Tafsir As-Saadi
20:128 - 20:128

کیا پس نہیں رہنمائی کی ان کی (اس چیز نے) کہ کتنی ہلاک کیں ہم نے ان سے پہلے قومیں ، کہ وہ لوگ چلتے ہیں ان کے مکانوں میں، بے شک اس میں البتہ نشانیاں ہیں اہل عقل کے لیے (128)

[128] ان جھٹلانے والوں اور آیات الٰہی سے روگردانی کرنے والوں کو، اس عذاب نے راہ ہدایت پر گامزن ہونے، گمراہی اور فساد کی راہ سے اجتناب کرنے پر آمادہ نہیں کیا، جو گزشتہ قوموں اور ایک دوسرے کے پیچھے آنے والی امتوں پر نازل ہوا؟ یہ ان کے واقعات کو خوب جانتے ہیں ، ان کے واقعات کو ایک دوسرے سے نقل کرتے چلے آ رہے ہیں اور ان قوموں کے مسکن اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ، مثلاً:ہود، صالح اور لوط علیہ السلام کی قوموں کے اجڑے ہوئے مسکن۔ انھوں نے جب ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور ہماری کتابوں سے روگردانی کی تو ہم نے ان پر دردناک عذاب نازل کر دیا۔ کس چیز نے ان کو بے خوف کیا ہے کہ جو عذاب ان قوموں پر نازل ہوا تھا ان پر نازل نہیں ہو گا؟ ﴿اَكُفَّارُكُمۡ خَيۡرٌ مِّنۡ اُولٰٓىِٕكُمۡ اَمۡ لَكُمۡ بَرَآءَةٌ فِي الزُّبُرِۚ۰۰اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ نَحۡنُ جَمِيۡعٌ مُّنۡتَصِرٌ﴾(القمر:54؍43-44) ’’کیا تمھارے کفار ان گزرے ہوئے لوگوں سے بہتر ہیں یا تمھارے لیے (گزشتہ) کتابوں میں براء ت لکھ دی گئی ہے یا وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم بڑے مضبوط ہیں ۔‘‘ یعنی ان میں سے کوئی چیز بھی ان پر صادق نہیں آتی۔ یہ کفار ان کافروں سے کسی لحاظ سے بھی بہتر نہیں کہ ان سے عذاب کو ٹال دیا جائے بلکہ یہ ان سے زیادہ شریر اور برے لوگ ہیں کیونکہ انھوں نے افضل ترین رسولﷺ اور بہترین کتاب کی تکذیب کی ہے اور نہ ان کے پاس کوئی تحریری براء ت نامہ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی عہد نامہ ہے… اور ایسا بھی نہیں ہو سکتا جیسا کہ وہ کہتے ہیں کہ ان کی قوم انھیں کوئی فائدہ دے گی اور ان سے عذاب کو دور کر دے گی بلکہ اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ یہ ان سے زیادہ ذلیل اور ان سے زیادہ حقیر ہیں ۔پس گزشتہ قوموں کو ان کی کرتوتوں کی پاداش میں ہلاک کرنا، ہدایت کے اسباب میں سے ہے کیونکہ یہ ان رسولوں کی رسالت کی، جو ان کے پاس آئے، صداقت کی اور ان قوموں کے موقف کے بطلان کی دلیل ہے۔ مگر ہر شخص آیات الٰہی سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا صرف وہی لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جن کو عقل و دانش سے نوازا گیا ہے، یعنی عقل سلیم، فطرت مستقیم اور ذہن جو انسان کو ان امور سے روکتے ہیں جو اس کے لیے مناسب نہیں ۔