیکھ سکیں اور بغیر کسی ایسے سبب کے جس کا ہم مشاہدہ کر سکیں ، ان دونوں کو ہم پر ترجیح دی ہے۔
[9]﴿ اقۡتُلُوۡا يُوۡسُفَ اَوِ اطۡرَحُوۡهُ اَرۡضًا ﴾ ’’یوسف کو مار ڈالو یا اس کو پھینک دو کسی زمین میں ‘‘ یعنی کہیں دور علاقے میں لے جا کر اس کو باپ کی نظروں سے دور کر دو جہاں وہ اپنے باپ کو نظر نہ آسکے۔ اگر تم نے ان دونوں امور میں سے کسی ایک پر عمل کر لیا ﴿ يَّخۡلُ لَكُمۡ وَجۡهُ اَبِيۡكُمۡ ﴾ ’’تو خالص ہو جائے گی تمھارے باپ کی توجہ تمھارے لیے‘‘ یعنی وہ تمھارے لیے فارغ ہوگا اور تمھارا باپ تمھارے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آئے گا کیونکہ وہ اس وقت یوسف کی محبت میں مشغول ہے تمھاری محبت کے لیے اس کے پاس فراغت نہیں ۔ ﴿ وَتَكُوۡنُوۡا مِنۢۡ بَعۡدِهٖ ﴾ ’’اور ہو جانا تم اس کے بعد‘‘ یعنی یہ کام کرنے کے بعد ﴿ قَوۡمًا صٰؔلِحِيۡنَ ﴾ ’’نیک لوگ‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کر لینا اور اپنے اس گناہ کی معافی مانگ لینا۔ انھوں نے گناہ کے صدور سے پہلے ہی توبہ کا عزم کیا تاکہ گناہ کا ارتکاب آسان ہو، اس کی برائی زائل ہو اور اس گناہ پر آمادہ کرنے کے لیے ایک دوسرے میں حوصلہ پیدا کریں ۔