Tafsir As-Saadi
5:64 - 5:66

اور کہا یہود نے، ہاتھ اللہ کے بندھے ہوئے ہیں ۔ بند ہو جائیں ہاتھ انھی کے اور لعنت کیے جائیں بسبب ان کے قول کےبلکہ اس کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہیں ، وہ خرچ کرتا ہے جیسے چاہتا ہے اور یقینا زیادہ کرے گا بہتوں کو ان میں سے (وہ قرآن) جو اُتارا گیا آپ کی جانب، طرف سے آپ کے رب کی، سرکشی اور کفر میں ۔ اور ڈال دی ہم نے ان کے درمیان عداوت اور بغض قیامت کے دن تک جب کبھی جلاتے ہیں وہ آگ لڑائی کے لیے تو بجھا دیتا ہے اسے اللہ اور دوڑتے پھرتے ہیں وہ زمین میں فساد کرنے کو اور اللہ نہیں پسند کرتا فسادیوں کو(64) اور اگر بے شک اہل کتاب ایمان لے آئیں اور تقویٰ اختیار کر لیں تو یقینا دور کر دیں گے ہم ان سے ان کی برائیاں اور ضرور داخل کریں گے ان کو نعمت والے باغوں میں (65) اور اگر بے شک وہ قائم رکھتے تورات اور انجیل کو اور جو کچھ نازل کیا گیا ہے ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے تو یقینا کھاتے وہ اپنے اوپر سے اور اپنے پیروں کے نیچے سے ان میں سے ایک گروہ ہے درمیانی راہ چلنے والااور زیادہ لوگ ان میں سے، برا ہے جو وہ کررہے ہیں (66)

[64] اللہ تبارک و تعالیٰ یہود کے انتہائی خبیث قول اور ان کے قبیح ترین عقیدے کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے ﴿ وَقَالَتِ الۡيَهُوۡدُ يَدُ اللّٰهِ مَغۡلُوۡلَةٌ﴾ ’’یہود نے کہا، اللہ کا ہاتھ بند ہو گیا ہے‘‘ یعنی بھلائی احسان اور نیکی سے ﴿ غُلَّتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ وَلُعِنُوۡا بِمَا قَالُوۡا﴾ ’’انھی کے ہاتھ بند ہو جائیں اور لعنت ہے ان کے اس کہنے پر‘‘ یہ انھی کی گفتگو کی جنس کے ساتھ ان کے لیے بددعا ہے چونکہ ان کی یہ بدگوئی اللہ کریم کو بخل اور عدم احسان کی صفات سے متصف کرنے کی متضمن ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان پر اسی وصف کو منطبق کرکے ان کو اس بدگوئی کا بدلہ دیا ہے۔ پس یہود بخیل ترین، نیکی کے اعتبار سے قلیل ترین، اللہ تعالیٰ کے بارے میں سوء ظنی میں بدترین اور اللہ تعالیٰ کی اس رحمت سے بعید ترین لوگ ہیں جو ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور جس سے تمام عالم علوی اور سفلی لبریز ہیں ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ بَلۡ يَدٰهُ مَبۡسُوۡطَتٰنِ١ۙ يُنۡفِقُ كَيۡفَ يَشَآءُ﴾’’بلکہ اس کے تو دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں ، وہ جیسے چاہتا ہے خرچ کرتا ہے‘‘ اس پر کوئی پابندی عائد نہیں اور کوئی روکنے والا نہیں جو اسے اپنے ارادے سے روک سکے۔ اس کا فضل و کرم اور دینی اور دنیاوی احسان بہت وسیع ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے جود و کرم کے جھونکوں سے مستفید ہوں ۔ وہ اپنی نافرمانیوں کے ذریعے سے اپنے آپ پر اس کے فضل و احسان کے دروازے بند نہ کریں ۔ اس کی داد و دہش دن رات جاری ہے، اس کی عطا و بخشش ہر وقت موسلا دھار بارش کی مانند ہے۔وہ دکھوں کو دور کرتا ہے، غموں کا ازالہ کرتا ہے، محتاج کو بے نیاز کرتا ہے، قیدی کو آزاد کرتا ہے، ٹوٹے ہوئے کو جوڑتا ہے، مانگنے والے کی دعا قبول کرتا ہے۔ محتاج کو عطا کرتا ہے، مجبوروں کو ان کی پکار کا جواب دیتا ہے، سوال کرنے والوں کے سوال کو پورا کرتا ہے۔ جو اس سے سوال نہیں کرتا اسے بھی نعمتیں عطا کرتا ہے، جو اس سے عافیت طلب کرتا ہے اسے عافیت عطا کرتا ہے، وہ کسی نافرمان کو اپنی بھلائی سے محروم نہیں کرتا بلکہ نیک اور بد سب اس کی بھلائی سے بہرہ ور ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے اولیا کو نیک اعمال کی توفیق سے نوازتا ہے جو اس کا جود و کرم ہے، پھر وہ ان اعمال پر ان کی تعریف کرتا اور ان کی اضافت ان کی طرف کرتا ہے اور یہ بھی اس کے جودوکرم کا نتیجہ ہے اور ان کو دنیا و آخرت میں ایسا ثواب عطا کرتا ہے کہ زبان اس کے بیان سے قاصر ہے اور بندے کے طائر خیال کی اس تک رسائی ممکن نہیں ۔ وہ تمام امور میں ان کو لطف و کرم سے نوازتا ہے۔ وہ اپنا احسان ان تک پہنچاتا رہتا ہے۔ وہ اپنے طور پر ہی ان سے بہت سی مصیبتیں دور کر دیتا ہے کہ ان کو اس کا شعور تک نہیں ہوتا۔پاک ہے وہ ذات کہ بندوں کے پاس جو نعمت ہے وہ اسی کی طرف سے ہے اور تکالیف کو دور کرنے کے لیے اسی کے سامنے گڑگڑاتے ہیں اور برکت والی ہے وہ ذات جس کی مدح و ثنا کو کوئی شمار نہیں کر سکتا، بس وہ ایسے ہے جیسے اس نے خود اپنی مدح و ثنا بیان کی۔ بالا و بلند ہے وہ ہستی کہ بندے ایک لمحے کے لیے بھی اس کے فضل و کرم سے علیحدہ نہیں ہوتے بلکہ ان کا وجود اور ان کی بقا اسی کے جود و کرم کی مرہون ہے۔اللہ تعالیٰ برا کرے ان لوگوں کا جو اپنی جہالت کی بنا پر اپنے آپ کو اپنے رب سے بے نیاز سمجھتے ہیں اور اس کی طرف ایسے امور منسوب کرتے ہیں جو اس کی جلالت کے لائق نہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ ان یہود کے ساتھ، جنھوں نے یہ بدگوئی کی ہے اور ان جیسے دیگر لوگوں کے ساتھ ان کے کسی قول پر معاملہ کرتا تو وہ ہلاک ہو جاتے اور دنیا میں بدبختی کا شکار ہو جاتے۔ مگر وہ اس قسم کی گستاخانہ باتیں کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے بردباری سے پیش آتا ہے اور ان سے درگزر فرماتا ہے، ان کو ڈھیل دیتا ہے مگر ان کو مہمل نہیں چھوڑتا۔﴿ وَلَيَزِيۡدَنَّ كَثِيۡرًا مِّؔنۡهُمۡ مَّاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا﴾’’اور یقینا ان میں سے بہتوں کو، وہ کلام جو آپ پر آپ کے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے، سرکشی اور کفر میں ہی بڑھائے گا‘‘ یہ بندے کے لیے سب سے بڑی سزا ہے کہ وہ ذکر، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ پر نازل کیا ہے جس میں قلب و روح کی زندگی، دنیا و آخرت کی سعادت اور فلاح ہے جو اللہ کا سب سے بڑا احسان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سعادت کے ذریعے سے اپنے بندوں پر احسان فرمایا ہے جو ان پر واجب ٹھہراتی ہے کہ وہ اسے قبول کرنے کے لیے آگے بڑھیں ، اس کے سبب سے اللہ کے سامنے سر جھکا دیں ، اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں ... وہی ذکر اس کی گمراہی، سرکشی اور کفر میں اضافے کا باعث بن جائے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس نے اس سے روگردانی کی اور اسے ٹھکرا دیا اس سے عناد رکھا اور شبہات باطلہ کی بنا پر اس کی مخالفت کی۔﴿ وَاَلۡقَيۡنَا بَيۡنَهُمُ الۡعَدَاوَةَ وَالۡبَغۡضَآءَؔ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ﴾ ’’اور ہم نے ڈال دی ہے ان کے درمیان دشمنی اور بغض قیامت کے دن تک‘‘ پس وہ ایک دوسرے سے محبت نہیں کریں گے، ایک دوسرے کی مدد نہیں کریں گے اور وہ کسی ایسی بات پر متفق نہیں ہوں گے جس میں ان کی کوئی مصلحت ہو۔ بلکہ وہ ہمیشہ اپنے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف کینہ اور بغض رکھیں گے اور قیامت تک ایک دوسرے پر ظلم اور تعدی کا ارتکاب کرتے رہیں گے۔ ﴿ كُلَّمَاۤ اَوۡقَدُوۡا نَارًا لِّلۡحَرۡبِ ﴾ ’’جب کبھی آگ سلگاتے ہیں لڑائی کے لیے‘‘ تاکہ اس طرح وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کریں ، ان کے خلاف چالیں چلیں اور ان پر سوار اور پیادے چڑھا لائیں ﴿ اَطۡفَاَهَا اللّٰهُ﴾ ’’اللہ اس کو بجھا دیتا ہے‘‘ اللہ تعالیٰ ان کو بے یارومددگار چھوڑ کر، ان کے لشکروں کو منتشر کر کے، ان کے خلاف مسلمانوں کی نصرت فرما کر اس آگ کو بجھا دیتا ہے۔ ﴿ وَيَسۡعَوۡنَ فِي الۡاَرۡضِ فَسَادًا﴾ ’’اور یہ ملک میں فساد کے لیے دوڑے پھرتے ہیں ۔‘‘ یعنی زمین میں فساد پھیلانے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں ۔ معاصی کا ارتکاب کرتے ہیں ، اپنے باطل دین کی طرف دعوت دیتے ہیں اور لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے سے روکتے ہیں ﴿ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الۡمُفۡسِدِيۡنَ﴾ ’’اور اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘ بلکہ ان کے ساتھ سخت ناراض ہوتا ہے وہ عنقریب انھیں اس کی سزا دے گا۔
