کہہ دیجیے :اے میرے بندو! جو ایمان لائے! ڈرو اپنے رب سے، واسطے ان لوگوں کے، جنھوں نے اچھے عمل کیے اس دنیا میں، بھلائی ہے، اور زمین اللہ کی کشادہ ہے، بلاشبہ پورا دیا جائے گا صبر کرنے والوں کو، ثواب ان کا، بے شمار (10)
[10] اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اشرف المخلوقات یعنی اہل ایمان کو دینی امور میں سے سب سے بہتر چیز تقوی کا حکم دیتے ہوئے کہہ دیجیے اور ان کے سامنے اس سبب کا بھی ذکر کیجیے جو تقویٰ کا موجب ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور اس کی نعمتوں کا اقرار، جو ان سے تقویٰ اختیار کرنے کا تقاضا کرتی ہیں اور ان میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ اس نے ان کو ایمان کی دولت سے سرفراز فرمایا، جو تقویٰ کا موجب ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے آپ کسی سخی شخص سے کہیں ’’اے سخی! صدقہ کر‘‘ اور کسی بہادر شخص سے کہیں ’’اے بہادر لڑائی کر۔‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے ثواب کا ذکر فرمایا جو دنیا میں ان کے اندر نشاط پیدا کرتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿لِلَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا ﴾ ’’جنھوں نے اس دنیا میں نیکی کی‘‘ اپنے رب کی عبادت کے ذریعے سے تو ان کے لیے ﴿حَسَنَةٌ ﴾ ’’بھلائی‘‘ لامحدود رزق، نفس مطمئنہ اور انشراح قلب ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا مِّنۡ ذَكَرٍ اَوۡ اُنۡثٰى وَهُوَ مُؤۡمِنٌ فَلَنُحۡيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً ﴾(النحل: 16؍97)’’جو کوئی بھی نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور وہ مومن بھی ہو، ہم اسے نہایت پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے۔‘‘﴿وَاَرۡضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ ﴾ ’’اور اللہ کی زمین وسیع ہے۔‘‘ یعنی اگر تمھیں زمین کے کسی خطے میں اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روک دیا جائے تو زمین کے کسی دوسرے خطے کی طرف ہجرت کر جاؤ جہاں تم اپنے رب کی عبادت کر سکو اور جہاں تمھارے لیے اقامت دین ممکن ہو۔جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لِلَّذِيۡنَ اَحۡسَنُوۡا فِيۡ هٰؔذِهِ الدُّنۡيَا حَسَنَةٌ ﴾ اور چونکہ یہ نص عام ہے… تو اس مقام پر بعض لوگوں کے لیے یہ کہنے کی مجال تھی کہ جو شخص بھی نیک کام کرے گا اس کے لیے دنیا میں بھلائی ہے، تو اس شخص کا کیا حال ہے جو کسی خطۂ زمین میں ایمان لایا بایں ہمہ وہ مظلوم اور محکوم و مجبور ہے اور وہ اس بھلائی سے محروم ہے؟ اس لیے اس گمان کا جواب ان الفاظ میں فرمایا:﴿وَاَرۡضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ ﴾ ’’اور اللہ کی زمین بڑی فراخ ہے۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت ہے۔ حضرت نبی اکرم ﷺ نے بھی اس بشارت کو ان الفاظ میں منصوص فرمایا ’’میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا، کسی کا ان سے علیحدہ ہونا اور مخالفت کرنا انھیں کوئی نقصان نہ دے سکے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ پہنچے گا اور یہ گروہِ حق اسی نہج پر ہو گا۔‘‘ (صحیح البخاري، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ ﴿انما قولنا لشئي اذا اردنٰه﴾‘ ح:7460۔ وصحیح مسلم، الجہاد، باب قولہﷺ لاتزال طائفۃ من امتي…، ح: 1920۔) یہ آیت کریمہ اسی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس کی زمین بہت کشادہ ہے اس لیے جب کبھی بھی کسی جگہ تمھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روک دیا جائے تو تم کسی دوسری جگہ ہجرت کر جاؤ ۔ ہر زمان و مکان میں یہ حکم عام ہے۔ تب لازم ٹھہرا کہ ہر ہجرت کرنے والے مومن کے لیے مسلمانوں کے اندر کوئی ٹھکانا ہو جہاں وہ پناہ لے سکے اور ایک جگہ ہو جہاں وہ اپنے دین کو قائم کر سکے۔ ﴿اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰؔبِرُوۡنَ اَجۡرَهُمۡ بِغَيۡرِ حِسَابٍ ﴾ ’’جو صبر کرنے والے ہیں، انھیں بے شمار ثواب ملے گا۔‘‘ یہ آیت کریمہ صبر کی تمام انواع کے لیے عام ہے، مثلاً: اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضا و قدر پر اس طرح صبر کرنا کہ اس میں ناراضی کا شائبہ نہ ہو، گناہ اور معاصی کے مقابلے میں صبر کرتے ہوئے ان کے ارتکاب سے بچنا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر کرتے ہوئے اس پر قائم رہنا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے صبر شعار لوگوں کے لیے بے حساب اجر کا وعدہ کیا ہے، یعنی کسی حد، تعداد اور مقدار کے بغیر۔ یہ صبر کی فضیلت ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں اس موقع ومحل ہے اور بلاشبہ یہ ہر معاملے میں معین ہے۔