Tafsir As-Saadi
7:37 - 7:39

پس کو ن زیادہ ظالم ہے اس شخص سے جس نے باندھا اللہ پر جھوٹ یا جھٹلایا اس کی آیات کو؟ یہ لوگ ہیں کہ پہنچے گا انھیں ان کا حصہ لکھے ہوئے سے، یہاں تک کہ جب آئیں گے ان کے پاس ہمارے قاصد جو قبض کریں گے ان کی روحیں تو وہ کہیں گے! کہاں ہیں وہ کہ تھے تم پکارتے (ان کو) سوائے اللہ کے؟وہ کہیں گے!وہ گم ہو گئے ہم سے،اور گواہی دیں گے اپنے خلاف کہ بے شک وہ تھے کفر کرنے والے(37)کہے گا (اللہ)! داخل ہو جاؤ تم ہمراہ ان امتوں کے جو گزر چکیں تم سے پہلے جنوں اور انسانوں میں سے، آگ میں۔جب بھی داخل ہوگی ایک امت تو لعنت کرے گی اپنے جیسی دوسری امت کو،یہاں تک کہ جب اکٹھے ہوں گے وہ اس میں سب،تو کہے گی ان کی پچھلی جماعت ان کی پہلی جماعت کی بابت،اے ہمارے رب!انھوں نے گمراہ کیا تھاہمیں،پس دے تو ان کو عذاب دگنا آگ کا، کہے گا(اللہ تم میں سے) ہر ایک کے لیے دگنا(عذاب) ہے لیکن تم نہیں جانتے (38) اور کہے گی ان کی پہلی جماعت ان کی پچھلی جماعت کو،پس نہیں ہے تمھارے لیے ہم پر کوئی فضیلت سو چکھو تم عذاب بوجہ اس کے جو تھے تم کماتے(39)

[37] یعنی اس شخص سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں جس نے بہتان طرازی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف شریک اور اس کی ذات و صفات کی طرف نقص کی نسبت کی اور اس کی طرف کسی ایسی بات کو منسوب کیا جو اس نے نہیں کہی۔ ﴿ اَوۡ كَذَّبَ بِاٰيٰتِهٖ ﴾ ’’یا اس کی آیات کو جھٹلایا۔‘‘ یعنی جس نے حق مبین کو بیان کرنے والی واضح آیات کو جھٹلایا، جو راہ راست کی طرف راہ نمائی کرتی ہیں پس یہ لوگ اگرچہ اس دنیا سے فائدہ اٹھا رہے ہیں تاہم انھیں وہ عذاب ضرور مل کر رہے گا جو لوح محفوظ میں ان کے لیے لکھ دیا گیا ہے۔ کوئی چیز ان کے کسی کام نہیں آئے گی۔ وہ اس دنیا سے تھوڑی سی مدت کے لیے فائدہ اٹھائیں گے اور ابد الآباد تک عذاب بھگتیں گے۔ ﴿حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوۡنَهُمۡ ﴾ ’’یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) جان نکالنے آئیں گے۔‘‘ یعنی جب ان کے پاس وہ فرشتے آجائیں گے جو ان کی مدت مقررہ پوری کرنے اور روح قبض کرنے پر مامور ہیں ﴿قَالُوۡۤا ﴾ یعنی اس حالت میں فرشتے ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے کہیں گے ﴿ اَيۡنَ مَا كُنۡتُمۡ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ ﴾ ’’ وہ (بت اور تمھارے خود ساختہ معبود) کہاں ہیں جن کو تم اللہ کے سوا پکارا کرتے تھے؟‘‘ اب ضرورت کا وقت آ گیا ہے اگر وہ تمھیں کوئی فائدہ دے سکتے ہیں یا کسی تکلیف کو دور کر سکتے ہیں ؟ (تو ان کو بلاؤ)﴿ قَالُوۡا ضَلُّوۡا عَنَّا ﴾ ’’وہ کہیں گے، وہ ہم سے گم ہو گئے‘‘ یعنی وہ مضمحل اور باطل ہوگئے اور وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے مقابلے میں ہمارے کسی کام کے نہیں۔ ﴿ وَشَهِدُوۡا عَلٰۤى اَنۡفُسِهِمۡ اَنَّهُمۡ كَانُوۡا كٰفِرِيۡنَ ﴾ ’’اور وہ اپنے آپ پر گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے‘‘ یعنی وہ دائمی طور پر رسوا کن عذاب کے مستحق ہیں ۔