[65] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ وَلَوۡ اَنَّ اَهۡلَ الۡكِتٰبِ اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَكَـفَّرۡنَا عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ وَلَاَدۡخَلۡنٰهُمۡ۠ جَنّٰتِ النَّعِيۡمِ﴾ ’’اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور ڈرتے تو ہم ان سے ان کی برائیاں دور کر دیتے اور ان کو نعمت والے باغوں میں داخل کرتے‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کا جود و کرم ہے کہ جہاں اس نے اہل کتاب کی برائیوں اور ان کے معایب اور ان کے اقوال باطلہ کا ذکر فرمایا ہے، وہاں ان کو توبہ کی طرف بھی بلایا ہے اور یہ کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر اس کے فرشتوں ، اس کی تمام کتابوں اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لے آئیں اور گناہوں سے پرہیز کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی تمام برائیاں ، خواہ کتنی ہی کیوں نہ ہوں ، مٹا دے گا اور ان کو نعمتوں سے بھری ہوئی جنت میں داخل کرے گا جس میں وہ کچھ ہے کہ نفس اس کی چاہت رکھتے ہیں اور آنکھیں اس سے لذت اٹھاتی ہیں ۔
[66]﴿ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ اَقَامُوا التَّوۡرٰىةَ وَالۡاِنۡجِيۡلَ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِمۡ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ ﴾ ’’اگر وہ قائم کرتے تورات، انجیل اور اس کو جو نازل کیا گیا ان پر، ان کے رب کی طرف سے‘‘ یعنی اگر وہ تورات و انجیل کے احکام کو قائم کرتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو توجہ دلائی اور ان کو ترغیب دی ہے۔ تورات و انجیل کو قائم کرنے سے مراد ان امور پر ایمان لانا ہے جن کی طرف یہ دونوں کتابیں دعوت دیتی ہیں ، یعنی محمد مصطفیﷺ اور قرآن پر ایمان لانا۔اگر وہ اس عظیم نعمت کو قائم کرتے جس کو ان کے رب نے ان کی طرف نازل فرمایا ہے یعنی ان کی خاطر اور ان کے ساتھ اعتنا کی بنا پر اس نعمت کو ان کی طرف نازل کیا ہے ﴿ لَاَكَلُوۡا مِنۡ فَوۡقِهِمۡ وَ مِنۡ تَحۡتِ اَرۡجُلِهِمۡ﴾ ’’تو وہ کھاتے اپنے اوپر سے اور اپنے پاؤں کے نیچے سے‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان پر رزق کے دروازے کھول دیتا، آسمان سے ان پر بارش برساتا اور زمین ان کے لیے فصلیں اگاتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ وَلَوۡ اَنَّ اَهۡلَ الۡقُرٰۤى اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَفَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ بَرَؔكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ ﴾(الاعراف: 7؍96)’’اگر بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر زمین اور آسمان کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔‘‘﴿ مِنۡهُمۡ ﴾ ’’ان میں سے‘‘ یعنی اہل کتاب میں سے ﴿ اُمَّةٌ مُّقۡتَصِدَةٌ﴾ ’’ایک گروہ ہے سیدھی راہ پر‘‘ یعنی ایک گروہ ایسا بھی ہے جو تورات و انجیل پر عامل ہے مگر اس کا عمل قوی اور نشاط انگیز نہیں ہے ﴿ وَؔكَثِيۡرٌ مِّؔنۡهُمۡ سَآءَؔ مَا يَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’اور بہت سے ایسے ہیں جن کے اعمال برے ہیں ۔‘‘ یعنی ان میں برائیوں کا ارتکاب کرنے والے بہت زیادہ ہیں اور نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے بہت کم ہیں ۔