Tafsir As-Saadi
15:78 - 15:79

اور بے شک تھے ایکہ (بستی) والے ، البتہ ظالم (78) پس انتقام لیا ہم نے ان سےاور بے شک وہ دونوں (تباہ شدہ بستیاں ) البتہ راستے ظاہر پر (واقع) ہیں (79)

[78] یہ حضرت شعیبu کی قوم ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی (الأیکۃ) کی طرف اضافت کی ہے اور (الأیکۃ) سے مراد وہ باغ ہے جس میں بکثرت درخت ہوں تاکہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی نعمت کا ذکر فرمائے مگر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر ادا نہ کیا بلکہ اس کے برعکس، جب ان کے نبی حضرت شعیبu ان کے پاس آئے اور ان کو توحید کی دعوت دی، ناپ تول میں ان کو لوگوں پر ظلم کرنے سے باز آنے کی تلقین کی اور اس ظلم سے ان کو سختی سے منع کیا مگر وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں اپنے ظلم پر جمے رہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کا یہاں ظالمین کے لفظ سے ذکر فرمایا۔
[79]﴿ فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡهُمۡ﴾ ’’پس ہم نے ان سے بدلہ لیا‘‘ اور چھتری والے دن کے عذاب نے ان کو آ لیا، بلاشبہ یہ بہت بڑے دن کا عذاب تھا۔ ﴿ وَاِنَّهُمَا ﴾ ’’اور یہ دونوں ‘‘ یعنی دیار قوم لوط اور اصحاب ایکہ ﴿ لَبِـاِمَامٍ مُّبِيۡنٍ﴾ ’’کھلے راستے پر ہیں ۔‘‘ یعنی یہ دونوں بستیاں واضح راستے پر واقع ہیں جہاں ہر وقت مسافروں کے قافلے گزرتے رہتے ہیں ۔ ان کے وہ آثار نمایاں ہیں جن کا آنکھوں سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے اور عقل مند لوگ اس سے عبرت حاصل کر سکتے ہیں ۔