Tafsir As-Saadi
16:38 - 16:40

اور قسمیں کھائیں انھوں نے اللہ کی، اپنی پختہ قسمیں ، کہ نہیں دوبارہ اٹھائے گا اللہ اس کو جو مر جاتا ہے، کیوں نہیں ؟ (ضرور اٹھائے گا) وعدہ ہے اس کے ذمے سچا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (38) تاکہ واضح کرے ان کے لیے وہ چیز کہ اختلاف کرتے تھے وہ اس میں اور تاکہ جان لیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا کہ بے شک وہی تھے جھوٹے (39) یقینا ہمارا کہنا کسی بھی چیز کے لیے، جب ارادہ کریں ہم اس کا، ( یہ ہوتا ہے) کہ ہم کہتے ہیں اس کو’’ ہو جا‘‘ تو وہ ہو جاتی ہے (40)

[38] اپنے رسولوں کو جھٹلانے والے مشرکین کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿ وَاَقۡسَمُوۡا بِاللّٰهِ جَهۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ﴾ ’’اور یہ اللہ کی بڑی پکی قسمیں کھاتے ہیں ۔‘‘ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی تکذیب پر بہت پکی قسمیں کھاتے ہیں اور اس بات پر کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے گا نہ وہ ان کے مٹی ہو جانے کے بعد ان کو زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جھٹلاتے ہوئے کہتا ہے: ﴿ بَلٰى﴾ ’’کیوں نہیں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ انھیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے گا، پھر انھیں ایسے روز اکٹھا کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ﴿ وَعۡدًا عَلَيۡهِ حَقًّا ﴾ ’’اس پر وعدہ ہو چکا ہے پکا‘‘ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف کرتا ہے نہ اسے تبدیل کرتا ہے ﴿ وَّلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَؔ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘ اور مرنے کے بعد دوبارہ زندگی اور جزا سزا کو جھٹلانا ان کی سب سے بڑی جہالت ہے۔
[40,39] پھر اللہ تعالیٰ زندگی بعد موت اور سزا و جزا کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ لِيُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِيۡ يَخۡتَلِفُوۡنَ فِيۡهِ ﴾ ’’تاکہ وہ ان کے سامنے واضح کرے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں ‘‘ وہ مسائل بڑے ہوں یا چھوٹے۔ پس وہ ان کے حقائق کو بیان کرے گا۔ ﴿ وَلِيَعۡلَمَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰذِبِيۡنَ﴾ ’’اور تاکہ کافر جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔‘‘ حتیٰ کہ وہ دیکھ لیں گے کہ ان کے اعمال ان کے لیے حسرت کا باعث ہیں اور جب آپ کے رب کا حکم آ گیا تو ان کے خود ساختہ معبود ان کی کوئی مدد نہ کرسکے جن کو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ پکارا کرتے تھے اور اس وقت وہ دیکھ لیں گے کہ ان کے معبودان باطل جہنم کا ایندھن ہیں اور سورج اور چاند بے نور کر دیے جائیں گے، ستارے جھڑ کر بکھر جائیں گے اور جو لوگ سورج، چاند اور ستاروں کی عبادت کیا کرتے تھے ان پر واضح ہو جائے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے غلام اور اس کے سامنے مسخر ہیں اور ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے۔ کیونکہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو وہ صرف اتنا کہتا ہے ’’ہو جا‘‘ اور وہ ہو جاتی ہے بغیر اس کے کہ کوئی جھگڑا ہو یا کوئی رکاوٹ بلکہ وہ چیز اس کے ارادے اور مشیت کے مطابق ہی ہوتی ہے۔