کیا گمان کر لیا ہے ان لوگوں نے جنھوں نے ارتکاب کیا برائیوں کا، یہ کہ کر دیں گے ہم ان کو مانند ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، برابر ہے جینا ان کا اور مرنا ان کا، برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں (21)
[21] یعنی کیا کثرت سے گناہوں کا ارتکاب کرنے والے گناہ گار لوگ اور اپنے رب کے حقوق میں کوتاہی کرنے والے سمجھتے ہیں ﴿اَنۡ نَّجۡعَلَهُمۡ كَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ ﴾ ’’کہ ہم ان کو ان جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے۔‘‘ یعنی انھوں نے اپنے رب کے حقوق قائم کیے، اسے ناراض کرنے سے اجتناب کیا اور ہمیشہ اس کی رضا کو اپنی خواہشات نفس پر ترجیح دیتے ہیں۔ یعنی کیا وہ سمجھتے ہیں کہ ﴿سَوَآءًؔ﴾ وہ دنیا و آخرت میں مساوی ہوں گے؟ ان کا اندازہ اور ان کا یہ گمان بہت برا ہے۔ اور بہت برا ہے وہ فیصلہ جو انھوں نے کیا ہے کیونکہ یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو احکم الحاکمین، سب سے بڑھ کر عادل ہستی کی حکمت کے خلاف، عقل سلیم اور فطرت مستقیم کے متناقض اور ان اصولوں کے متضاد ہے جنھیں لے کر کتابیں نازل ہوئیں اور جن کے بارے میں انبیاء و مرسلین نے آگاہ کیا۔ فی الواقع قطعی فیصلہ یہ ہے کہ اہل ایمان جو نیک عمل کرتے ہیں ان میں سے ہر ایک کے لیے اس کی نیکی کے مطابق نصرت، فلاح، سعادت اور دنیا و آخرت کا ثواب ہے اور برائیوں کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی ، رسوائی، عذاب اور بدبختی ہے۔