Tafsir As-Saadi
6:128 - 6:135

اور جس دن وہ اکٹھا کرے گا ان سب کو، (توفرمائے گا) اے گروہ جنوں کے! تحقیق بہت زیادہ (گمراہ)کیے تھے تم نے انسانوں میں سے اور کہیں گے ان کے دوست انسانوں سے، اے ہمارے رب!فائدہ اٹھایا ہمارے ایک نے دوسرے سےاور پہنچے ہم اس میعاد کوجو مقررفرمائی تھی تو نے ہمارے لیے،(اللہ) فرمائے گا: آگ ہی ٹھکانا ہے تمھارا، ہمیشہ رہوگے(تم)اس میں مگر جو چاہے اللہ، یقینا آپ کا رب حکمت والا ہے خوب جاننے والا(128) او ر اسی طرح مسلط کردیتے ہم بعض ظالموں کو بعض پر، بہ سبب اس کے جو تھے وہ کماتے(129)اے جماعت جنوں اور انسانوں کی! کیا نہیں آئے تھے تمھارے پاس رسول تم میں سے، وہ بیان کرتے تھے تم پر میری آیات اور ڈراتے تھے تمھیں ملاقات سے تمھارے اس دن کی؟ تو وہ کہیں گے!گواہی دیتے ہم اپنے آپ پراور دھوکے میں ڈالے رکھا انھیں زندگانئ دنیا نےاور گواہی دیں گے وہ اپنے آپ پر کہ بے شک وہ تھے کفر کرنے والے (130) یہ (رسول بھیجنا) اس لیے کہ نہیں ہے آپ کا رب ہلاک کرنے والا بستیوں کو ظلم سے جبکہ ان کے باشندے غافل ہوں(131) اور ہر ایک کے درجے ہیں بہ سبب اس کے جو عمل کیے انھوں نے،اور نہیں آپ کا رب غافل اس سے جو وہ عمل کرتے ہیں(132) اور آپ کا رب بے نیاز ہے رحمت والا، اگر وہ چاہے تو لے جائے تمھیں اور جانشین بنا دے بعدتمھارے جنھیں وہ چاہے، جس طرح کہ پیدا فرمایا اس نے تمھیں نسل سے دوسرے لوگوں کی(133) بلاشبہ جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو، یقینا وہ آنے والی ہےاور نہیں تم عاجز کرنے والے(134) کہہ دیجیے، اے میری قوم!عمل کرو تم اپنے مقام پر، بے شک میں عمل کرنے والا ہوں (اپنی جگہ پر) پس عنقریب جان لوگے تم اس شخص کو کہ ہے اس کے لیے (اچھا) انجام آخرت کا، یقینا نہیں فلاح پائیں گے ظالم(135)

[128]﴿ وَيَوۡمَ يَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا﴾ ’’اور جس دن جمع کرے گا ان سب کو‘‘ یعنی تمام جن و انس کو، ان میں سے جو گمراہ ہوئے اور جنھوں نے دوسروں کو گمراہ کیا۔ اللہ تعالیٰ جنوں کو، جنھوں نے انسانوں کو گمراہ کیا، برائی کو ان کے سامنے مزین کیا اور ارتکاب معاصی میں ان کی مدد کی، زجز و توبیح کرتے ہوئے فرمائے گا ﴿يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ قَدِ اسۡتَكۡثَرۡتُمۡ مِّنَ الۡاِنۡسِ﴾ ’’اے گروہ جنات! تم نے انسانوں سے بہت (فائدے) حاصل کیے۔‘‘ یعنی اے جنوں کی جماعت! تم نے انسانوں کو خوب گمراہ کیا اور ان کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا۔ تم نے کیسے میرے محارم کی خلاف ورزی کی اور میرے رسولوں کے ساتھ عناد رکھنے کی جرأت کی اور تم اللہ تعالیٰ کے خلاف جنگ کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اس کے راستے سے روکنے اور جہنم کے راستے پر دھکیلنے کی کوشش کی؟ آج تم میری لعنت کے حق دار ہو اور تم پر میری ناراضی واجب ہو گئی۔ آج ہم تمھیں ، تمھارے کفر اور دوسروں کو گمراہ کرنے کے مطابق زیادہ عذاب دیں گے۔ آج تمھارے پاس کوئی عذر نہیں جو پیش کر سکو، کوئی ٹھکانا نہیں جہاں تم پناہ لے سکو، کوئی سفارشی نہیں جو تمھاری سفارش کر سکے اور نہ تمھاری پکار ہی سنی جائے گی۔ اس وقت مت پوچھیے کہ ان پر سزا کے کون سے پہاڑ ٹوٹیں گے اور انھیں کون سی رسوائی اور وبال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے کسی عذر کا ذکر نہیں فرمایا۔ رہے ان کے دوست انسان تو وہ عذر پیش کریں گے جسے قبول نہیں کیا جائے گا ﴿ رَبَّنَا اسۡتَمۡتَعَ بَعۡضُنَا بِبَعۡضٍ﴾ ’’اے رب ہمارے! فائدہ اٹھایا ہم میں سے ایک نے دوسرے سے‘‘ یعنی تمام جنوں اور انسانوں نے ایک دوسرے سے خوب فائدہ اٹھایا۔ جنوں نے انسانوں سے اپنی اطاعت، اپنی عبادت اور اپنی تعظیم کروا کے اور ان کی پناہ کی طلب سے فائدہ اٹھایا۔ اور انسان جنوں کی خدمت کے مطابق اپنی اغراض اور شہوات کے حصول میں ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ انسان جنوں کی عبادت کرتے ہیں ، جن ان کی خدمت کرتے ہیں اور ان کی دنیاوی حاجتیں پوری کرتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ ہم سے بہت ہی گناہ سرزد ہوئے اور اب ان کا لوٹانا ممکن نہیں ﴿ وَّبَلَغۡنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِيۡۤ اَجَّلۡتَ لَنَا﴾ ’’اور ہم پہنچے اپنے اس وعدے کو جو تو نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا‘‘ یعنی اب ہم اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہمیں ہمارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اب تو جو چاہے ہمارے ساتھ سلوک کر اور جو تیرا ارادہ ہے ہمارے بارے میں ، وہی فیصلہ کر۔ ہماری حجت تو منقطع ہو گئی، ہمارے پاس کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ معاملہ وہی ہو گا جو تیرا حکم ہے۔ فیصلہ وہی ہے جو تیرا فیصلہ ہے۔ ان کے اس کلام میں ایک قسم کی گریہ زاری اور رقت ہے مگر یہ سب کچھ بے وقت اور بے موقع ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں عدل پر مبنی فیصلہ جو ظلم و جور سے پاک ہے، کرتے ہوئے فرمایا ﴿النَّارُ مَثۡوٰىكُمۡ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ ﴾ ’’تمھارا ٹھکانا جہنم ہے تم ہمیشہ اس کی آگ میں (جلتے) رہو۔‘‘ چونکہ یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کی حکمت اور علم کا تقاضا کرتا ہے، اس لیے فرمایا ﴿ اِنَّ رَبَّكَ حَكِيۡمٌ عَلِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تمھارا رب دانا، خبردار ہے۔‘‘ جیسے اس کا علم تمام اشیا کا احاطہ کیے ہوئے ہے، ویسے ہی اس کی بے انتہا حکمت تمام اشیا پر عام اور تمام اشیا کو شامل ہے۔
[129]﴿وَؔكَذٰلِكَ نُوَلِّيۡ بَعۡضَ الظّٰلِمِيۡنَ بَعۡضًۢا بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ﴾ ’’اور اسی طرح ہم ساتھی بنا دیتے ہیں گناہ گاروں کو ایک دوسرے کا، ان کے اعمال کے سبب‘‘ یعنی جیسے ہم سرکش جنوں کو مسلط کر دیتے ہیں کہ وہ انسانوں میں سے اپنے دوستوں کو گمراہ کریں اور ہم ان کے کسب و کوشش کے سبب سے ان کے درمیان موالات اور موافقت پیدا کر دیتے ہیں ۔ اسی طرح یہ ہماری سنت ہے کہ ہم کسی ظالم کو اسی جیسے کسی ظالم پر مسلط کر دیتے ہیں جو اسے شر پر آمادہ کرتا ہے اور اس کو شر کی ترغیب دیتا ہے، خیر میں بے رغبتی پیدا کر کے اسے اس سے متنفر کرتا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی سزا ہے جو بہت خطرناک ہے اور اس کا اثر بہت برا ہے۔ گناہ كرنے واالا ظالم ہی ہے۔ پس یہ وہ شخص ہے جو اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے اور جن بھی اس کو نقصان پہنچاتا ہے ﴿ وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ﴾(حم السجدۃ: 41؍46) ’’اور تیرا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔‘‘ ظالموں کو مسلط کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ جب بندوں کا فساد اور ظلم بہت بڑھ جاتا ہے اور وہ حقوق واجبہ ادا نہیں کرتے تو ان پر ظالم مسلط کر دیے جاتے ہیں جو انھیں بدترین عذاب میں مبتلا کر دیتے ہیں اور وہ ان سے ظلم و جور کے ذریعے سے اس سے کئی گنا زیادہ چھین لیتے ہیں جو وہ اللہ اور اس کے بندوں کے حق کے طور پر ادا کرنے سے انکار کرتے ہیں اور وہ ان سے اس طرح وصول کرتے ہیں کہ ان کو اس کا اجر و ثواب بھی نہیں ملتا۔ جیسے جب بندے درست اور راست رو ہو جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے حکمرانوں کو درست کر دیتا ہے اور انھیں ظالم اور گمراہ حاکم نہیں بلکہ انھیں عدل و انصاف کے امام بنا دیتا ہے۔
[130] پھر اللہ تعالیٰ ان تمام جن و انس کو زجر و توبیخ کرتا ہے جو حق سے روگردانی کرتے ہوئے اسے ٹھکرا دیتے ہیں ، وہ ان کی خطا واضح کرتا ہے اور وہ اس کا اعتراف کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿ يٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ اَلَمۡ يَاۡتِكُمۡ رُسُلٌ مِّؔنۡكُمۡ يَقُصُّوۡنَ عَلَيۡكُمۡ اٰيٰتِيۡ ﴾ ’’اے جنوں اور انسانوں کی جماعت! کیا نہیں پہنچے تھے تمھارے پاس رسول تمھی میں سے کہ سناتے تھے تمھیں میرے حکم‘‘ یعنی واضح آیات جن کے اندر امر و نہی، خیر و شر اور وعد و وعید کی تفصیلات ہیں ﴿ وَيُنۡذِرُوۡنَكُمۡ۠ لِقَآءَ يَوۡمِكُمۡ هٰؔذَا ﴾ ’’اور اس دن کی ملاقات سے تمھیں ڈراتے تھے‘‘ یعنی تمھیں آگاہ کرتے تھے کہ تمھاری نجات اسی میں ہے۔ فوز و فلاح صرف اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور نواہی سے اجتناب میں ہے۔ اور ان کو ضائع کرنے میں انسان کی بدبختی اور خسارہ ہے وہ اس کا اقرار اور اعتراف کرتے ہوئے کہیں گے ﴿قَالُوۡا شَهِدۡنَا عَلٰۤى اَنۡفُسِنَا وَغَرَّتۡهُمُ الۡحَيٰوةُ الدُّنۡيَا ﴾ ’’ہم نے اقرار کیا اپنے گناہ کا اور ان کو دھوکہ دیا دنیا کی زندگی نے‘‘ یعنی دنیا کی زندگی نے اپنی زینت، آرائش اور نعمتوں کے ذریعے سے ان کو دھوکے میں مبتلا کر دیا، وہ دنیا پر مطمئن اور راضی ہو کر بیٹھ گئے۔ اور دنیا نے انھیں آخرت کے بارے میں غافل کر دیا۔ ﴿ وَشَهِدُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور گواہی دی انھوں نے اپنے آپ پر کہ وہ کافر تھے‘‘ ان کے خلاف اللہ تعالیٰ کی حجت قائم ہو گئی۔ تب اس وقت ہر ایک نے اور خود انھوں نے بھی جان لیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ عدل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں دردناک عذاب کا فیصلہ کرتے ہوئے فرمائے گا ﴿ ادۡخُلُوۡا فِيۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ ﴾(الاعراف: 7؍38) ’’یعنی جنوں اور انسانوں کے تم سے پہلے جو گروہ گزر چکے ہیں ان میں داخل ہو جاؤ۔‘‘ان کے کرتوت بھی تمھارے کرتوتوں کی مانند تھے۔ انھوں نے بھی اپنے حصے سے خوب فائدہ اٹھایا جیسے تم نے فائدہ اٹھایا۔ وہ بھی باطل میں گھس گئے جیسے تم گھس گئے ہو۔ یہ سب خسارے میں رہنے والے لوگ تھے، یعنی پہلے لوگ بھی اور یہ لوگ بھی اور کون سا خسارہ جنت سے محرومی کے خسارے سے بڑا خسارہ ہوسکتا ہے؟ کون سا خسارہ سب سے مکرم ہستی کی ہمسائیگی سے محرومی کے خسارے سے بڑا خسارہ ہو سکتا ہے؟
