Tafsir As-Saadi
21:87 - 21:88

اور (یاد کیجیے) مچھلی والے (یونس) کو، جب چلا گیا تھا وہ (اپنی قوم سے) ناراض ہو کر، پس گمان کیا اس نے کہ ہرگز نہیں تنگی کریں گے ہم اس پر، پس پکارا اس نے اندھیروں میں یہ کہ نہیں ہے کوئی معبود (مشکل کشا) مگر تو ہی، پاک ہے تو، بلاشبہ میں ہی ہوں ظالموں میں سے (87) پس قبول کی ہم نے (دعا) اس کی اور نجات دی ہم نے اسے (اس) غم سےاور اسی طرح نجات دیتے ہیں ہم مومنوں کو (88)

[88-87] یعنی ہمارے بندے اور رسول ذوالنون کو ذکر جمیل اور ثنائے حسن کے ساتھ یاد کریں اور ذوالنون سے مراد حضرت یونس u ہیں ، یعنی مچھلی والے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دی مگر وہ ایمان نہ لائے۔ حضرت یونس u نے ان کو نزول عذاب کی وعید سنائی اور عذاب کے نزول کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا۔پس جب ان پر عذاب آیا اور انھوں نے اپنی آنکھوں سے عذاب دیکھ لیا تو وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑائے اور توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان سے عذاب کو ہٹا دیا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَلَوۡلَا كَانَتۡ قَرۡيَةٌ اٰمَنَتۡ فَنَفَعَهَاۤ اِيۡمَانُهَاۤ اِلَّا قَوۡمَ يُوۡنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوۡا كَشَفۡنَا عَنۡهُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡيِ فِي الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ ﴾(یونس:10؍98) ’’کوئی ایسی بستی کی مثال ہے جو عذاب دیکھنے کے بعد ایمان لائی ہو اور اس کے ایمان لانے نے اس کو کوئی فائدہ دیا ہو۔ قوم یونس کے سوا۔ وہ لوگ جب ایمان لے آئے تو ہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوا کن عذاب کو ٹال دیا اور ایک مدت تک کے لیے ہم نے اس کو متاع دنیا سے بہرہ مند رکھا۔‘‘ اور فرمایا: ﴿وَاَرۡسَلۡنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلۡفٍ اَوۡ يَزِيۡدُوۡنَۚ۰۰فَاٰمَنُوۡا فَمَتَّعۡنٰهُمۡ اِلٰى حِيۡنٍ ﴾(الصافات:37؍147، 148) ’’اور ہم نے اسے ایک لاکھ یا اس سے کچھ زائد لوگوں کی طرف مبعوث کیا پس وہ ایمان لے آئے اور ہم نے ایک وقت تک ان کو متاع دنیا سے بہرہ مند رکھا۔‘‘ یہ ایک بہت بڑی امت تھی جو یونس u پر ایمان لائی۔ یہ واقعہ آپ کی سب سے بڑی فضیلت ہے۔ مگر حضرت یونس u، کسی گناہ کی بنا پر، ناراضی کی حالت میں اپنے رب سے فرار ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یہ ذکر نہیں فرمایا کہ وہ کونسا گناہ تھا اور اس کے تعین کی ہمیں حاجت بھی نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:﴿اِذۡ اَبَقَ اِلَى الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِۙ۰۰فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الۡمُدۡحَضِيۡنَۚ۰۰فَالۡتَقَمَهُ الۡحُوۡتُ وَهُوَ مُلِيۡمٌ ﴾(الصافات:37؍140۔142) ’’جب وہ فرار ہو کر ایک بھری ہوئی کشتی کی طرف آیا۔ پس وہ قرعہ اندازی میں شامل ہوا اور ہار گیا۔ آخر مچھلی نے اس کو نگل لیا اور وہ ملامت زدہ تھا۔‘‘ یعنی وہ قابل ملامت فعل کا ارتکاب کرنے والے تھے۔ظاہری طورپر یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کا جلدی کرنا، قوم پر غصہ ہونا اور ان کے پاس سے نکل بھاگنا اللہ تعالیٰ کے حکم سے پہلے تھا۔ اور ان کو گمان تھا کہ اللہ تعالیٰ کو ان پر قدرت نہیں ، یعنی اللہ تعالیٰ ان کو مچھلی کے پیٹ میں محبوس نہیں کر سکتا یا ان کا خیال تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے نکل بھاگیں گے اور مخلوق میں سے کسی کو بھی ایسا گمان پیش آنے سے کچھ مانع نہیں مگر اس طرح کہ اس کو استقرار اور استمرار حاصل نہ ہو… پس یونس u بھاگ کر کچھ لوگوں کے ساتھ کشتی میں سوار ہو گئے… اور انھوں نے آپس میں قرعہ اندازی کی کہ ان میں سے کس کو سمندر میں پھینکا جائے کیونکہ انھیں خوف تھا کہ اگر سب کشتی میں رہے تو کشتی ڈوب جائے گی۔ قرعہ یونس u کے نام کا نکلا اور ان کو سمندر میں پھینک دیا گیا۔ ایک بہت بڑی مچھلی ان کو نگل کر سمندر کی گہرائیوں میں لے کر چلی گئی۔ سمندر کی ان تاریکیوں میں حضرت یونسu نے اپنے رب کو پکارا:﴿ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰؔنَكَ١ۖ ۗ اِنِّيۡؔ كُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ﴾ ’’تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے میں ہی ظلم کرنے والوں میں سے ہوں ۔‘‘پس حضرت یونس u نے اللہ کی کامل الوہیت کا اقرار کیا، اس کی ذات مقدس کو ہر نقص، ہر عیب اور ہر آفت سے منزہ اور پاک قرار دیا اور اپنے ظلم و جرم کا اعتراف کیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَلَوۡلَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الۡمُسَبِّحِيۡنَ۠ۙ۰۰لَلَبِثَ فِيۡ بَطۡنِهٖۤ اِلٰى يَوۡمِ يُبۡعَثُوۡنَ﴾(الصافات:37؍143، 144) ’’اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں نہ ہوتا تو قیامت کے دن تک مچھلی کے پیٹ ہی میں رہتا۔ ‘‘اسی لیے یہاں فرمایا: ﴿ فَاسۡتَجَبۡنَا لَهٗ١ۙ وَنَجَّيۡنٰهُ مِنَ الۡغَمِّ﴾ ’’ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے غم سے نجات دی۔‘‘ یعنی اس مصیبت سے نجات دی جس میں وہ مبتلا ہو گئے تھے۔ ﴿ وَؔكَذٰلِكَ نُـۨۡجِي الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ﴾ ’’اور اسی طرح ہم مومنوں کو نجات دیتے ہیں ۔‘‘ یہ ہر اس مومن کے لیے وعدہ اور بشارت ہے جو کسی مصیبت اور غم میں مبتلا ہو جائے۔ یقینا اللہ تعالیٰ اس کو اس مصیبت سے نجات دے گا، اس کے ایمان کے سبب سے اس کی مصیبت کو دور کر دے گا۔ جیسا کہ اس نے حضرت یونس u کے ساتھ کیا تھا۔