Tafsir As-Saadi
2:121 - 2:123

وہ لوگ کہ دی ہم نے ان کو کتاب، پڑھتے ہیں وہ اسے جس طرح حق ہے اس کے پڑھنے کا، وہی لوگ ایمان لاتے ہیں ساتھ اس کے اور جو کوئی کفر کرتا ہے ساتھ اس کے تو وہی ہیں خسارہ پانے والے(121) اے بنواسرائیل! یاد کرو تم میری نعمت، وہ جو انعام کی میں نے تم پر اور یہ کہ فضیلت دی میں نے تمھیں اوپر تمام جہانوں کے(122) اور ڈرو اس دن سے کہ نہیں کام آئے گا کوئی نفس کسی نفس کے کچھ بھی اور نہ قبول کیا جائے گا اس سے کوئی بدلہ اور نہ نفع دے گی اس کو کوئی سفارش اور نہ وہ مدد ہی کیے جائیں گے(123)

[121] اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب عطا کی اور کتاب عطا کر کے ان پر احسان کیا ہے ﴿ يَتۡلُوۡنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ ﴾ ’’وہ اس کی تلاوت کرتے ہیں جیسا کہ تلاوت کرنے کا حق ہے۔‘‘ یعنی اس کی اتباع کرتے ہیں جیسا کہ اتباع کرنے کا حق ہے۔ یہاں (تلاوت) سے مراد اتباع ہے۔ پس وہ اللہ تعالیٰ کے حلال ٹھہرائے ہوئے امور کو حلال اور اس کے حرام ٹھہرائے ہوئے امور کو حرام سمجھتے ہیں۔ اس کی محکمات پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور اس کی متشابہات پر ایمان لاتے ہیں۔ اہل کتاب میں سے یہی وہ لوگ ہیں جو خوش بخت ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کی نعمت کو پہچانا اور اس کے شکر گزار ہوئے جو تمام رسولوں پر ایمان لائے اور انھوں نے ان رسولوں کے مابین تفریق نہ کی۔ یہی لوگ حقیقی مومن ہیں نہ کہ وہ لوگ جو کہتے ہیں ﴿ نُؤۡمِنُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ عَلَيۡنَا وَيَكۡفُرُوۡنَ بِمَا وَرَآءَهٗ ﴾(البقرۃ : 2؍91) ’’جو کتاب ہم پر نازل کی گئی ہم تو اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے علاوہ دوسری کتابوں کا انکار کرتے ہیں۔‘‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وعید سناتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِهٖ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡخٰؔسِرُوۡنَ﴾ ’’جو کوئی اس کا انکار کرے گا پس یہی لوگ گھاٹے میں پڑنے والے ہیں۔‘‘
[123-122] اس کے بعد آنے والی آیت کریمہ کی تفسیر گزشتہ صفحات میں گزر چکی ہے۔