Tafsir As-Saadi
2:118 - 2:119

اور کہا ان لوگوں نے جو نہیں علم رکھتے کیوں نہیں کلام کرتا ہم سے اللہ یا (کیوں نہیں) آتی ہمارے پاس کوئی نشانی؟ اسی طرح کہا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے، مثل ان کے قول کے، ایک جیسے ہو گئے دل ان کے، تحقیق بیان کر دیں ہم نے نشانیاں ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں(118) بلاشبہ بھیجا ہم نے آپ کو ساتھ حق کے، خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا اور نہیں سوال کیے جائیں گے آپ دوزخیوں کی بابت (119)

[118] یعنی اہل کتاب وغیرہ میں سے جہلاء نے کہا۔ ہمارے ساتھ اللہ تعالیٰ اس طرح کلام کیوں نہیں کرتا جس طرح وہ اپنے رسولوں سے کلام کرتا ہے۔ ﴿ اَوۡ تَاۡتِيۡنَاۤ اٰيَةٌ﴾ ’’یا کیوں نہیں آتی ہمارے پاس کوئی نشانی‘‘ اس سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو وہ اپنی فاسد عقلوں اور باطل آراء کے ذریعے سے طلب کرتے تھے۔ ان فاسد آراء کے بل بوتے پر انھوں نے خالق کے مقابلے میں جسارت کی اور اس کے رسولوں کے سامنے تکبر سے کام لیا۔ جیسے انھوں نے کہا: ﴿ لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهۡرَةً ﴾(البقرہ : 2؍55) ’’ہم تجھ پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہم اللہ کو ان ظاہری آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔‘‘ ﴿ يَسۡـَٔؔلُكَ اَهۡلُ الۡكِتٰبِ اَنۡ تُنَزِّلَ عَلَيۡهِمۡ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدۡ سَاَلُوۡا مُوۡسٰۤى اَكۡبَرَ مِنۡ ذٰلِكَ﴾(النساء : 4؍153) ’’اہل کتاب تجھ سے کہتے ہیں کہ تو ان پر آسمان سے ایک لکھی ہوئی کتاب اتار لا۔ پس یہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑے بڑے سوال کیا کرتے تھے۔‘‘ ﴿ لَوۡلَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِ مَلَكٌ فَيَكُوۡنَ مَعَهٗ نَذِيۡرًاۙ۰۰اَوۡ يُلۡقٰۤى اِلَيۡهِ كَنۡزٌ اَوۡ تَكُوۡنُ لَهٗ جَنَّةٌ يَّاۡكُلُ مِنۡهَا﴾(الفرقان : 25؍7، 8) ’’اس کی طرف کوئی فرشتہ کیوں نہ نازل کیا گیا جو ڈرانے کے لیے اس کے ساتھ ساتھ رہتا یا اس کی طرف کوئی خزانہ اتارا جاتا۔ یا اس کے لیے کوئی باغ ہوتا جس سے وہ کھاتا‘‘ یا جیسے فرمایا: ﴿ وَقَالُوۡا لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفۡجُرَ لَنَا مِنَ الۡاَرۡضِ يَنۢۡبـُوۡعًا﴾(بنی اسرائیل : 17؍90) ’’اور انھوں نے کہا ہم تجھ پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ تو ہمارے لیے زمین سے چشمہ جاری نہ کر دے۔‘‘ پس اپنے رسولوں کے ساتھ یہ ان کی عادت رہی ہے کہ یہ طلب رشد و ہدایت کے لیے آیات کا مطالبہ نہیں کیا کرتے تھے اور نہ تبیین حق ان کا مقصد تھا بلکہ وہ تو محض بال کی کھال اتارنے کے لیے مطالبات کرتے تھے۔ کیونکہ رسول تو آیات (اور معجزات) کے ساتھ آتے رہے ہیں اور ان جیسی آیات و معجزات پر انسان ایمان لاتا رہا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿ قَدۡ بَيَّنَّا الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يُّوۡقِنُوۡنَؔ﴾ ’’بے شک ہم نے بیان کر دیں نشانیاں ان لوگوں کے لیے جو یقین کرتے ہیں۔‘‘ پس ہر صاحب ایقان اللہ تعالیٰ کی روشن نشانیوں اور واضح دلائل و براہین کو پہچان لیتا ہے۔ ان سے اسے یقین حاصل ہوتا ہے اور شک و ریب اس سے دور ہوجاتے ہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ نے نہایت اختصار و ایجاز سے بعض جامع آیات کا ذکر فرمایا ہے جو رسول اللہﷺکی صداقت، اور جو کچھ آپ پر نازل ہوا اس کی صحت پر دلالت کرتی ہیں۔

