Tafsir As-Saadi
24:56 - 24:57

اور قائم کرو تم نماز اور ادا کرو زکاۃاور اطاعت کرو رسول کی تاکہ تم رحم کیے جاؤ (56) نہ گمان کریں آپ ان لوگوں کو، جنھوں نے کفر کیا (ہمیں ) عاجز کرنے والے زمین میں اور ان کا ٹھکانا آگ ہےاور البتہ بری ہے وہ جگہ واپسی کی (57)

[56] اللہ تبارک و تعالیٰ نے نماز کو ظاہری اور باطنی طور پر اس کے تمام ارکان، شرائط اور آداب کے ساتھ قائم کرنے اور اس مال کی زکاۃ ادا کرنے کا حکم دیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے بندوں کو عطا کیا اور ان کو اس مال پر خلیفہ بنایا کہ وہ یہ مال محتاجوں اور ان لوگوں پر خرچ کریں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے مصارف زکاۃ کے ضمن میں کیا ہے اور یہ دو عبادات سب سے زیادہ جلیل القدر عبادات ہیں جو حقوق اللہ اور حقوق العباد، اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص اور مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کی جامع ہیں پھر اس حکم پر عطف کے ساتھ عام حکم دیا، فرمایا:﴿ وَاَطِيۡعُوا الرَّسُوۡلَ ﴾ ’’اور اطاعت کرو رسول کی۔‘‘ یعنی اوامر کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب کر کے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کا ثبوت دو۔﴿ مَنۡ يُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰهَ﴾(النساء:4؍80) ’’جس نے رسول(ﷺ) کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔‘‘ ﴿ لَعَلَّكُمۡ ﴾ ’’تاکہ تم‘‘ یعنی جب تم ان امور کا خیال رکھو گے تو ﴿ تُرۡحَمُوۡنَ ﴾ ’’رحم کیے جاؤ۔‘‘ جو کوئی رحمت کا طلب گار ہے تو اس کے حصول کا صرف یہی طریقہ ہے اور جو کوئی نماز قائم كيے، زکاۃ ادا كيے اور رسول اللہﷺ کی اطاعت كيے بغیر رحمت کی امید رکھتا ہے تو اس کی تمنائیں جھوٹی ہیں اور وہ جھوٹی آرزوؤں میں گرفتار ہے۔
[57]﴿ لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مُعۡجِزِيۡنَ فِي الۡاَرۡضِ﴾ ’’نہ گمان کریں آپ کافروں کو کہ وہ (اللہ کو) زمین میں عاجز کر دیں گے۔‘‘ پس اس دنیا کی زندگی میں ان کو مال و متاع سے نوازا جانا آپ کو دھوکے میں نہ ڈال دے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اگرچہ ان کو مہلت دے رکھی ہے مگر وہ ان کو مہمل نہیں چھوڑے گا، جیسا کہ فرمایا:﴿ نُمَتِّعُهُمۡ قَلِيۡلًا ثُمَّ نَضۡطَرُّهُمۡ اِلٰى عَذَابٍ غَلِيۡظٍ﴾(لقمان:31؍24) ہم تھوڑے عرصے کے لیے ان کو متاع دنیا سے نوازتے ہیں پھر ان کو بے بس کر کے ایک نہایت سخت عذاب کی طرف کھینچ لاتے ہیں ۔‘‘ بنابریں فرمایا: ﴿وَمَاۡوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَلَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ ﴾ ’’ان کا ٹھکانا آگ ہے اور البتہ وہ برا ٹھکانا ہے۔‘‘ یعنی کافروں کا انجام بدترین ہے، ان کا انجام شر، حسرت اور ابدی عذاب ہے۔