[132] البتہ یہ لوگ اگرچہ خسارے میں مشترک ہوں گے مگر خسارے کی مقدار میں وہ ایک دوسرے سے بہت متفاوت ہوں گے۔ ﴿وَلِكُلٍّ ﴾ ’’اور ہر ایک کے لیے۔‘‘ یعنی ان میں سے ہر ایک کے لیے ﴿ دَرَجٰؔتٌ مِّؔمَّا عَمِلُوۡا ﴾ ’’بلحاظ اعمال درجے (مقرر) ہیں ۔‘‘ یعنی ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات ہیں جس نے تھوڑی سی برائی کا ارتکاب کیا ہے وہ اس شخص کی مانند نہیں ہو سکتا جس نے بہت برائیاں کمائی ہیں ۔ تابع متبوع کے برابر ہو سکتا ہے نہ رعایا حکمران کے برابر ہو سکتی ہے۔ جیسے اہل ثواب اور اہل جنت منافع، فوز و فلاح اور جنت میں داخل ہونے میں مشترک ہیں مگر ان کے درجات میں اس قدر تفاوت ہوگا کہ اللہ کے سوا اسے کوئی نہیں جانتا۔ اس کے باوجود وہ سب اس پر راضی ہوں گے جو ان کا آقا ان کو عطا کرے گا اور اس پر قناعت کریں گے۔ پس ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں بھی جنت الفردوس کے بلند درجات عطا کرے جو اس نے اپنے مقرب، چنے ہوئے اور محبوب بندوں کے لیے تیار کر رکھی ہے ﴿وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور آپ کا رب ان کے اعمال سے غافل نہیں ہے‘‘ وہ ہر ایک کو اس کے قصد اور عمل کے مطابق جزا دے گا۔
[133] اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو نیک کام کرنے کا حکم دیا ہے اور ان پر رحم کرتے ہوئے اور ان کی بھلائی کی خاطر ان کو برے اعمال سے منع کیا ہے۔ ورنہ وہ بذاتہ تمام مخلوقات سے بے نیاز ہے۔ اطاعت کرنے والوں کی اطاعت اسے کوئی فائدہ دیتی ہے نہ نافرمانی کرنے والوں کی نافرمانی اس کا کچھ بگاڑ سکتی ہے۔ ﴿اِنۡ يَّشَاۡ يُذۡهِبۡكُمۡ ﴾ ’’اگر وہ چاہے تو تمھیں لے جائے‘‘ یعنی تمھیں ہلاک کر کے ختم کر دے ﴿ وَيَسۡتَخۡلِفۡ مِنۢۡ بَعۡدِكُمۡ مَّا يَشَآءُ كَمَاۤ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنۡ ذُرِّيَّةِ قَوۡمٍ اٰخَرِيۡنَ﴾ ’’اور تمھارے بعد جس کو چاہے تمھارا جانشین بنا دے جیسے تمھیں پیدا کیا اوروں کی اولاد سے‘‘ جب تمھیں اچھی طرح معلوم ہو گیا کہ دوسرے لوگوں کی طرح تمھارا اس دنیا سے منتقل ہونا لابدی ہے تم بھی اپنے بعد آنے والوں کے لیے اس دنیا کو خالی کر کے یہاں سے کوچ کر جاؤ گے جیسے تم سے پہلے لوگ یہاں سے کوچ کر گئے اور انھوں نے اس دنیا کو تمھارے لیے خالی کر دیا، پھر تم نے اس دنیا کو کیوں ٹھکانا اور وطن بنا لیا اور تم نے کیوں فراموش کر دیا کہ یہ دنیا ٹھکانا اور جائے قرار نہیں بلکہ گزرگاہ ہے اور اصل منزل تمھارے سامنے ہے۔ یہی وہ گھر ہے جہاں ہر نعمت جمع کر دی گئی ہے اور جو ہر آفت اور نقص سے محفوظ ہے۔ یہی وہ منزل ہے جس کی طرف اولین و آخرین لپکتے ہیں اور جس کی طرف سابقین و لاحقین کوچ کرتے ہیں ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں دائمی اور لازمی قیام ہے۔ یہ وہ منزل ہے جس کے آگے کوئی منزل نہیں ، یہ وہ مطلوب و مقصود ہے جس کے سامنے ہر مطلوب ہیچ ہے اور یہ وہ مرغوب نعمت ہے جس کے مقابلے میں ہر مرغوب مضمحل ہے۔ اللہ کی قسم! وہاں وہ نعمتیں عنایت ہوں گی جن کو نفس چاہیں گے اور آنکھیں لذت حاصل کریں گی اور رغبت کرنے والے رغبت کریں گے۔ جیسے روحوں کی لذت، بے پایاں فرحت، قلب و بدن کی نعمت اور اللہ علام الغیوب کا قرب۔ پس کتنی اعلیٰ فکر ہے جو ان مقامات پر مرتکز ہے اور کتنا بلند ارادہ ہے جو ان اعلیٰ درجات کی طرف مائل پرواز ہے اور وہ کتنا بدنصیب ہے جو اس سے کم تر پر راضی ہے اور وہ کتنا کم ہمت ہے جو گھاٹے کا سودا پسند کرتا ہے۔
