اور یاد کیجیے! جب تدبیر کررہے تھے آپ کی بابت وہ لوگ جنھوں نے کفر کیاتاکہ وہ قید کردیں آپ کو یا قتل کردیں آپ کو یا نکال دیں آپ کواور تدبیریں کر رہے تھے وہ اور تدبیر کر رہا تھا اللہ بھی اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے(30)
[30] یعنی اے رسولﷺ! اللہ تبارک و تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کیجیے جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوازا ہے، ﴿ وَاِذۡ يَمۡؔكُرُ بِكَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا﴾ ’’جب سازش کرتے تھے کافر آپ کے بارے میں ‘‘ جب مشرکین مکہ نے ’’دارالندوہ‘‘ میں مشورہ کیا کہ رسولﷺ کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ (۱) آپ کو بیڑیاں پہنا کر محبوس کر دیا جائے۔ (۲) آپ کو قتل کر دیا جائے تاکہ... بزعم خود... ہمیشہ کے لیے آپ سے نجات حاصل کر لیں ۔ (۳) آپ کو مکہ سے نکال باہر کر کے ملک بدر کر دیا جائے۔ہر شخص نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا۔ آخر کار تمام لوگوں نے اس مجلس میں شریک شریر ترین آدمی، ابوجہل (لَعَنَہُ اللہُ) کی رائے سے اتفاق کیا کہ قریش کے تمام قبائل سے ایک ایک آدمی لے کر اسے تیز تلوار دی جائے اور تمام لوگ بیک وقت حملہ کر کے آپ کو قتل کر دیں تاکہ تمام قبائل آپ کے قتل کے ذمہ دار ٹھہریں ۔ اس صورت میں بنو ہاشم آپ کی دیت قبول کرنے پر راضی ہو جائیں گے اور قصاص لینے کے لیے قریش کے تمام قبائل کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے، چنانچہ وہ رات کے وقت گھات لگا کر بیٹھ گئے تاکہ جب آپ اپنے بستر سے بیدار ہوں تو آپ پر حملہ کر دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسمان سے وحی نازل ہوئی۔ آپ باہر تشریف لائے، آپ نے ان سب کے سروں میں خاک ڈالی اور وہاں سے نکل گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو اندھا کر دیا۔ جب بہت دیر ہوگئی تو کسی آنے والے نے کہا ’’وائے تمھاری ناکامی! محمد (ﷺ ) تو نکل گیا اور تمھارے سروں میں خاک بھی ڈال گیا ہے۔‘‘انھوں نے اپنے سروں سے مٹی جھاڑی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو بچا لیا اور آپ کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔ پس آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین و انصار کے ذریعے سے آپ کی مدد فرمائی اور یوں آپ کو غلبہ حاصل ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ آپ فاتح بن کر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔ تمام قریش مکہ نے آپ کی اطاعت قبول کر لی اور آپ کے ماتحت آگئے حالانکہ اس سے پہلے آپ ان سے چھپ کر جان کے خوف سے وہاں سے نکلے تھے۔ پس پاک ہے وہ ہستی جو اپنے بندوں کو لطف و کرم سے نوازتی ہے اور جس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