اور کتنے ہی بھیجے ہم نے نبی پہلے لوگوں میں(6) اور نہیں آتا ان کے پاس کوئی نبی مگر تھے وہ اس کے ساتھ ٹھٹھا ہی کرتے(7) پس ہلاک کر دیا ہم نے ان سے کہیں زیادہ زور آور لوگوں کو اور گزر چکی ہے مثال پہلے لوگوں کی(8)
[8-6] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ مخلوق میں ہماری سنت یہ ہے کہ ہم انھیں مہمل اور بیکار نہیں چھوڑتے ۔ پس کتنے ہی﴿وَؔكَمۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ نَّبِيٍّ فِي الۡاَوَّلِيۡنَ﴾ ’’نبی ہم نے پہلے لوگوں میں بھیجے۔‘‘ جو انھیں اللہ واحد کی عبادت کا حکم دیتے تھے جس کا کوئی شریک نہیں۔ تمام قوموں میں تکذیب ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ ﴿وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ نَّبِيٍّ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ۠ ﴾ ان کے پاس جو بھی نبی آیا وہ اس کی دعوت کا انکار اور حق کے مقابلے میں تکبر کا اظہار کرتے ہوئے اس کا تمسخر اڑاتے تھے۔ ﴿فَاَهۡلَكۡنَاۤ اَشَدَّ مِنۡهُمۡ ﴾ ’’پس ہم نے انھیں ہلاک کیا جو سخت تھے۔‘‘ ان لوگوں سے ﴿بَطۡشًا ﴾ ’’قوت میں‘‘ یعنی زمین کے اندر قوت، افعال اور آثار کے لحاظ سے ﴿وَّمَضٰى مَثَلُ الۡاَوَّلِيۡنَ ﴾ یعنی ان لوگوں کی امثال و اخبار گزر چکی ہیں اور ان میں سے بہت سی مثالیں ہم تمھارے سامنے بیان کر چکے ہیں جن میں سامان عبرت اور تکذیب پر زجروتوبیخ ہے۔