Tafsir As-Saadi
52:1 - 52:16

قسم ہے طور (پہاڑ ) کی(1) اور ایک کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے(2) کاغذ میں جو کھلا ہوا ہے(3) اور بیت المعمور کی(4) اور چھت بلند کی ہوئی کی(5) اور سمندر بھڑکائے ہوئے کی(6) بلاشبہ عذاب آپ کے رب کا ضرور واقع ہونے والا ہے(7) نہیں ہے اسے کوئی دفع کرنے والا(8)(واقع ہو گا)جس دن تیزی سے حرکت کرے گا آسمان تیزی سے حرکت کرنا(9) اور چلیں گے پہاڑ چلنا (10) پس ہلاکت ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے (11) وہ لوگ کہ وہ (تکذیب میں) مشغول ہیں کھیل رہے ہیں (12) جس دن سختی سے دھکیلے جائیں گے وہ آتش جہنم کی طرف سختی سے دھکیلا جانا (13)(کہا جائے گا:)یہی ہے، وہ آگ وہ جو تھے تم اس کو جھٹلاتے (14) کیا پس جادو ہے یہ؟ یا تم نہیں دیکھتے؟ (15) داخل ہو جاؤ تم اس میں، پس صبر کرو یا نہ صبر کرو برابر ہے تم پر، یقیناً جزا دیے جاؤ گے تم جو کچھ کہ تھے تم عمل کرتے (16)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالی جلیل القدر حکمتوں پر مشتمل عظیم امور کے ساتھ حیات بعد الموت اور متقین اور مکذبین کی جزا و سزا پر۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوہ طور کی قسم کھائی، طور وہ پہاڑ ہے جہاں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰu سے ہم کلام ہوا اور اس نے ان کی طرف وحی بھیجی اور ان پر احکام شریعت نازل فرمائے، یہ حضرت موسیٰu اور آپ کی امت پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے، جو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیاں اور اس کی نعمتیں ہیں، بندے جن کو شمار کر سکتے ہیں نہ ان کی قیمت کا اندازہ کر سکتے ہیں۔
[2]﴿ وَؔكِتٰبٍ مَّسۡطُوۡرٍ﴾ ’’اور کتاب کی (قسم) جو لکھی ہوئی ہے۔‘‘ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد لوح محفوظ ہو جس میں اللہ تعالیٰ نے ہر چیز لکھ رکھی ہے اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد قرآن کریم ہو جو سب سے افضل کتاب ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح نازل کیا ہے کہ وہ اولین و آخرین کی خبروں اور سابقین و لاحقین کے علوم پر مشتمل ہے۔
[3]﴿ فِيۡ رَقٍّ ﴾ یعنی اوراق میں لکھا گیا ہے جو بالکل ظاہر ہے، مخفی نہیں ہے اور اس کا حال ہر خرد مند اور صاحب بصیرت سے چھپا ہوا نہیں ہے۔
[4]﴿ وَّالۡبَيۡتِ الۡمَعۡمُوۡرِ﴾ ’’اور بیت معمور کی (قسم)۔‘‘ یہ وہ گھر ہے جو ساتویں آسمان سے اوپر واقع ہے جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کے مکرم فرشتوں سے معمور رہتا ہے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہو کر اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں ، پھر قیامت تک دوبارہ ان کی باری نہیں آئے گی۔ کہا جاتا ہے کہ ’’بیت معمور‘‘ سے مراد بیت اللہ ہے جو ہر وقت طواف کرنے والوں، نماز پڑھنے والوں، ذکر کرنے والوں اور حج و عمرہ کے لیے آنے والوں سے آباد رہتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں قسم کھائی ہے :﴿ وَهٰؔذَا الۡبَلَدِ الۡاَمِيۡنِ﴾(التین 95؍3) ’’اور اس امن والے شہر کی قسم۔‘‘ وہ گھر جو روئے زمین کے تمام گھروں سے افضل ہے، لوگ حج اور عمرہ کے لیے اس کا قصد کرتے ہیں جو اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن اوراس کی ان عظیم بنیادوں پر قائم ہے جن کے بغیر یہ مکمل نہیں ہوتا ۔ یہ وہ گھر ہے جس کو حضرت ابراہیمu اور حضرت اسماعیلu نے تعمیر کیا، جس کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے جمع ہونے اور امن کی جگہ مقرر فرمایا یہ اس بات کا مستحق ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی قسم کھائے اور اس کی عظمت کو بیان فرمائے جو اس گھر کے اور اس کی حرمت کے لائق ہے۔
