Tafsir As-Saadi
21:45 - 21:46

کہہ دیجیے! یقینا ڈراتا ہوں میں تمھیں وحی کے ذریعے سےاور نہیں سنتے بہرے پکار کو جب وہ ڈرائے جائیں (45)اور البتہ اگر چھو جائے انھیں ایک (ہلکا سا) جھونکا آپ کے رب کے عذاب کا تو البتہ ضرور کہیں گے وہ، ہائے ہماری کم بختی! بلاشبہ ہم ہی تھے ظالم (46)

[45]﴿قُلۡ ﴾ اے محمد! (ﷺ) تمام لوگوں سے کہہ دیجیے ﴿ اِنَّمَاۤ اُنۡذِرُؔكُمۡ بِالۡوَحۡيِ﴾یعنی میں تو اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں جو کچھ تمھارے پاس لایا ہوں وہ اپنی طرف سے نہیں لایا نہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں ، نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں دعویٰ کرتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ، میں تو صرف اس چیز کے ذریعے سے تمھیں ڈراتا ہوں جو اللہ تعالیٰ میری طرف وحی کرتا ہے۔ اگر تم نے میری دعوت پر لبیک کہی تو یہ اللہ تعالیٰ کی دعوت پر لبیک ہے وہ تمھیں اس پر ثواب عطا کرے گا اور اگر تم روگردانی کر کے اس کی مخالفت کروگے تو میرے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں ۔ اختیار تو تمام تر اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے اور تقدیر صرف اسی کی طرف سے ہے۔﴿ وَلَا يَسۡمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ ﴾ یعنی بہرہ کسی قسم کی آواز نہیں سن سکتا کیونکہ اس کی سماعت خراب ہو چکی ہے جس طرح آواز کا سننا اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ آواز کو قبول کرنے والا مقام و محل موجود ہو۔ اسی طرح وحی قلب و روح کے لیے زندگی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھ کا سبب ہے لیکن اگر قلب ہدایت کی آواز کو قبول نہیں کرتا تو وہ ہدایت اور ایمان کی نسبت سے اس بہرے کی مانند ہے جو آوازوں کو نہیں سن سکتا۔ یہ مشرکین بھی ہدایت اور ایمان کی آواز سننے سے بہرے ہیں اس لیے ان کا ہدایت کو قبول نہ کرنا کوئی تعجب انگیز بات نہیں خاص طور پر اس حالت میں کہ ابھی تک ان کو عذاب اور اس کی تکلیف نے چھویا نہیں ۔
[46]﴿ وَلَىِٕنۡ مَّسَّتۡهُمۡ نَفۡحَةٌ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّكَ﴾ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ایک معمولی سا حصہ ان کو چھو لے ﴿ لَيَقُوۡلُنَّ يٰوَيۡلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ ﴾ ’’تو پکار اٹھیں گے ہائے ہماری کم بختی! ہم تو ظالم تھے۔‘‘ یعنی وہ اپنی ہلاکت اور موت ہی کو پکاریں گے اور ان کی پکار اپنی ندامت کا اظہار اور اپنے ظلم، کفر اور استحقاق عذاب ہی کا اعتراف ہو گی۔