ثابت قدم رکھتا ہے اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے، ساتھ قول ثابت (کلمۂ توحید) کے زندگانیٔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور گمراہ کرتا ہے اللہ ظالموں کواور کرتا ہے اللہ جو چاہتا ہے (27)
[27] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کو ثابت قدمی عطا کرتا ہے جو کامل طور پر قلبی ایمان کو قائم کرتے ہیں ۔ جو اعمال جوارح کو مستلزم ہے یہ اعمال اس ایمان کا ثمرہ ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دنیا کے اندر شبہات کے وارد ہونے کے وقت ہدایت اور یقین کے ذریعے سے ثبات اور استقامت عطا کرتا ہے اور جب شہوات پیش آتی ہیں تو اللہ تعالیٰ انھیں قطعی اور پختہ ارادہ عطا کرتا ہے تب وہ خواہش نفس اور اس کی مراد پر اس امر کو مقدم رکھتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ آخرت میں ، موت کے وقت دین اسلام اور خاتمہ بالخیر پر ثابت قدمی عطا کرتا ہے اور قبر میں منکر نکیر کے سوالات کے وقت صحیح جواب کی توفیق عطا کر کے ثبات اور مضبوطی سے نوازتا ہے۔ جب میت سے پوچھا جاتا ہے ’’تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ تیرا نبی کون ہے؟ تو اللہ تعالیٰ صحیح جواب کی طرف اس کی راہ نمائی کرتا ہے اور مومن جواب دیتا ہے ’’میرا رب اللہ ہے، میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی محمد (ﷺ) ہیں ۔‘‘ ﴿وَيُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے۔‘‘ یعنی دنیا و آخرت میں راہ صواب سے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان پر ظلم نہیں كيا بلکہ انھوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا ہے۔یہ آیت کریمہ، قبر کے امتحان، قبر کے عذاب اور اس کی نعمت اور آرام پر دلالت کرتی ہے۔ جیسا کہ قبر کے امتحان، اس کی صفت و کیفیت، قبر کے عذاب اور اس کے آرام کے بارے میں نبی کریمﷺ سے نہایت تواتر کے ساتھ نصوص وارد ہوئی ہیں ۔