اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نہ بناؤ تم دلی دوست سوائے اپنے (لوگوں) کے، نہیں کمی کرتے وہ تمھیں برباد کرنے میں، وہ چاہتے ہیں یہ کہ تکلیف میں پڑو تم،تحقیق ظاہر ہو چکا ہے بغض ان کے مونہوں سےاور جو چھپاتے ہیں ان کے سینے، وہ بہت بڑا ہے، تحقیق بیان کیا ہم نے تمھارے لیے نشانیوں کو اگر ہو تم عقل رکھتے(118) خبردار! تم ہی وہ لوگ ہو کہ محبت رکھتے ہو تم ان سے اور نہیں محبت رکھتے وہ تم سے اور تم ایمان رکھتے ہو سب کتابوں پراور جب وہ ملتے ہیں تم سے تو کہتے ہیں، ایمان لائے ہم اور جب تنہا ہوتے ہیں تو کاٹتے ہیں اوپر تمھارے انگلیاں (اپنی) غصے سے، کہہ دیجیے! مر جاؤ تم ساتھ اپنے غصے ہی کے، بلاشبہ اللہ خوب جاننے والا ہے سینوں کے راز (119)اگر پہنچے تمھیں کوئی بھلائی تو بری لگتی ہے ان کواور اگر پہنچے تمھیں کوئی برائی تو خوش ہوتے ہیں ساتھ اس کے اور اگر صبر کرو تم اور تقویٰ اختیار کرو تو نہیں نقصان پہنچائے گا تمھیں مکر ان کا کچھ بھی، بلاشبہ اللہ اس کو، جو وہ کرتے ہیں، گھیرنے والا ہے(120)
[120-118] اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو اس بات سے منع فرماتا ہے کہ وہ اہل کتاب کے یا دوسرے مذاہب کے منافقوں کو دلی دوست بنائیں، انھیں اپنے راز بتائیں یا بعض اسلامی ذمہ داریاں ان کے سپرد کردیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ دشمن ہیں جن کے دل بغض و عداوت سے بھرے ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ یہ عداوت ان کی زبان سے بلا ارادہ ظاہر ہوجاتی ہے۔ ﴿ وَمَا تُخۡفِيۡ صُدُوۡرُهُمۡ اَ كۡبَرُ ﴾ ’’اور جو ان کے سینوں میں پوشیدہ ہے، وہ ظاہر ہوجانے والی دشمنی سے بہت زیادہ ہے۔‘‘ اسی لیے ﴿ لَا يَاۡلُوۡنَؔكُمۡ خَبَالًا ﴾ ’’وہ تمھاری تباہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے‘‘ یعنی تمھیں نقصان پہنچانے اور مشکلات پیدا کرنے میں کمی نہیں کرتے۔ وہ ایسے اسباب پیدا کرتے ہیں جس کے نتیجے میں تمھیں نقصان پہنچے اور تمھارے خلاف تمھارے دشمنوں کی مدد کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مومنوں سے فرماتا ہے: ﴿قَدۡ بَيَّنَّا لَكُمُ الۡاٰيٰتِ ﴾ ’’ہم نے تمھارے لیے آیتیں بیان کردی ہیں‘‘ جن میں تمھاری دینی اور دنیاوی مصلحتیں اور فوائد موجود ہیں۔ ﴿ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ﴾ ’’اگر تم عقل مند ہو‘‘ تو ان نشانیوں کو پہچان کر دوستوں اور دشمنوں کی پہچان کرو، کیونکہ ہر شخص اس قابل نہیں ہوتا کہ اسے ہم راز بنایا جائے۔عقل مند وہ ہوتا ہے جسے اگر دشمن سے میل جول رکھنے کی ضرورت پیش آجائے تو اس سے میل جول صرف ظاہری معاملات میں ہو، اور اپنے اندرونی معاملات اسے نہ بتائے۔ اگرچہ دشمن کتنی ہی چاپلوسی کرے اور قسمیں کھائے کہ وہ دوست ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ مومنوں کو یہودی اور عیسائی منافقوں سے احتیاط کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے ان کی شدید دشمنی کو واضح کرتا ہے۔ ارشاد ہے ﴿ هٰۤاَ نۡتُمۡ اُولَآءِ تُحِبُّوۡنَهُمۡ وَلَا يُحِبُّوۡنَكُمۡ وَتُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡكِتٰبِ كُلِّهٖ ﴾ ’’ہاں، تم تو انھیں چاہتے ہو، اور وہ تم سے محبت نہیں رکھتے، اور تم پوری کتاب کو مانتے ہو‘‘ یعنی ان تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہو جو اللہ نے اپنے نبیوں پر نازل کی ہیں۔ حالانکہ وہ تمھاری کتاب، قرآن پر ایمان نہیں رکھتے۔ بلکہ جب وہ تم سے ملتے ہیں تو اوپر اوپر سے ایمان کا اظہار کرتے ہیں۔ ﴿ وَاِذَا لَقُوۡؔكُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا١ۖ ۗۚ وَاِذَا خَلَوۡا عَضُّوۡا عَلَيۡكُمُ الۡاَنَامِلَ مِنَ الۡغَيۡظِ ﴾ ’’اور جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم ایمان لائے۔ لیکن تنہائی میں تم پر غصے کے مارے اپنی انگلیاں چباتے ہیں‘‘ ﴿الۡاَنَامِلَ﴾ کا مطلب ’’انگلیوں کے سرے۔‘‘ ﴿ قُلۡ مُوۡتُوۡا بِغَيۡظِكُمۡ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴾ ’’کہہ دو! اپنے غصے میں ہی مرجاؤ۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے راز بخوبی جانتا ہے۔‘‘ اس میں مومنوں کے لیے خوش خبری ہے کہ یہ دشمن تمھیں نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیکن اپنا ہی نقصان کررہے ہیں۔ وہ اپنے غصے کو عملی جامہ پہنانے کے قابل نہیں۔ وہ مرتے دم تک دنیا کا یہ عذاب سہتے رہیں گے اور مرنے کے بعد دنیا کے عذاب سے آخرت کے عذاب کی طرف منتقل ہوجائیں گے۔ ﴿ اِنۡ تَمۡسَسۡكُمۡ حَسَنَةٌ ﴾ ’’تمھیں اگر بھلائی ملے‘‘ مثلاً: دشمنوں پر فتح نصیب ہو یا غنیمت حاصل ہو ﴿ تَسُؤۡهُمۡ ﴾ ’’تو یہ ناخوش ہوتے ہیں‘‘ یعنی انھیں اس سے غم ہوتا ہے ﴿ وَاِنۡ تُصِبۡكُمۡ سَيِّئَةٌ يَّفۡرَحُوۡا بِهَا١ؕ وَاِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا لَا يَضُرُّؔكُمۡ كَيۡدُهُمۡ شَيۡـًٔـا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا يَعۡمَلُوۡنَ مُحِيۡطٌ﴾ ’’اور اگر تمھیں برائی پہنچے تو وہ خوش ہوتے ہیں۔ اور تم اگر صبر کرو اورپرہیز گاری کرو تو ان کا مکر تمھیں کچھ نقصان نہ دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے عمل کا احاطہ کررکھا ہے۔‘‘ لہٰذا جب تم ان اسباب کو عملی جامہ پہناؤ جن پر اللہ نے مدد کا وعدہ کررکھا ہے، یعنی صبرا ور تقویٰ اختیار کرو، تو ان کا مکر تمھیں نقصان نہ دے گا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے مکر کو انھی پر الٹ دے گا۔ کیونکہ اس کا علم اور اس کی قدرت ان کو گھیرے ہوئے ہے، وہ اس کی قدرت کے دائرے سے باہر نہیں نکل سکتے۔ اور ان کی کوئی بات اللہ سے چھپی نہیں رہ سکتی۔