Tafsir As-Saadi
16:1 - 16:2

آپہنچا حکم اللہ کا سو نہ جلدی طلب کرو تم اسے، پاک ہے وہ اور برتر ہے ان سے جو وہ شریک ٹھہراتے ہیں (1) وہی نازل کرتا ہے فرشتوں (جبریل) کو ساتھ روح (وحی) کے، اپنے حکم سے، اوپر جس کے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے، یہ کہ ڈراؤ تم (لوگوں کو) کہ بے شک نہیں کوئی معبود مگر میں ہی، سو تم ڈرو مجھ ہی سے (2)

(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے وعدے کو قریب بتلاتے ہوئے اور اس کے وقوع کو متحقق کرتے ہوئے فرماتا ہے: ﴿ اَتٰۤى اَمۡرُ اللّٰهِ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوۡهُ۠﴾ ’’اللہ کا حکم آپہنچا، پس آپ اس میں جلدی نہ کریں ‘‘ کیونکہ یہ وعدہ ضرور آئے گا اور جو چیز آنے والی ہے وہ قریب ہی ہوتی ہے۔ ﴿ سُبۡحٰؔنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَؔ﴾ ’’وہ پاک اور بلند ہے ان چیزوں سے جن کو وہ اس کا شریک بناتے ہیں ‘‘ اللہ تبارک و تعالیٰ شریک، بیٹے، بیوی اور ہمسر وغیرہ کی نسبت سے بالکل پاک ہے جن کو یہ مشرکین اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں ، یہ نسبت اللہ تعالیٰ کے جلال کے لائق نہیں اور اس کے کمال کے منافی ہے۔
[2] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو ان سے منزہ قرار دیا ہے جن سے اللہ تعالیٰ کو اس کے دشمنوں نے متصف کیا ہے۔ اس لیے اس وحی کا ذکر فرمایا جو اس نے اپنے انبیاء و مرسلین پر نازل فرمائی جس کی اتباع کو وہ پسند فرماتا ہے۔ اس وحی میں ان صفات کمال کا ذکر فرمایا جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جانا چاہیے۔ فرمایا: ﴿ يُنَزِّلُ الۡمَلٰٓىِٕكَةَ بِالرُّوۡحِ مِنۡ اَمۡرِهٖ﴾ ’’وہ اتارتا ہے فرشتوں کو وحی دے کر اپنے حکم سے‘‘ یعنی اس وحی کے ساتھ، جس پر روح کی زندگی کا دارومدار ہے ﴿ عَلٰى مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖۤ ﴾ ’’اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے‘‘ یعنی ان بندوں پر وحی نازل فرماتا ہے جن کے بارے میں وہ جانتا ہے کہ وہ اس کی رسالت کا بوجھ اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔تمام انبیاء و مرسلین کی دعوت کا لب لباب اور اس کا دارومدار اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر ہے: ﴿ اَنۡ اَنۡذِرُوۡۤا اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا ﴾ ’’انھیں خبردار کرو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ‘‘ یعنی انھیں اللہ تعالیٰ کی معرفت اور صفات عظمت میں اس کی وحدانیت کے بارے میں ڈراؤ، جو کہ درحقیقت صفات الوہیت ہیں اور انھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف بلاؤ جس کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابیں نازل فرمائیں اور اپنے رسول مبعوث کیے۔ تمام شرائع اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف دعوت دیتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت پر زور دیتی ہیں اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کی عبادت کی مخالفت کرتا اور اس کے متضاد کام کرتا ہے یہ شرائع اس کے خلاف جہاد کرتی ہیں ۔

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کے دلائل و براہین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

اس سورۂ مبارکہ کو ’’سورۃ النعم‘‘ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے کیونکہ اس کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کے اصول اور اس کے قواعد بیان کیے ہیں اور اس کے آخر میں وہ امور بیان کیے ہیں جو ان کی تکمیل کرتے ہیں ۔