[38] فرشتے ان سے کہیں گے ﴿ادۡخُلُوۡا فِيۡۤ اُمَمٍ ﴾ ’’ان قوموں میں داخل ہوجاؤ۔‘‘ یعنی ان جملہ امتوں میں داخل ہو جاؤ۔ ﴿ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَالۡاِنۡسِ ﴾ ’’جو تم سے پہلے جنوں اور انسانوں میں سے گزر چکیں ‘‘ یعنی وہ بھی اسی راستے پر گامزن رہے تھے جس پر تم چلتے رہے ہو، یعنی کفر و استکبار کا راستہ۔ اس لیے سب رسوائی اور ہلاکت کے مستحق ٹھہرے ﴿ فِي النَّارِ ﴾ اور ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہو۔سرکش اور نافرمان قوموں میں سے جب کوئی قوم جہنم میں داخل ہوگی ﴿ لَّعَنَتۡ اُخۡتَهَا ﴾ ’’اپنی جیسی جماعت پرلعنت کرے گی۔‘‘ یعنی اپنے جیسے مشرکانہ عقائد رکھنے والی قوم پر لعنت کرے گی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ يَكۡفُرُ بَعۡضُكُمۡ بِبَعۡضٍ وَّيَلۡعَنُ بَعۡضُكُمۡ بَعۡضًا﴾(العنکبوت: 29؍25) ’’قیامت کے روز تم ایک دوسرے کا انکار کرو گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے۔‘‘﴿ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَؔكُوۡا فِيۡهَا جَمِيۡعًا ﴾ ’’یہاں تک کہ جب سب اس میں داخل ہوجائیں گے۔‘‘ یعنی جب جہنم میں ، اولین و آخرین، قائدین، رؤسا، ان کے پیروکار اور مقلدین سب جمع ہو جائیں گے ﴿قَالَتۡ اُخۡرٰىهُمۡ﴾ ’’تو کہیں گے ان کے پچھلے‘‘ یعنی رؤسا و قائدین کے پیروکار ﴿ لِاُوۡلٰىهُمۡ ﴾ ’’پہلوں کو‘‘ یعنی وہ اپنے سرداروں اور رؤسا کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے شکوہ کرتے ہوئے کہ انھوں نے گمراہ کیا تھا۔۔ کہیں گے: ﴿ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوۡنَا فَاٰتِهِمۡ عَذَابًا ضِعۡفًا مِّنَ النَّارِ ﴾’’اے ہمارے رب! ان ہی لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا تو ان کو آتش جہنم کا دگنا عذاب دے۔‘‘ یعنی اے ہمارے رب انھیں کئی گنا عذاب دے کیونکہ انھوں نے ہمیں گمراہ کیا اور ناپاک اعمال کو ہمارے سامنے مزین کرکے پیش کیا۔[39]﴿وَقَالَتۡ اُوۡلٰىهُمۡ لِاُخۡرٰؔىهُمۡ ﴾ ’’اور کہیں گے ان کے پہلے پچھلوں کو‘‘ یعنی سردار اپنے پیروکاروں سے کہیں گے: ﴿ فَمَا كَانَ لَكُمۡ عَلَيۡنَا مِنۡ فَضۡلٍ﴾ ’’پس کچھ نہ ہوئی تم کو ہم پر بڑائی‘‘ یعنی ہم گمراہی، ضلالت اور عذاب کے اسباب اختیار کرنے میں مشترک ہیں ۔ تمھیں ہم پر کون سی فضیلت ہے؟ ﴿قَالَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ﴿لِكُلِّ ضِعۡفٌ﴾ ’’تم میں سے ہر ایک کے لیے دو گنا عذاب ہے‘‘ ﴿ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡسِبُوۡنَ ﴾ ’’اب چکھو عذاب بسبب اپنی کمائی کے‘‘ لیکن یہ معلوم ہے کہ سرداروں اور ائمہ ضلالت کو ان کے پیروکاروں کی نسبت زیادہ سخت اور برا عذاب دیا جائے گا۔ جیسے ائمہ ہُدیٰ کو ان کے متبعین کے ثواب کے مقابلے میں زیادہ بڑی نعمتوں سے نوازا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اَلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ زِدۡنٰهُمۡ عَذَابًا فَوۡقَ الۡعَذَابِ بِمَا كَانُوۡا يُفۡسِدُوۡنَ ﴾(النحل: 16؍88) ’’وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا ہم انھیں عذاب پر عذاب دیں گے اس پاداش میں کہ وہ فساد برپا کرتے تھے۔‘‘یہ آیت کریمہ اور اس قسم کی دیگر آیات دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنے والوں کی تمام اقسام جہنم میں ہمیشہ رہیں گی، اس کی اتھاہ گہرائی میں سب اکٹھے ہوں گے اگرچہ عذاب کی مقدار میں ان کے اعمال، عناد، ظلم اور افترا پردازی کے مطابق تفاوت ہوگا اور ان کی وہ محبت و مودت جو دنیا میں ان کے مابین تھی، قیامت کے روز دشمنی اور ایک دوسرے پر لعنت میں بدل جائے گی۔