البتہ پیدائش آسمانوں اور زمین کی زیادہ بڑی (بات) ہے لوگوں کی پیدائش سے ، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے (57) اور نہیں برابر ہوتاہے اندھا اوردیکھنے والا اور وہ لوگ جوایمان لائے اورعمل کیے انھوں نے نیک اور نہ برائی کرنے والا، بہت تھوڑی ہی تم نصیحت پکڑتے ہو (58) بلاشبہ قیامت البتہ آنے والی ہے، نہیں ہے کوئی شک اس میں، لیکن اکثر لوگ نہیں ایمان لاتے (59)
[57] اللہ تبارک و تعالیٰ ایسی دلیل بیان کرتا ہے جو عقلا ثابت ہے۔ آسمانوں اور زمین کی تخلیق، ان کی عظمت و وسعت کے ساتھ، انسانوں کی تخلیق سے زیادہ بڑا کرشمہ ہے۔ کیونکہ انسان آسمانوں اور زمین کی تخلیق کی نسبت سے بہت معمولی ہے۔ پس وہ ہستی جس نے اتنے بڑے بڑے اجرام فلکی کو نہایت مہارت سے تخلیق کیا ہے اس کا لوگوں کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنا، زیادہ اولیٰ ہے۔ یہ عقل مند کے لیے حیات بعدالموت پر قطعی اور عقلی دلیل ہے، جو حیات بعدالموت کے بارے میں کسی شک و شبہ کو قبول نہیں کرتی، جس کے وقوع کی انبیاء و مرسلین نے خبر دی ہے، مگر ہر شخص اس میں غوروفکر نہیں کر سکتا۔ بنابریں فرمایا:﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يَعۡلَمُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔‘‘ اس لیے وہ اس سے عبرت حاصل کرتے ہیں نہ اس کی پروا کرتے ہیں۔
[58]﴿وَمَا يَسۡتَوِي الۡاَعۡمٰى وَالۡبَصِيۡرُ١ۙ۬ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ وَلَا الۡمُسِيۡٓءُ ﴾ ’’اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہوسکتا اور (اسی طرح) جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کیے ،وہ اور بدکار برابر نہیں ہوسکتے۔‘‘ یعنی جس طرح بینا اور نابینا برابر نہیں ہو سکتے اسی طرح اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والے نیک لوگ اور وہ لوگ برابر نہیں ہو سکتے جو تکبر سے اپنے رب کی عبادت نہیں کرتے، اس کی نافرمانی کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس کی ناراضی کے موجب کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے ہیں۔ ﴿قَلِيۡلًا مَّا تَتَذَكَّـرُوۡنَ ﴾ ’’تم کم ہی نصیحت پکڑتے ہو‘‘ ورنہ اگر تم معاملات کے مراتب، خیروشر کے مقامات اور نیکوکاروں اور فاسقوں کے مابین فرق سے نصیحت پکڑتے اور تم اس کا عزم و ارادہ کرتے تو تم ضرر رساں پر نفع رساں کو، گمراہی پر ہدایت کو اور فانی دنیا پر ہمیشہ رہنے والی سعادت کو ترجیح دیتے۔
[59]﴿اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ لَّا رَيۡبَ فِيۡهَا ﴾ ’’بلاشبہ قیامت آنے والی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔‘‘ اس کے بارے میں انبیاء و مرسلین خبر دے چکے اور وہ سب سے زیادہ سچے لوگ ہیں اور اس کے بارے میں تمام کتب الٰہیہ نے بھی خبر دی ہے جن کی دی ہوئی تمام خبریں صدق کے بلند ترین درجے کی حامل ہیں، جن کی شہادت، شواہد مرئیہ اور آیات افقیہ دیتے ہیں۔ ﴿وَلٰكِنَّ اَكۡثَرَ النَّاسِ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ ﴾ ’’لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔‘‘ ان مذکورہ بالا امور کے بارے میں جو کامل تصدیق اور اطاعت کے موجب ہیں، اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