Tafsir As-Saadi
54:33 - 54:40

جھٹلایا قوم لوط نے ڈرانے والوں کو (33) بلاشبہ ہم نے بھیجی ان پر پتھر برسا نے والی ہوا سوائے آل لوط کے، ہم نے نجات دی انھیں بوقتِ سحر (34) فضل کرتے ہوئے اپنے پاس سے اسی طرح ہم جزا دیتے ہیں اس کو جو شکر کرتا ہے (35) اور البتہ تحقیق (لوط نے) ڈرایا تھا انھیں ہماری پکڑ سے تو انھوں نے شک کیا ڈراوے میں (36) اور یقیناً انھوں نے مطالبہ کیا لوط سے اس کےمہمانوں کا تو مٹا دیں ہم نے ان کی آنکھیں پس چکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا (37) اور البتہ تحقیق ہلاک کر دیا ان کو صبح کے وقت عذاب دائمی نے (38) پس چکھو تم میرا عذاب اور میرا ڈرانا(39) اور یقیناً آسان کیا ہے ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے تو کیا ہے کوئی نصیحت پکڑنے والا؟ (40)

[40-33]﴿ كَذَّبَتۡ قَوۡمُ لُوۡطٍۭؔ ﴾ جب حضرت لوط uنے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک کی عبادت کی طرف بلایا اور انھیں شرک اور فحش کام سے روکا جو دنیا میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا تو انھوں نے لوطu کی تکذیب کی۔ پس انھوں نے آپ کو جھٹلایا اور اپنے شرک اور فواحش پر جمے رہے۔ حتیٰ کہ وہ فرشتے جو خوبصورت مہمانوں کی شکل میں آئے تھے ان کی آمد کے بارے میں جب حضرت لوط uکی قوم نے سنا تو جلدی سے آئے اور وہ ان مہمانوں کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان پر لعنت کرے۔ اور ان کا برا کرے۔ وہ ان مہمانوں کے بارے میں آپ کو فریب دینا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جبریلu کو حکم دیا انھوں نے ان کو اندھا کر ڈالا، ان کے نبی نے ان کو اللہ تعالیٰ کی گرفت اور سزا سے ڈرایا ﴿ فَتَمَارَوۡا بِالنُّذُرِ﴾’’تو انھوں نے ڈراوے میں شک کیا۔‘‘﴿ وَلَقَدۡ صَبَّحَهُمۡ بُؔكۡرَةً عَذَابٌ مُّسۡتَقِرٌّ ﴾ ’’اور یقیناً صبح سویرے ہی اٹل عذاب نے انھیں ہلاک کردیا ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی بستیوں کو تلپٹ کر کے نچلے کو الٹ کر اوپر کر دیا اس کے بعد ان پر لگاتار کھنگر کے پتھر برسائے۔ جو تیرے رب کے ہاں، حد سے گزرنے والوں کے لیے نشان زدہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط uاور ان کے گھر والوں کو، ان کی اپنے رب کی شکر گزاری اور اسی اکیلے کی عبادت کرنے کی جزا کے طور پر بہت بڑی مصیبت سے نجات دی۔