Tafsir As-Saadi
18:25 - 18:26

اور ٹھہرے وہ اپنے غار میں تین سو سال اور زیادہ رہے (اس سے) نوسال (25) آپ کہہ دیجیے! اللہ ہی خوب جانتا ہے اس مدت کو کہ جو وہ ٹھہرے، اسی کے لیے ہے غیب آسمانوں اور زمین کا، کیا ہی خوب دیکھنے والا ہے وہ اور کیا ہی خوب سننے والا ہے، نہیں ہے ان کے لیے سوائے اس (اللہ) کے کوئی دوست اور نہیں شریک کرتا وہ اپنے حکم میں کسی کو بھی (26)

[26,25] چونکہ اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کے بارے میں اہل کتاب سے سوال کرنے سے منع کر دیا ہے کیونکہ انھیں اس کے متعلق کچھ علم نہیں ، اللہ تعالیٰ ہی غیب اور حاضر کا علم رکھتا ہے اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے… اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے سوئے رہنے کی مدت سے آگاہ فرمایا۔ اس مدت کو وہ اکیلا ہی جانتا ہے کیونکہ اس کا تعلق آسمانوں اور زمین کے غیبی امور سے ہے اور غیبی امور کا علم اللہ تعالیٰ سے مختص ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان امور کے بارے میں اپنے رسولوں کی زبانی آگاہ فرمایا ہے وہی حق یقینی ہے جس میں کوئی شک نہیں اور وہ امور جن کے بارے میں وہ اپنے انبیاء و رسل کو مطلع نہیں کرتا مخلوق میں سے کوئی بھی ان کو نہیں جان سکتا۔اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد:﴿ اَبۡصِرۡ بِهٖ وَاَسۡمِعۡ﴾ ’’کیا ہی خوب وہ دیکھتا اور سنتا ہے۔‘‘ تمام معلومات پر اپنے علم کے احاطہ کے بارے میں آگاہ کرنے کے بعد کامل سمع و بصر، تمام مسموعات و مبصرات پر اس سمع و بصر کے محیط ہونے پر تعجب کا اظہار ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ ولایت عامہ اور ولایت خاصہ میں وہی منفرد ہے وہی ولی اور مددگار ہے جو تمام کائنات کی تدبیر کرتا ہے اپنے مومن بندوں کا دوست اور مددگار ہے وہ انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔ فرمایا:﴿ مَا لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ مِنۡ وَّلِيٍّ﴾ ’’نہیں ہے واسطے ان کے، اس کے سوا، کوئی دوست، کار ساز‘‘ یعنی وہی ہے جس نے اپنے لطف و کرم سے اصحاب کہف کی سرپرستی فرمائی اور ان کے معاملے کو اپنی مخلوق میں سے کسی پر نہیں چھوڑا۔ ﴿ وَّلَا يُشۡرِكُ فِيۡ حُكۡمِهٖۤ اَحَدًا﴾ ’’اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا‘‘ اور یہ حکم کونی و قدری اور حکم دینی و شرعی دونوں کو شامل ہے وہی قضا و قدر اور تخلیق و تدبیر کے ذریعے سے اور امرونہی اور ثواب و عقاب کے ذریعے سے اپنی مخلوق میں اپنا حکم نافذ کرتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا کہ آسمانوں اور زمین کے تمام غیبی امور کو وہ جانتا ہے تو مخلوق کے لیے ان کو جاننے کا اس طریقے کے سوا کوئی اور طریقہ نہیں ، جو اس نے اپنے بندوں کو بتایا ہے۔ یہ قرآن کریم بہت سے غیبی امور پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کا حکم دیا ہے، چنانچہ فرمایا: