Tafsir As-Saadi
6:126 - 6:127

اور یہ ہے راستہ آپ کے رب کا سیدھا، تحقیق مفصل بیان کردیں ہم نے آیات ان لوگوں کے لیے جو نصیحت حاصل کرتے ہیں(126)ان کے لیے ہے گھر سلامتی کا، نزدیک ان کے رب کےاور وہی دوست ہے ان کا بہ سبب اس کے جو تھے وہ عمل کرتے(127)

[126] یعنی آپ کے رب تک اور عزت و تکریم کے گھر تک پہنچانے والا راستہ معتدل راستہ ہے جس کے احکام واضح کر دیے گئے ہیں جس کے قوانین کی تفصیل یہاں بیان کر دی گئی ہے اور خیر کو شر سے ممیز کر دیا گیا۔ یہ تفصیل و توضیح ہر شخص کے لیے نہیں ہے بلکہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو نصیحت پکڑتے ہیں۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو علم رکھتے ہیں ، پھر اپنے علم سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ ان کے لیے بہت بڑی جزا اور خوبصورت اجر تیار کیا گیا ہے۔
[127] اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَهُمۡ دَارُ السَّلٰمِ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ﴾ ’’ان کے لیے سلامتی کا گھر ہے ان کے رب کے ہاں ‘‘ چونکہ جنت ہر عیب، آفت و تکدر اور غم و ہموم جیسی ناخوشگواریوں سے سلامت اور پاک ہے، اس لیے اس کو ’’دار السلام‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ اور اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ جنت کی نعمتیں انتہائی کمال کو پہنچی ہوئی ہوں گی، کہ کوئی ان کا وصف بیان کرنے کی قدرت نہیں رکھتا ہے۔ جنت کے اندر قلب و روح اور بدن کے لیے نعمتوں کے جو سامان ہیں تمنا کرنے والے اس سے بڑھ کر کسی نعمت کی تمنا نہیں کر سکتے۔ اس جنت میں ان کے لیے وہ سب کچھ ہو گا جو ان کے دل چاہیں گے اور جس سے ان کی آنکھوں کو لذت حاصل ہو گی اور وہ اس جنت میں ابد الآباد تک رہیں گے۔ ﴿ وَهُوَ وَلِيُّهُمۡ﴾ ’’وہی ان کا ولی و مددگار ہے‘‘ جو ان کی تدبیر اور تربیت کا مالک ہے، وہ ان کے تمام معاملات میں ان کے ساتھ لطف و کرم سے پیش آتا ہے جو اپنی اطاعت پر ان کی مدد کرتا ہے اور ان کے لیے ہر وہ راستہ آسان کرتا ہے جو انھیں اس کی محبت کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ اور وہ ان کی سرپرستی اپنے ذمے صرف اس لیے لیتا ہے کہ وہ نیک اعمال بجا لاتے اور ایسے کام آگے بھیجتے ہیں جن سے ان کا مقصد اپنے آقا کی رضامندی حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس وہ شخص ہے جس نے اپنے آقا سے روگردانی کی اور اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا رہا تو اللہ تعالیٰ اس پر شیطان مسلط کر دیتا ہے جو اس کا سرپرست بن کر اس کے دین و دنیا کو تباہ کر دیتا ہے۔