[134] غفلت کا شکار روگرداں شخص اس منزل پر جلدی سے پہنچنے کو بعید نہ سمجھے۔ ﴿اِنَّ مَا تُوۡعَدُوۡنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّمَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِيۡنَ ﴾ ’’تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جاتا ہے، وہ آنے والا ہے اور تم عاجز نہیں کر سکتے‘‘ یعنی تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کر سکتے اور اس کے عذاب سے کہیں بھاگ کر نہیں جا سکتے کیونکہ تمھاری پیشانیاں اس کے قبضۂ قدرت میں ہیں اور تم اس کی تدبیر اور تصرف کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہو۔
[135]﴿قُلۡ ﴾ ’’کہہ دیجیے‘‘ اے رسول (ﷺ) جبکہ آپ نے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دے دی اور ان کے انجام اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کے بارے میں ان کو آگاہ کر دیا اور وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو ماننے سے باز رہے بلکہ اپنی خواہشات کے پیچھے لگے رہے اور اپنے شرک پر قائم رہے تو آپ ان سے کہہ دیجیے ﴿يٰقَوۡمِ اعۡمَلُوۡا عَلٰى مَكَانَتِكُمۡ ﴾ ’’اے میری قوم! تم کام کرتے رہو، اپنی جگہ پر‘‘ یعنی جس حال میں تم ہو اور جس حال کو تم نے اپنے لیے پسند کر لیا ہے اسی پر قائم رہو ﴿ اِنِّيۡ عَامِلٌ ﴾ ’’میں (اپنی جگہ) عمل کیے جاتا ہوں ۔‘‘ میں اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل اور اس کی مرضی کی اتباع کرتا ہوں ﴿ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ١ۙ مَنۡ تَكُوۡنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ ﴾ ’’عنقریب تم جان لو گے کہ کس کو ملتا ہے عاقبت کا گھر‘‘ یعنی آخرت کا گھر تمھارے لیے ہے یا میرے لیے۔ اور یہ انصاف کا عظیم مقام ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اعمال اور ان پر عمل کرنے والوں کے بارے میں بیان فرما دیا اور نہایت بصیرت کے ساتھ ان اعمال کی جزا بھی ساتھ بیان فرما دی جہاں تصریح سے گریز کرتے ہوئے تلویح سے کام لیا ہے۔ اور یہ حقیقت معلوم ہے کہ دنیا و آخرت میں اچھا انجام صرف اہل تقویٰ کے لیے ہے۔ آخرت کا گھر اہل ایمان کے لیے ہے اور انبیا و رسل کی لائی ہوئی شریعت سے روگردانی کرنے والوں کا انجام انتہائی برا ہے، اس لیے فرمایا:﴿ اِنَّهٗ لَا يُفۡلِحُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴾ ’’یقینا ظالم فلاح یاب نہیں ہوں گے‘‘ ظالم خواہ اس دنیا سے کتنا ہی فائدہ اٹھا لے، اس کی انتہا اضمحلال اور اتلاف ہے۔ حدیث میں ہے۔ ’اِن اللّٰہَ لُیُمْلِی للِظَّالِمِ، حَتَّی اِذَا اَخَذَہُ لَم یُفْلِتْہ‘ (صحیح البخاري، کتاب التفسیر، باب قولہ (وکذالک أخذ ربک… الخ) حدیث: 4686) ’’اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے یہاں تک کہ جب اس کو پکڑ لیتا ہے تو اسے چھوڑتا نہیں ‘‘