اور واسطے ہر امت کے ایک رسول ہے، پس جب آگیا ان کا رسول تو فیصلہ کر دیا گیا درمیان ان کے ساتھ انصاف کےاور وہ نہیں ظلم کیے جاتے (47) اور وہ (کافر) کہتے ہیں کب (پورا) ہو گا یہ وعدہ (عذاب کا) اگر ہو تم سچے؟ (48)اور کہہ دیجیے! نہیں اختیار رکھتا میں واسطے اپنے نفس کے کسی نقصان کا اور نہ کسی نفع کا مگر جو چاہے اللہ، واسطے ہر امت کے ایک میعاد ہے، جب آجاتی ہے میعاد ان کی تو نہ وہ پیچھے رہ سکتے ہیں (اس سے) ایک گھڑی اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں (49)
[47]﴿وَلِكُلِّ اُمَّةٍ ﴾ ’’ہر امت کے لیے‘‘ یعنی گزشتہ امتوں میں سے ہر امت کے لیے ﴿ رَّسُوۡلٌ﴾ ایک رسول مبعوث کیا گیا جو ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے دین کی دعوت دیتا تھا۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَ رَسُوۡلُهُمۡ﴾ ’’پس جب ان کا رسول آتا۔‘‘ یعنی ان کے پاس آیات الٰہی لے کر آتا تو ان میں سے کچھ لوگ اس کی تصدیق کرتے اور دوسرے اس کو جھٹلاتے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ فرماتا، اہل ایمان کو نجات دیتا اور جھٹلانے والوں کو ہلاک کر دیتا۔ ﴿ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُوۡنَ﴾ ’’اور ان پر ظلم نہیں کیا جاتا‘‘ یعنی رسول بھیجنے اور حجت قائم کرنے سے پہلے یا کسی جرم کے بغیر ان کو عذاب نہیں دیا گیا۔
[49,48] اس لیے آپ کو جھٹلانے والے گزشتہ زمانوں میں ہلاک کی گئی قوموں کی مشابہت سے بچیں ۔ ایسا نہ ہو کہ ان پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے جو ان قوموں پر نازل ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے بارے میں یہ نہ سمجھیں کہ وہ دیر سے آئے گا اور پھر وہ یہ کہتے پھریں ﴿ مَتٰى هٰؔذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ﴾ ’’کب ہے یہ وعدہ، اگر تم سچے ہو‘‘ یہ ان کی طرف سے سخت ظلم کا رویہ ہے کہ وہ نبیﷺ سے اس کا مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ آپ کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ۔ آپ کی ذمہ داری تو صرف پہنچا دینا اور لوگوں کے سامنے بیان کر دینا ہے۔رہا ان کا حساب و کتاب اور ان پر عذاب کا نازل کرنا تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ جب اس کی مدت معینہ اور حکمت الٰہیہ کے مطابق ان کا وقت مقررہ آن پہنچے گا تو ان کے ساتھ ایک گھڑی کی تاخیر کی جائے گی نہ تقدیم۔ اس لیے اس کی تکذیب کرنے والے جلدی مچانے سے بچیں کیونکہ وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا عذاب جب نازل ہوتا ہے تو مجرموں کی قوم پر نازل ہونے سے اسے روکا نہیں جا سکتا۔ بنابریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: