Tafsir As-Saadi
16:3 - 16:9

اس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ساتھ حق کے، وہ برتر ہے ان سے جو وہ (اس کے) شریک ٹھہراتے ہیں (3) اس نے پیدا کیا انسان کو نطفے سے، پس ناگہاں (ہو گیا) وہ جھگڑنے والا صریح (4) اور چوپائے بھی، اسی نے پیدا کیا ان کو، تمھارے لیے ان میں گرماؤ ہے او رکئی فائدے ہیں اور بعض ان میں سے تم کھاتے ہو (5) اور تمھارے لیے ان (چوپایوں ) میں رونق بھی ہے، جب شام کے وقت تم چرا کر لاتے ہواور جب صبح کے وقت تم چرانے لے جاتے ہو (6) اور وہ اٹھالے جاتے ہیں بوجھ تمھارے طرف اس شہر کی کہ نہیں تھے تم پہنچنے والے اس (شہر) کو مگر ساتھ (سخت) مشقت جسمانی کے، بلاشبہ تمھارا رب بہت ہی شفقت کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے (7) اور (اسی نے پیدا کیے) گھوڑے اور خچر اور گدھے تاکہ تم سوار ہو ان پراورواسطے زینت کےاور وہ پیدا کرتا ہے جو تم نہیں جانتے (8) اور اوپر اللہ ہی کے (پہنچتی) ہے سیدھی راہ اور کچھ ان (راہوں ) میں سے ٹیڑھی ہیں اور اگر اللہ چاہتا تو ہدایت دیتا تم کو سب کو (9)

[3] چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے زمین اور آسمان کو حق کے ساتھ پیدا کیا تاکہ بندے اس کے ذریعے سے ان کے خالق کی عظمت اور اس کی صفات کمال پر استدلال کریں تاکہ انھیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو اپنے ان بندوں کے رہنے کے لیے پیدا کیا ہے جو اس کی عبادت اس طرح کرتے ہیں جس طرح اس نے اپنی شرائع میں ان کو حکم دیا ہے جن کو اس نے اپنے رسولوں کی زبان پر نازل فرمایا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو مشرکین کے شرک سے منزہ قرار دیا۔ فرمایا: ﴿ تَعٰلٰى عَمَّا يُشۡرِكُوۡنَؔ ﴾ ’’یہ لوگ جو شریک بناتے ہیں وہ اس سے بالاتر ہے۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک اور بہت بڑا ہے۔ وہی معبود حقیقی ہے جس کے سوا کسی اور کی عبادت، کسی اور سے محبت اور کسی اور کے سامنے عاجزی کا اظہار مناسب نہیں ۔
[4] اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کا ذکر کرنے کے بعد زمین و آسمان کی مخلوق کا ذکر فرمایا اور اشرف المخلوقات یعنی انسان سے اس کی ابتدا کی، چنانچہ فرمایا:﴿ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطۡفَةٍ ﴾ ’’اس نے انسان کو ایک بوند سے پیدا کیا‘‘ اللہ تعالیٰ اس نطفہ کی تدبیر کرتا رہا اور اس کو نشوونما دیتا رہا یہاں تک کہ وہ ظاہری اور باطنی طور پر کامل اعضاء کے ساتھ کامل انسان بن گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بے شمار نعمتوں سے نوازا یہاں تک کہ اس کی تکمیل ہو گئی تو اپنے آپ پر فخر کرنے لگا اور خودپسندی کا شکار ہو گیا۔ فرمایا: ﴿ فَاِذَا هُوَ خَصِيۡمٌ مُّبِيۡنٌ﴾ ’’پھر جبھی ہو گیا وہ علانیہ جھگڑا کرنے والا۔‘‘ اس میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ وہ اپنے رب کی مخالفت کرنے لگا، اس کا انکار کرنے لگا، اس کے انبیاء و رسل سے جھگڑنے لگا اور اس کی آیات کی تکذیب کرنے لگا۔ اس نے اپنی تخلیق کے اولین مراحل اور اس کی نعمتوں کو فراموش کر دیا اور ان نعمتوں کو نافرمانی میں استعمال کیا۔ اور اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمی کو نطفہ (بوند) سے پیدا کیا، پھر اس کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل کرتا رہا یہاں تک کہ وہ ایک کلام کرنے والا، ذہین، صاحب رائے، عقل مند انسان بن گیا تو جھگڑے اور بحث کرنے لگ گیا۔ پس بندے کو اپنے رب کا شکر ادا کرناچاہیے جس نے اسے اس حالت تک پہنچایا۔ جس حالت تک پہنچنا کسی طرح بھی اس کی قدرت اور اختیار میں نہ تھا۔
