ضرور کہیں گے آپ سے وہ لوگ جو پیچھے چھوڑ دیے گئے دیہایتوں میں سے، مشغول کر دیا تھا ہمیں ہمارے مالوں اور ہمارے اہل(و عیال) نے ، پس آپ مغفرت طلب کریں ہمارے لیے وہ کہتے ہیں اپنی زبانوں سے وہ (بات) کہ نہیں ہے وہ ان کے دلوں میں کہہ دیجیے! تو کون اختیار رکھتا ہے تمھارے لیے اللہ سے کسی چیز کا، اگر وہ ارادہ کرے تمھارے ساتھ نقصان کا یا ارادہ کرے تمھارے ساتھ نفع کا؟ (کوئی بھی نہیں)بلکہ ہے اللہ ساتھ اس کے جو تم عمل کرتے ہو خوب خبردار (11)بلکہ تم نے گمان کیا تھا یہ کہ ہرگز نہیں واپس لوٹیں گے رسول اور مومن اپنے اہل و عیال کی طرف کبھی بھی، اور مزین کر دی گئی تھی یہ بات تمھارے دلوں میں، اور گمان کر لیا تھا تم نے گمان برا اور تھے تم لوگ ہلاک ہونے والے (12) اور جو شخص نہیں ایمان لایا ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے تو بلاشبہ ہم نے تیار کی ہے (ایسے) کافروں کے لیے خوب بھڑکتی آگ (13)
[13-11] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ضعیف الایمان بدویوں کی مذمت بیان کی ہے جو جہاد فی سبیل اللہ میں رسول اللہﷺ کو چھوڑ کر پیچھے بیٹھ رہے، ان کے دلوں میں مرض اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں بدگمانی تھی۔ نیز وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ وہ رسول اللہﷺ کے پاس معذرت کر لیں گے کہ ان کے مال اور اہل و عیال کی مصروفیات نے ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلنے سے روکے رکھا۔ وہ رسول اللہﷺ سے درخواست کر لیں گے کہ آپ ان کے لیے استغفار کریں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يَقُوۡلُوۡنَ بِاَلۡسِنَتِهِمۡ۠ مَّا لَيۡسَ فِيۡ قُلُوۡبِهِمۡ﴾ ’’یہ اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں۔‘‘ رسول اللہﷺ سے استغفار کی درخواست کرنا، ان کی ندامت اور اپنے گناہ کے اقرار پر دلالت کرتا ہے، نیز اس امر کے اعتراف پر دلالت کرتا ہے کہ وہ جہاد سے پیچھے رہ گئے تھے، جس کے لیے توبہ و استغفار کی ضرورت ہے۔پس اگر ان کے دلوں میں یہ بیماری نہ ہوتی تو رسول اللہﷺ کا استغفار ان کے لیے فائدہ مند ہوتا کیونکہ انھوں نے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا ہے مگر ان کے دلوں میں جو مرض ہے کہ وہ جہاد چھوڑ کر اس لیے گھر بیٹھ رہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں برا گمان رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں ﴿ اَنۡ لَّنۡ يَّنۡقَلِبَ الرَّسُوۡلُ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ اِلٰۤى اَهۡلِيۡهِمۡ اَبَدًا﴾ ’’کہ رسول اور مومن اپنے اہل و عیال میں کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔‘‘ یعنی ان کو قتل کر کے نیست و نابود کر دیا جائے گا اور یہ برا گمان ان کے دلوں میں پرورش پاتا رہا، وہ اس پر مطمئن رہے حتیٰ کہ ان کے دلوں میں یہ بدگمانی مستحکم ہو گئی، اور اس کا سبب دو امور ہیں:(۱) وہ ﴿ قَوۡمًۢا بُوۡرًا﴾ہلاک ہونے والے لوگ ہیں، ان میں کوئی بھلائی نہیں، اگر ان میں کسی قسم بھلائی ہوتی تو ان کے دلوں میں یہ بدگمانی نہ ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے، دین کے لیے اس کی نصرت اور کلمۃ اللہ کو بلند کرنے کے بارے میں ان کا ایمان اور یقین کمزور ہے۔(۲) دوسرا سبب اللہ تعالیٰ کے وعدے، اس کے اپنے دین کی مدد کرنے اوراپنے کلمے کو بلند کرنے پر ان کے ایمان اور یقین کا کمزور ہونا ہے، اسی لیے فرمایا:﴿ وَمَنۡ لَّمۡ يُؤۡمِنۢۡ بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ ﴾ ’’اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے۔‘‘ یعنی وہ کافر اور عذاب کا مستحق ہے ﴿ فَاِنَّـاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلۡكٰفِرِيۡنَ سَعِيۡرًا﴾ تو ہم نے کفار کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