Tafsir As-Saadi
82:6 - 82:12

اے انسان! کس چیز نے دھوکے میں ڈالا تجھے اپنے رب کریم کی بابت؟(6) وہ جس نے تجھے پیدا کیا ، پھر تجھے ٹھیک ٹھاک کیا ، پھر تجھے معتدل بنایا(7) جس صورت میں اس نے چاہا تجھے جوڑ دیا(8) ہرگز نہیں!بلکہ تم جھٹلاتے ہو جزا کو(9) جبکہ بلاشبہ تم پر نگران ہیں (10) معزز لکھنے والے (11) وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو (12)

[8-6] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حق میں تقصیر اور اپنی نافرمانیوں کی جسارت کا ارتکاب کرنے والے انسان پر عتاب کرتے ہوئے فرماتاہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا الۡاِنۡسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الۡكَرِيۡمِ﴾ ’’اے انسان! تجھے اپنے بارے میں کس چیز نے دھوکہ دیا۔‘‘ کیا تمھاری طرف سے اس کے حقوق سے استہزا کے طور پر یا اس کے عذاب کی تحقیر کے طور پر یا اس کی جزا و سزا پر تمھارے عدم ایمان کی بنا پر؟ کیا وہ ہستی ﴿ الَّذِيۡ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ﴾ جس نے تجھے بہترین صورت میں پیدا کیا ﴿فَعَدَلَكَ﴾ اور اس نے تجھے درست اور معتدل ترکیب پر، حسین ترین شکل اور جمیل ترین ہیئت میں پیدا کیا۔ تب کیا تمھارے لیے یہ مناسب ہے کہ تم منعم کی نعمت کی ناشکری اور محسن کے احسان کا انکار کرو، بلاشبہ یہ محض تمھاری جہالت، تمھارے ظلم، تمھارے عناد اور تمھاری طرف سے حق کو غصب کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے، پس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر کہ اس نے تجھے کتے، گدھے یا کسی اور حیوان کی شکل و صورت عطا نہیں کی۔ اس لیے فرمایا:﴿ فِيۡۤ اَيِّ صُوۡرَةٍ مَّا شَآءَ رَؔكَّبـَكَ﴾ ’’جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دے دیا۔‘‘
[12-9] فرمایا: ﴿ كَلَّا بَلۡ تُكَذِّبُوۡنَ بِالـدِّيۡنِ﴾ یعنی اس وعظ و تذکیر کے باوجود تم جزا و سزا کی تکذیب پر جمے ہوئے ہو۔ حالانکہ تم نے جو اعمال کیے ہیں ان پر ضرور تمھارا محاسبہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر مکرم فرشتے مقرر کر رکھے ہیں، جو تمھارے اقوال اور افعال کو لکھتے رہتے ہیں، انھیں ان اقوال و افعال کا علم ہے۔ اس میں افعال قلوب ، افعال جوارح سب داخل ہیں۔ پس تمھارے لیے مناسب ہے کہ تم ان کا اکرام و اجلال اور احترام کرو۔