اللہ دوست ہے ان لوگوں کا جو ایمان لائے، نکالتا ہے ان کو اندھیروں سے روشنی کی طرف اور وہ لوگ جنھوں نے کفر اختیار کیا، ان کے دوست ہیں شیطان، وہ نکال لے جاتے ہیں ان کو روشنی سے اندھیروں کی طرف، یہی لوگ ہیں دوزخی، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے(257)
[257] اس کے بعد اللہ نے وہ سبب بیان فرمایا ہے جس کی و جہ سے یہ نتیجہ حاصل ہوا وہ یہ ہے کہ ﴿ اَللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا﴾ ’’ایمان لانے والوں کا کارساز اللہ خود ہے۔‘‘ یہ آیت ان کی اپنے رب سے دوستی پر مشتمل ہے، بایں طور کہ وہ اپنے رب سے محبت رکھتے ہیں، پس اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے۔ اس کے پیاروں سے محبت کرتے اور اس کے دشمنوں سے دشمنی رکھتے ہیں، اللہ نے بھی ان پر لطف و کرم اور احسان فرماتے ہوئے انھیں کفر، معاصی اور جہل کے اندھیروں سے نکالا اور ایمان، نیکی اور علم کی روشنی میں پہنچا دیا۔ اس کے نتیجے میں وہ قبر، حشر اور قیامت کے اندھیروں سے محفوظ رہ کر دائمی نعمت، راحت اور سرور والی جنت میں پہنچ گئے۔ ﴿ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡۤا اَوۡلِيٰٓؔــُٔـهُمُ۠ الطَّاغُوۡتُ﴾ ’’اور کافروں کے اولیاء شیطان ہیں۔‘‘ پس انھوں نے شیطان سے اور اس کی پارٹی سے دوستی کی۔ اپنے مالک اور آقا کی دوستی چھوڑ دی۔ اس کی سزا کے طورپر اللہ نے ان پر شیطانوں کو مسلط کردیا، جو انھیں گناہوں کی طرف ہانکتے اور برائی پر آمادہ کرتے ہیں۔ اس طرح انھیں ایمان، علم اور نیکی کے نور سے ہٹا کر کفر، معاصی اور جہالت کے اندھیروں میں لے جاتے ہیں۔ ان کے نتیجے میں وہ نیکیوں سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اور نعمت اور خوشی حاصل نہیں کرسکتے۔ یہ حسرت کے جہان (جہنم) میں بھی شیطان کی جماعت اور اس کے دوست ہی شمار ہوں گے، اس لیے اللہ نے فرمایا:﴿ اُولٰٓىِٕكَ اَصۡحٰؔبُ النَّارِ١ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰؔلِدُوۡنَ﴾ ’’یہ لوگ جہنمی ہیں۔ وہ ہمیشہ اس میں پڑے رہیں گے۔‘‘