[5]﴿ وَالۡاَنۡعَامَ خَلَقَهَا﴾ ’’اور چوپایوں کو بھی اس نے تمھارے لیے پیدا کیا۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے چوپایوں کو تمھاری خاطر، تمھارے فوائد اور مصالح کی خاطر تخلیق فرمایا۔ ان کے جملہ بڑے بڑے فوائد میں سے ایک فائدہ یہ ہے ﴿ لَكُمۡ فِيۡهَا دِفۡءٌ ﴾ ’’ان میں تمھارے لیے گرمی ہے‘‘ جو تم ان کی صوف، ان کی پشم، ان کے بالوں سے لباس، بچھونے اور خیمے بنا کر حاصل کرتے ہو۔ ﴿ وَّمَنَافِعُ ﴾ اس کے علاوہ تمھارے لیے دیگر فوائد ہیں ﴿ وَمِنۡهَا تَاۡكُلُوۡنَؔ﴾ ’’اور ان (جانوروں ) میں سے بعض کو تم کھاتے ہو۔‘‘
[6]﴿ وَلَكُمۡ فِيۡهَا جَمَالٌ حِيۡنَ تُرِيۡحُوۡنَ وَحِيۡنَ تَسۡرَحُوۡنَ﴾ ’’اور تمھارے واسطے ان میں خوب صورتی ہے جب شام کو چرا کر لاتے ہو اور جب چرانے لے جاتے ہو‘‘ یعنی شام کے وقت ان مویشیوں کے گھر لوٹنے اور آرام کرنے اور صبح کے وقت چرنے کے لیے باہر جانے میں تمھارے لیے خوبصورتی ہے۔ ان چوپایوں کی خوبصورتی کا ان کے لیے کوئی فائدہ نہیں کیونکہ یہ تم ہی ہو جو ان مویشیوں کو، اپنے لباس، اپنی اولاد اور اپنے مال کو اپنے جمال کا ذریعہ بناتے ہو اور یہ چیزیں تمھیں اچھی لگتی ہیں ۔
[7]﴿ وَتَحۡمِلُ اَثۡقَالَكُمۡ﴾ ’’اور وہ تمھارے بوجھ اٹھاتے ہیں ۔‘‘ یعنی یہ چوپائے تمھارے بھاری بھاری بوجھ اٹھاتے ہیں بلکہ وہ تمھیں بھی اٹھاتے ہیں ۔ ﴿اِلٰى بَلَدٍ لَّمۡ تَكُوۡنُوۡا بٰلِغِيۡهِ اِلَّا بِشِقِّ الۡاَنۡفُسِ﴾ ’’ان شہروں تک کہ تم نہ پہنچتے وہاں مگر جان مار کر‘‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو تمھارے مطیع بنا دیا۔ ان میں سے بعض پر تم سواری کرتے ہو اور بعض جانوروں پر تم جو چاہتے ہو بوجھ لادتے ہو اور دور دراز شہروں اور ملکوں تک لے جاتے ہو۔ ﴿ اِنَّ رَبَّكُمۡ لَرَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ﴾ ’’بے شک تمھارا رب بڑا شفقت کرنے والا، نہایت مہربان ہے‘‘ اس نے تمھارے لیے ان تمام چیزوں کو مسخر کر دیا جن کی تمھیں ضرورت اور جن کی تمھیں حاجت تھی۔ پس ہر قسم کی حمد و ثنا کا وہی مستحق ہے، جیسا کہ اس کے جلال، اس کی عظمت سلطنت اور اس کے بے پایاں جودوکرم کے لائق ہے۔
[8]﴿ وَّالۡخَيۡلَ وَالۡبِغَالَ وَالۡحَمِيۡرَ﴾ ’’اور گھوڑے، خچر اور گدھے‘‘ یعنی ہم نے ان تمام چوپایوں کو تمھارے قابو میں دے دیا ﴿ لِـتَرۡؔكَبُوۡهَا وَزِيۡنَةً﴾ ’’تاکہ تم ان پر سوار ہو اور زینت کے لیے‘‘ یعنی کبھی تو تم انھیں سواری کی ضرورت کے لیے استعمال کرتے ہو اور کبھی خوبصورتی اور زینت کی خاطر تم انھیں پالتے ہو۔ یہاں ان کو کھانے کا ذکر نہیں کیا کیونکہ خچر اور گدھے کا گوشت حرام ہے۔ گھوڑوں کو بھی غالب طور پر کھانے کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے برعکس اس کو کھانے کی غرض سے ذبح کرنے سے منع کیا گیا ہے، اس ڈر سے کہ کہیں ان کی نسل منقطع نہ ہو جائے۔ ورنہ صحیحین میں حدیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہﷺ نے گھوڑے کا گوشت کھانے کی اجازت دی ہے۔ ﴿ وَيَخۡلُقُ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَؔ﴾ ’’اور پیدا کرتا ہے جو تم نہیں جانتے‘‘ نزول قرآن کے بعد بہت سی ایسی چیزیں وجود میں آئیں جن پر انسان بحروبر اور فضا میں سواری کرتے ہیں اور جنھیں وہ اپنے فوائد اور مصالح کے لیے اپنے کام میں لاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اعیان کے ساتھ ان کا ذکر نہیں کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں صرف ایسی ہی چیزوں کا ذکر فرماتا ہے جن کو اس کے بندے جانتے ہوں یا جن کی نظیر کو وہ جانتے ہوں اور جس کی نظیر ان کے زمانے میں دنیا میں موجود نہ ہو اور اللہ تعالیٰ اس کا تذکرہ کرتا تو لوگ اس چیز کو نہ پہچان سکتے اور یہ نہ سمجھ سکتے کہ اس سے کیا مراد ہے؟ لہٰذا اللہ تعالیٰ صرف جامع اصول ذکر فرماتا ہے جس میں وہ تمام چیزیں داخل ہیں جنھیں لوگ جانتے ہیں اور جنھیں لوگ نہیں جانتے۔ جیسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کے بارے میں ان چیزوں کا نام لیا ہے جن کو ہم جانتے ہیں اور جن کی نظیر کا مشاہدہ کرتے ہیں ، مثلاً:کھجور، انگور اور انار وغیرہ اور جس کی کوئی نظیر ہم نہیں جانتے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کا ذکر مجمل طور پر اپنے اس ارشاد میں کیا ہے۔ ﴿ فِيۡهِمَا مِنۡ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوۡجٰؔنِ﴾(الرحمن:55؍52) ’’ان میں سب میوے دودو قسم کے ہوں گے۔‘‘ اسی طرح یہاں بھی صرف انھی سواریوں کا ذکر کیا گیا ہے جن سے ہم متعارف ہیں ، مثلاً:گھوڑے، خچر، گدھے، اونٹ اور بحری جہاز وغیرہ اور باقی کو اس نے اس قول ﴿ وَيَخۡلُقُ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَؔ﴾ میں مجمل رکھا۔
[9] اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں حسی راستے کا ذکر فرمایا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ عنایت فرمائی کہ وہ اس راستے کو اونٹوں اور دیگر سواریوں کے ذریعے سے طے کرتے ہیں … وہاں اس معنوی راستے کا بھی ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے، چنانچہ فرمایا:﴿ وَعَلَى اللّٰهِ قَصۡدُ السَّبِيۡلِ ﴾ ’’اور اللہ تک پہنچتا ہے سیدھا راستہ‘‘ یعنی صراط مستقیم جو قریب ترین اور مختصر ترین راستہ ہے اور اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔رہا عقائد و اعمال میں ظلم کا راستہ تو اس سے مراد ہر وہ راستہ ہے جو صراط مستقیم کی مخالفت کرتا ہے یہ راستہ اللہ تعالیٰ سے منقطع کر کے شقاوت کے گڑھے میں گرا دیتا ہے۔ پس ہدایت یافتہ لوگ اپنے رب کے حکم سے صراط مستقیم پر گامزن رہتے ہیں اور صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے لوگ ظلم و جور کے راستوں کو اختیار کرتے ہیں ﴿وَلَوۡ شَآءَ لَهَدٰؔىكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ ﴾ ’’اور اگر وہ چاہے تو سب کو ہدایت دے دے‘‘ مگر اللہ تعالیٰ بعض کو اپنے فضل و کرم سے ہدایت عطا کرتا ہے اور بعض کو اپنے عدل و حکمت کی بنا پر گمراہ کرتا ہے۔