کہہ دیجیے:کیا غیر اللہ کی بابت تم حکم دیتے ہو مجھے کہ میں (ان کی) عبادت کروں؟ اے جاہلو! (64) اور البتہ تحقیق وحی کی گئی آپ کی طرف اور ان کی طرف جو آپ سے پہلے ہوئے، کہ البتہ اگر شرک کیا آپ نے تو یقیناً ضائع ہو جائیں گے آپ کے عمل اوریقیناً ہو جائیں گے آپ نقصان اٹھانے والوں میں سے (65)بلکہ اللہ ہی کی آپ عبادت کریں اورہو جائیں شکر گزاروں میں سے (66)
[64]﴿قُلۡ ﴾ اے رسول! ان جہلاء سے، جو آپ کو غیراللہ کی عبادت کی دعوت دیتے ہیں، کہہ دیجیے:﴿اَفَغَيۡرَ اللّٰهِ تَاۡمُرُوۡٓنِّيۡۤ اَعۡبُدُ اَيُّهَا الۡجٰهِلُوۡنَ ﴾ ’’اے جاہلو! کیا تم مجھے یہ کہتے ہو کہ میں اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کروں۔‘‘ یہ معاملہ تمھاری جہالت کی بنا پر صادر ہوا ہے ورنہ اگر تمھیں اس بات کا علم ہوتا کہ اللہ تعالیٰ ہر اعتبار سے کامل ہے وہی نعمتیں عطا کرتا ہے اور وہی عبادت کا مستحق ہے اور وہ ہستیاں عبادت کی مستحق نہیں جو ہر لحاظ سے ناقص ہیں، جو نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان، تب تم مجھے ان کی عبادت کا کیوں حکم دیتے ہو؟ شرک اعمال کو ساقط اور احوال کو فاسد کر دیتا ہے۔
[65] بنابریں فرمایا: ﴿وَلَقَدۡ اُوۡحِيَ اِلَيۡكَ وَاِلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكَ ﴾ ’’(اے نبی!) آپ کی طرف اور ان کی طرف جو تم سے پہلے ہوچکے وحی کی گئی۔‘‘ یعنی تمام انبیائے کرام کی طرف ﴿لَىِٕنۡ اَشۡرَؔكۡتَ لَيَحۡبَطَنَّ عَمَلُكَ ﴾ ’’اگر تم نے شرک کیا تو تمھارے سارے عمل برباد ہوجائیں گے۔‘‘ یہ مفرد مضاف ہے جو تمام اعمال کو متضمن ہے۔ سابقہ جمیع انبیائے کرام کی نبوتوں میں یہ حکم تھا کہ شرک تمام اعمال کو ضائع کردیتا ہے جیسا کہ سورۃ الانعام میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد ان کے بارے میں فرمایا: ﴿ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ يَهۡدِيۡ بِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ١ؕ وَلَوۡ اَشۡرَؔكُوۡا لَحَبِطَ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾(الانعام: 6؍88) ’’یہ ہے اللہ کی ہدایت، وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اس طرح کی ہدایت دے اور اگر یہ لوگ (انبیائے کرام) شرک کرتے تو ان کا سارا کیا دھرا ضائع ہوجاتا۔‘‘ ﴿وَلَتَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰؔسِرِيۡنَ ﴾ ’’اور آپ (دین اور آخرت کے بارے میں) خسارے میں پڑ جاؤ گے۔‘‘ پس معلوم ہوا کہ شرک سے تمام اعمال اکارت ہو جاتے ہیں اور بندہ عذاب اور سزا کا مستحق بن جاتا ہے۔
[66] پھر فرمایا: ﴿بَلِ اللّٰهَ فَاعۡبُدۡ ﴾ ’’بلکہ آپ اللہ ہی کی عبادت کیجیے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے جب جہلاء کے بارے میں آگاہ فرمایا کہ وہ آپ کو شرک کا حکم دیتے ہیں اور یہ خبر بھی دی کہ شرک بہت قبیح جرم ہے تو نبیﷺ کو اخلاص کاحکم دیا اور فرمایا: ﴿بَلِ اللّٰهَ فَاعۡبُدۡ ﴾ یعنی اللہ وحدہ لاشریک کے لیے اپنی عبادت کو خالص کیجیے ﴿وَكُنۡ مِّنَ الشّٰكِرِيۡنَ ﴾ اور اللہ تعالیٰ کی توفیق پر اس کا شکر ادا کیجیے۔ جس طرح دنیاوی نعمتوں، مثلاً: جسمانی صحت و عافیت اور حصول رزق وغیرہ پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جاتا ہے۔ اسی طرح دینی نعمتوں، مثلاً: توفیقِ اخلاص اور تقویٰ وغیرہ پر بھی اس کا شکر ادا کیا جاتا اوراس کی حمدوثنا کی جاتی ہے۔ بلکہ دینی نعمتیں ہی حقیقی نعمتیں ہیں اور یہ تدبر کرنا کہ یہ تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہیں اور ان پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا واجب ہے کیونکہ یہ انسان کو غرور اور خودپسندی کی آفت سے محفوظ رکھتا ہے۔ بہت سے عمل کرنے والے اپنی جہالت کے باعث، اس عجب میں مبتلا ہو جاتے ہیں ورنہ اگر بندہ حقیقت حال کی معرفت حاصل کر لے تو اللہ تعالیٰ کی کسی نعمت پر غرور میں مبتلا نہ ہو جو زیادہ سے زیادہ شکر کی مستحق ہے۔