[5]﴿ وَالسَّقۡفِ الۡمَرۡفُوۡعِ﴾ ’’اور اونچی چھت کی (قسم)۔‘‘ یعنی آسمان کی جس کو اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کے لیے چھت اور زمین کے لیے آبادی کی بنیاد بنایا، زمین کی خوش نمائیاں آسمان سے مدد لیتی ہیں، آسمان کی علامات اور روشنیوں سے راہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش، رحمت اور انواع و اقسام کے رزق نازل کرتا ہے۔
[6]﴿ وَالۡبَحۡرِ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ یعنی پانی سے لبریز سمندر کی قسم! اللہ تعالیٰ نے اسے پانی سے لبریز کر دیا اور ساتھ ہی ساتھ اسے بہہ کر روئے زمین پر پھیل جانے سے روک دیا، حالانکہ پانی کی فطرت یہ ہے کہ وہ زمین کو ڈھانپ لیتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ یہ پانی کو ادھر ادھر بہہ جانے سے روک دے تاکہ روئے زمین پر مختلف حیوانات زندہ رہ سکیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ﴿ الۡمَسۡجُوۡرِ﴾ سے مراد وہ سمندرہے جس میں قیامت کے دن آگ بھڑکائی جائے گی، اس کے شعلے بھڑک رہے ہوں گے اور وہ اپنی کشادگی کے باوجود عذاب کی مختلف اصناف سے بھرا ہوا ہو گا۔
[7] یہ اشیاء جن کی اللہ تبارک و تعالیٰ نے قسم کھائی ہے دلالت کرتی ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں، اس کی توحید کے دلائل، اس کی قدرت اور حیات بعد الموت کے براہین ہیں۔ بنابریں فرمایا :﴿ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ﴾ یعنی تیرے رب کے عذاب کا واقع ہونا لازمی ہے، اللہ تعالیٰ اپنے قول اور وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔
[8]﴿ مَّا لَهٗ مِنۡ دَافِعٍ﴾ ’’اسے کوئی روکنے والا نہیں۔‘‘ کوئی ایسی ہستی نہ ہو گی جو اسے دور ہٹا سکے اور نہ کوئی ایسا مانع ہو گا جو اسے روک سکے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کوئی مقابلہ کر سکتا ہے نہ کوئی بھاگ کر اس سے بچ سکتا ہے۔
[9] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس دن کا وصف بیان فرمایا، جس دن یہ عذاب واقع ہو گا، چنانچہ فرمایا:﴿يَّوۡمَ تَمُوۡرُ السَّمَآءُ مَوۡرًا﴾ ’’جس دن آسمان تیز تیز حرکت کرنے لگے گا۔‘‘ یعنی گھومے گا اور مضطرب ہو گا۔ بے قراری اور عدم سکون کی وجہ سے دائمی طور پر متحرک رہے گا۔
[10]﴿ وَّتَسِيۡرُ الۡجِبَالُ سَيۡرًا ﴾ یعنی پہاڑ اپنی جگہوں سے ہل جائیں گے اور بادل کی مانند چلیں گے اور وہ ایسے رنگ برنگے ہو جائیں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ برنگی اون۔ اس کے بعد یہ پہاڑ بکھر جائیں گے یہاں تک کہ وہ غبار بن جائیں گے۔ یہ سب کچھ قیامت کے دن کی ہولناکیوں کی وجہ سے ہو گا۔ تب بے چارے کمزور آدمی کا کیا حال ہو گا؟
[11]﴿ فَوَيۡلٌ يَّوۡمَىِٕذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ ﴾ ’’پس اس دن جھٹلانے والوں کے لیے خرابی ہے۔‘‘ اَلْوَیْل ہر قسم کی عقوبت، حزن و غم، عذاب اور خوف کے لیے ایک جامع کلمہ ہے۔