[119] فرمایا: ﴿ اِنَّـاۤاَرۡسَلۡنٰكَ بِالۡحَقِّ بَشِيۡرًا وَّنَذِيۡرًا﴾ ’’ہم نے آپ کو حق کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے‘‘ یہ ان آیات پر مشتمل ہے جنھیں رسول اللہﷺلے کر مبعوث ہوئے اور یہ تین امور کی طرف راجع ہیں۔ (۱)رسول اللہﷺکی رسالت۔ (۲) آپ کی سیرت طیبہ، آپ کا طریقہ اور آپ کی راہ نمائی۔ (۳) قرآن و سنت کی معرفت۔ پہلا اور دوسرا نکتہ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ اِنَّـاۤاَرۡسَلۡنٰكَ ﴾ میں داخل ہے اور تیسرا نکتہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ بِالۡحَقِّ ﴾ میں داخل ہے۔ نکتہ اول۔۔۔ یعنی رسول اللہﷺکی بعثت اور رسالت کی توضیح یہ ہے کہ رسول اللہﷺکی بعثت سے قبل اہل زمین کی جو حالت تھی وہ معلوم ہے۔ اس زمین کے رہنے والے بتوں، آگ اور صلیب کی عبادت میں مبتلا تھے۔ ان کے لیے جو دین آیا انھوں نے اسے تبدیل کر کے رکھ دیا تھا۔ یہاں تک کہ وہ کفر کی تاریکیوں میں ڈوب گئے اور کفر کی تاریکی ان پر چھا گئی تھی۔ البتہ اہل کتاب کی کچھ باقیات تھیں (جو دین اسلام پر قائم رہیں) اور وہ بھی رسول اللہﷺکی بعثت سے تھوڑا سا پہلے ناپید ہو گئیں۔ یہ بھی معلوم ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو عبث اور بے فائدہ پیدا نہیں کیا اور نہ اس کو بے حساب و کتاب آزاد چھوڑا ہے، کیونکہ وہ حکیم و دانا، باخبر، صاحب قدرت اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ پس اس کی حکمت اور اپنے بندوں پر اس کی بے پایاں رحمت کا تقاضا ہوا کہ وہ ان کی طرف ایک نہایت عظمت والا رسول مبعوث کرے جو انھیں ایک اللہ کی عبادت کا حکم دے جس کا کوئی شریک نہیں۔ ایک عقلمند شخص محض آپ کی رسالت ہی کی بنا پر آپ کی صداقت کو پہچان لیتا ہے اور یہ اس بات کی بہت بڑی علامت ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ رہا دوسرا نکتہ... تو جس نے رسول اللہﷺکو اچھی طرح پہچان لیا اور اسے آپ کی بعثت سے قبل آپ کی سیرت اور آپ کے طریق زندگی اور آپ کی کامل ترین خصلتوں پر آپ کی نشوونما کی معرفت حاصل ہو گئی۔ پھر بعثت کے بعد آپ کے مکارم ، عظیم اور روشن اخلاق بڑھتے چلے گئے۔ پس جنھیں ان اخلاق کی معرفت حاصل ہو گئی اور انھوں نے آپ کے احوال کو اچھی طرح جانچ لیا تو اسے معلوم ہو گیا کہ ایسے اخلاق صرف انبیائے کاملین ہی کے ہو سکتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اوصاف کو اصحاب اوصاف اور ان کے صدق و کذب کی معرفت کے لیے سب سے بڑی دلیل قرار دیا ہے۔ رہا تیسرا نکتہ۔۔۔ تو یہ اس عظیم شریعت اور قرآن کریم کی معرفت ہے جسے رسول اللہﷺپر نازل کیا گیا جو سچی خبروں، اچھے احکام، ہر برائی سے ممانعت اور روشن معجزات پر مشتمل ہے۔ پس تمام نشانیاں ان تین باتوں میں آ جاتی ہیں۔ ﴿ بَشِيۡرًا ﴾ یعنی آپ اس شخص کو دنیاوی اور اخروی سعادت کی خوشخبری سنانے والے ہیں جس نے آپ کی اطاعت کی ﴿ وَّنَذِيۡرًا﴾ اور اس شخص کو دنیاوی اور اخروی بدبختی اور ہلاکت سے ڈرانے والے ہیں جس نے آپ کی نافرمانی کی ﴿ وَّلَا تُسۡـَٔلُ عَنۡ اَصۡحٰؔبِ الۡجَحِيۡمِ ﴾ یعنی آپ سے اہل دوزخ کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا۔ آپ کا کام پہنچا دینا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