Tafsir As-Saadi
9:105 - 9:105

اور کہہ دیجیے!عمل کرو تم، پس عنقریب دیکھے گا اللہ تمھارے عمل کواور اس کا رسول اور مومن بھی اور عنقریب لوٹائے جاؤ گے تم اس کی طرف جو جاننے والا چھپی اورکھلی باتوں کو ، پھر خبر دے گا وہ تمھیں ساتھ ان کے جو تھے تم عمل کرتے(105)

[105] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسولﷺ سے فرماتا ہے: ﴿ وَقُلِ ﴾ ’’اور کہہ دیجیے‘‘ یعنی ان منافقین سے کہہ دیجیے! ﴿ اعۡمَلُوۡا﴾ ’’عمل کیے جاؤ۔‘‘ یعنی تم جو اعمال بجا لانا چاہتے ہو بجا لاؤ، اپنے باطل پر جمے رہو اور یہ نہ سمجھو کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ سے چھپا رہے گا۔ ﴿ فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمۡ وَرَسُوۡلُهٗ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ﴾ ’’پھر دیکھ لے گا اللہ تمھارے کام کو اور اس کا رسول اور مومن‘‘ یعنی تمھارا عمل ضرور ظاہر ہو کر رہے گا ﴿ وَسَتُرَدُّوۡنَ اِلٰى عٰؔلِمِ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴾ ’’اور جلد تم لوٹائے جاؤ گے اس کے پاس جو تمام چھپی اور کھلی چیزوں کو جانتا ہے، پس وہ تم کو ان عملوں کی خبر دے گا جو تم کرتے تھے۔‘‘ وہ اچھے ہوں گے یا برے۔ اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے سخت وعید اور تہدید ہے جو اپنے باطل، سرکشی، گمراہی اور نافرمانی پر مصر ہے۔ اس میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ تم جب بھی کوئی اچھا یا برا عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے، وہ اس عمل کے بارے میں اپنے رسول اور اپنے مومن بندوں کو مطلع کر دے گا، خواہ وہ چھپے ہوئے ہی کیوں نہ ہوں ۔