Tafsir As-Saadi
21:85 - 21:86

اور (یاد کیجیے) اسماعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو ہر ایک (ان میں سے) تھا صبر کرنے والوں سے (85) اور داخل کیا ہم نے انھیں اپنی رحمت میں ، بے شک وہ تھے صالح لوگوں میں سے (86)

[85] یعنی ہمارے چنے ہوئے بندوں اور انبیاء و مرسلین کو بہترین اسلوب میں یاد کیجیے اور بلیغ ترین پیرائے میں ان کی مدح و ثنا کیجیے، یعنی اسماعیل، ادریس، ذوالکفل اور بنی اسرائیل کے انبیاء علیہ السلام کا ذکر کیجیے۔ ﴿ كُلٌّ ﴾ یعنی تمام انبیاء جن کا ذکر اوپر گزر چکا ہے ﴿ مِّنَ الصّٰؔبِرِيۡنَ﴾ صبر کرنے والے تھے۔ صبر سے مراد نفس کو اس کی طبیعت کی طرف مائل ہونے سے روکنا ہے اور یہ صبر تین انواع پر مشتمل ہے۔۱۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر (یعنی اس کے حکموں کی پابندی) کرنا۔۲۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے صبر کرنا (یعنی اس کے حکموں کی خلاف ورزی نہ کرنا)۳۔ اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضاو قدر پر صبر کرنا۔ بندہ صبر کامل کے نام کا اس وقت تک مستحق نہیں ہوتا جب تک کہ صبر کی مذکورہ تینوں اقسام کا حق ادا نہ کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے ان انبیائے کرام کو صبر کی صفت کے ساتھ موصوف کیا ہے، لہٰذا یہ بات دلالت کرتی ہے کہ انھوں نے صبر کی ان تینوں اقسام کو پورا کیا اور صبر کا اسی طرح التزام کیا جس طرح کرنا چاہیے تھا۔
[86] نیز ان کو ’’صلاح‘‘ کی صفت سے موصوف فرمایا جو مشتمل ہے صلاح قلب پر جو اللہ تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور ہر وقت اس کی طرف انابت سے حاصل ہوتی ہے اور صلاح لسان پر، جس کا مطلب ہر وقت زبان کا اللہ کے ذکر سے تر رہنا ہے اور صلاح جوارح پر، جس کا مطلب جوارح (اعضاء) کو اللہ کی اطاعت میں لگائے رکھنا اور نافرمانی سے ان کو روکے رکھنا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے صبر اور صلاح کی بناء پر اپنی بے پایاں رحمت کے سائے میں سمیٹ لیا، ان کو ان کے دیگر برادر انبیاء و مرسلین میں شامل کیا اور انھیں دنیاوی اور اخروی ثواب عطا کیا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کو اتنا بڑا ثواب عطا نہ بھی کیا ہوتا تب بھی اللہ نے جو دنیا میں ان کا ذکر بلند کیا ہے اور آئندہ لوگوں میں انھیں سچی شہرت عطا کی ہے تو ان کے فضل و شرف کے لیے یہی کافی تھا۔