وعدہ کیا ہے اللہ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے تم میں سے اور عمل کیے انھوں نے نیک، البتہ وہ ضرور خلافت عطا کرے گا انھیں زمین میں جس طرح کہ اس نے خلافت دی تھی ان لوگوں کو جو ان سے پہلے تھےاور البتہ وہ ضرور مضبوط کر دے گا ان کے لیے ان کا دین، وہ جو اس نے پسند کیا ان کے لیےاور البتہ وہ ضرور بدل (کر) دے گا ان کو ان کے خوف کے بعد امن، وہ عبادت کریں گے میری، نہیں شریک ٹھہرائیں گے وہ میرے ساتھ کسی چیز کو بھی اورجو کوئی کفر کرے گا بعد اس کے، پس یہ لوگ، وہی ہیں فاسق (55)
[55] یہ اللہ تعالیٰ کے ان سچے وعدوں میں سے ہے جن کی تاویل و تعبیر کا مشاہدہ کروایا گیا ہے۔ امت محمدیہ میں سے جو لوگ ایمان پر قائم رہتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا ہے کہ وہ ان کو زمین کی خلافت عطا کرے گا۔ وہ زمین میں خلفاء ہوں گے اور زمین کی تمام تدبیر ان کے دست تصرف میں ہو گی۔ وہ اس دین کو، جسے اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے، یعنی دین اسلام کو جو تمام ادیان پر فائق ہے، مضبوط بنیادوں پر قائم کر دے گا۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس امت کے لیے اس کے فضل و شرف اور اس پر اپنی نعمت کی بنا پر دین اسلام کو پسند فرمایا، یعنی وہ اس دین کو قائم کرنے، اس کے ظاہری و باطنی قوانین کو خود اپنی ذات پر اور دوسروں پر یعنی دیگر ادیان کے پیروکاروں اور تمام کفار پر نافذ کریں گے جو مفتوح اور مغلوب ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے خوف کو امن میں بدل دے گا۔ ان میں سے جب اور جہاں کہیں ایک مسلمان ہوتا تو وہ اپنے دین کے اظہار کی قدرت نہیں رکھتا تھا اگر اظہار کرتا تو کفار کی طرف سے بے شمار اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا۔ مسلمان من حیث الجماعت دوسروں کی نسبت بہت کم تھے روئے زمین کے تمام لوگ مسلمانوں کو اذیت دینے میں متحد تھے اور ان پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے تھے۔اس آیت کریمہ کے نزول کے وقت اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے ساتھ ان امور کا وعدہ فرمایا جن کا اس سے قبل مشاہدہ نہیں کیا گیا تھا اور وہ ہیں خلافت ارضی، زمین میں اقتدار، اقامت دین پر قدرت، کامل امن، نیز یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے سوا انھیں کسی کا خوف نہ ہو گا۔ اس امت کے اولین لوگوں نے ایمان کو قائم کیا اور دوسرں سے بڑھ کر نیک کام كيے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ملکوں اور قوموں پر حکمرانی عطا کی، مشرق و مغرب کو ان کے زیرنگیں کر دیا، ان کو کامل امن اور کامل قدرت عطا کی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی حیران کن اور تعجب انگیز نشانی ہے۔ قیامت کے برپا ہونے تک یہ معاملہ اسی نہج پر جاری و ساری رہے گا جب تک مسلمان ایمان کو قائم رکھیں گے اور اس کے تقاضوں کے مطابق نیک کام کرتے رہیں گے اس وقت تک انھیں اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق یہ چیزیں حاصل ہوتی رہیں گی… البتہ مسلمانوں کے ایمان اورعمل صالح میں خلل واقع ہو جانے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کبھی کبھی کفار کو اقتدار عطا کر کے انھیں مسلمانوں پر مسلط کر دیتا ہے۔ ﴿وَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِكَ ﴾ اے مسلمانو! اس کامل اقتدار اور تسلط کے بعد بھی اگر کوئی کفران نعمت کا ارتکاب کرتا ہے ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴾ ’’تو یہی لوگ نافرمان ہیں ۔‘‘ جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے دائرے سے باہر نکلے ہوئے اور بگڑے ہوئے ہیں انھوں نے اصلاح کا کوئی کام سرانجام دیا نہ ان میں بھلائی کی کوئی اہلیت ہے کیونکہ جو کوئی اپنے اقتدار، غلبہ اور موانع ایمان کے عدم وجود کے وقت ایمان کو ترک کر دیتا ہے تو یہ چیز اس کے فساد نیت اور خبث باطن پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اس کے لیے خبث باطن کے سوا ترک دین کا کوئی داعیہ موجود نہیں ۔یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلے بھی اہل ایمان کو خلافت ارضی عطا کی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰu سے فرمایا:﴿وَيَسۡتَخۡلِفَكُمۡ۠ فِي الۡاَرۡضِ فَيَنۡظُرَؔ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ﴾(الاعراف:7؍129) ’’اور تم کو زمین کی خلافت عطا کرے گا تاکہ دیکھے تم کیسے عمل کرتے ہو۔‘‘ اور فرمایا: ﴿ وَنُرِيۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَى الَّذِيۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِي الۡاَرۡضِ وَنَجۡعَلَهُمۡ اَىِٕمَّةً وَّنَجۡعَلَهُمُ الۡوٰرِثِيۡنَۙ۰۰وَنُمَؔكِّنَ لَهُمۡ فِي الۡاَرۡضِ﴾(القصص: 28؍5-6) ’’ہم چاہتے تھے کہ ان لوگوں پر احسان کریں جن کو زمین میں کمزور اور ذلیل بنا کر رکھا گیا ہے اور انھیں سردار بنائیں اور انھی کو (بادشاہت کا) وارث ٹھہرائیں ، نیز ہم زمین میں ان کو اقتدار عطا کریں ۔‘‘