[12] پھر اللہ تعالیٰ نے ان جھٹلانے والوں کا وصف بیان فرمایا جو اس ویل کے مستحق ہیں۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: ﴿الَّذِيۡنَ هُمۡ فِيۡ خَوۡضٍ يَّلۡعَبُوۡنَؔ﴾ ’’جو اپنی بے ہودہ گوئی میں اچھل کود کر رہے ہیں۔‘‘ یعنی وہ باطل میں گھس کر اس سے کھیل رہے ہیں، پس ان کے تمام علوم اور ان کی تمام ضرررساں علمی تحقیقات تکذیبِ حق اور تصدیق باطل کو متضمن ہیں، ان کے تمام اعمال، جہلاء، سفہاء اور لہو ولعب میں مشغول لوگوں کے اعمال ہیں، بخلاف ان اعمال کے جن پر اہلِ تصدیق اور اہلِ ایمان کار بند ہیں، یعنی علوم نافعہ اور اعمالِ صالحہ۔
[13، 14]﴿ يَوۡمَ يُدَعُّوۡنَ اِلٰى نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا﴾ یعنی جہنم کی آگ کی طرف دھکیلے اور نہایت درشتی سے انھیں ہانکا جائے گا، انھیں چہروں کے بل گھسیٹا جائے گا اور زجر و توبیخ اور ملامت کے طور پر انھیں کہا جائے گا :﴿هٰؔذِهِ النَّارُ الَّتِيۡ كُنۡتُمۡ بِهَا تُكَذِّبُوۡنَ﴾ ’’یہی وہ آگ ہے جسے تم جھوٹ سمجھتے تھے۔‘‘ آج دائمی عذاب کا مزہ چکھو جس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ اس کا وصف بیان ہو سکتا ہے۔
[15]﴿ اَفَسِحۡرٌ هٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ ’’کیا پھر یہ جادو ہے؟ یا تم دیکھتے ہی نہیں۔‘‘ اس میں یہ احتمال ہے کہ اشارہ جہنم اور عذاب کی طرف ہو جیسا کہ آیات کا سیاق دلالت کرتا ہے، یعنی جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو جھڑکنے کے انداز میں ان سے پوچھا جائے گا: کیا یہ جادو ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں اور تم نے اسے دیکھ لیا ہے یا تم دنیا کے اندر دیکھ نہیں سکتے تھے ، یعنی تمھارے اندر کوئی بصیرت تھی نہ تم علم رکھتے تھے، بلکہ تم اس معاملے میں بالکل جاہل تھے اور تم پر حجت قائم نہ ہوئی تھی؟‘‘ اور جواب دونوں امور کی نفی ہے۔ رہا اس کا جادو ہونا تو تم پر یہ حقیقت پوری طرح واضح تھی کہ یہ سب سے بڑا حق اور سب سے بڑی سچائی ہے جو ہر لحاظ سے جادو کے منافی ہے۔ رہا ان کا (دنیا کے اندر) بصیرت سے محروم ہونا تو معاملہ اس کے برعکس ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہوئی، انبیاء و مرسلین نے ان کو ایمان کی طرف دعوت دی، ان پر دلائل و براہین قائم کیے جنھوں نے اسے سب سے بڑی، سب سے واضح جلیل القدر اور ثابت شدہ حقیقت بنا دیا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد:﴿ اَفَسِحۡرٌهٰؔذَاۤ اَمۡ اَنۡتُمۡ لَا تُبۡصِرُوۡنَ﴾ میں اشارہ اس حق مبین اور صراط مستقیم کی طرف ہو جسے لے کر محمد مصطفیﷺ مبعوث ہوئے ہیں، کیا کوئی ایسا شخص جو عقل سے بہرہ مند ہے، اس کے بارے میں یہ کہنے کا تصور کر سکتا ہے کہ یہ جادو ہے، حالانکہ یہ عظیم ترین اور جلیل ترین حق ہے؟ مگر وہ بصیرت سے محروم ہونے کی وجہ سے ایسی باتیں کر رہے ہیں۔
[16]﴿ اِصۡلَوۡهَا﴾ یعنی اس جہنم میں اس طرح داخل ہو جاؤ کہ یہ تمھیں گھیر لے، تمھارے بدنوں کو پوری طرح اپنی گرفت میں لے لے اور تمھارے دلوں تک جا پہنچے۔ ﴿ فَاصۡبِرُوۡۤا اَوۡ لَا تَصۡبِرُوۡا١ۚ سَوَآءٌ عَلَيۡكُمۡ﴾ ’’پس تم صبر کرو یا نہ کرو تمھارے لیے یکساں ہے۔‘‘ یعنی جہنم کے اندر صبر تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا، تم ایک دوسرے کو تسلی دے سکو گے نہ تمھارے عذاب میں تخفیف کی جائے گی۔ یہ عذاب ان امور میں سے نہیں، جن پر بندہ صبر کرتا ہے تو ان کی مشقت کم اور ان کی شدت زائل ہو جاتی ہے۔ ان کے ساتھ یہ سب کچھ ان کے گندے اعمال اور ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ بنابریں فرمایا:﴿اِنَّمَا تُجۡزَوۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ﴾ ’’تمھیں اسی چیز کا بدلہ دیا جاتا ہے جو تم کرتے رہے۔‘‘