Tafsir As-Saadi
21:47 - 21:47

اور ہم رکھیں گے ترازوئیں انصاف کی دن قیامت کے، پس نہ ظلم کیا جائے گا کسی نفس پر کچھ بھی اور اگر ہوگا (عمل) برابر دانے ایک رائی کے بھی تو لے آئیں گے ہم اسے اور کافی ہیں ہم حساب کرنے والے (47)

[47] اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے عدل پر مبنی حکم کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، قیامت کے روز جب وہ اپنے بندوں کو جمع کرے گا تو ان کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ فیصلے کرے گا۔ نہایت عدل کے ساتھ وزن کرنے والی ترازوئیں قائم کر دی جائیں گی جن پر ذرہ بھر وزن بھی واضح ہو جائے گا۔ یہ ترازوئیں نیکیوں اور برائیوں کا وزن کریں گی۔ ﴿ فَلَا تُظۡلَمُ نَفۡسٌ ﴾ ’’پس کسی نفس پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔‘‘ خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر ﴿ شَيۡـًٔؔا﴾ ’’کچھ بھی۔‘‘ یعنی کسی شخص کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی نہ کسی شخص کی برائیوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ ﴿ وَاِنۡ كَانَ مِثۡقَالَ حَبَّةٍ مِّنۡ خَرۡدَلٍ ﴾ ’’اور اگر ہو گا (عمل) رائی کے دانے کے برابر۔‘‘ جو کہ سب سے چھوٹی اور حقیر سی چیز ہے یعنی رائی کے دانے کے برابر بھی نیکی یا بدی ہو گی ﴿ اَتَيۡنَا بِهَا﴾ ہم اسے سامنے حاضر کر دیں گے تاکہ اس پر اس کے مرتکب کو جزا دی جائے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَهٗؕ۰۰وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ ﴾(الزلزال:99؍7 ،8) ’’جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے اور جس نے ذرہ بھر برائی کا ارتکاب کیا ہو گا وہ اسے دیکھ لے گا۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَيَقُوۡلُوۡنَ يٰوَيۡلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الۡكِتٰبِ لَا يُغَادِرُؔ صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً اِلَّاۤ اَحۡصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’وہ کہیں گے کہ ہماری کم بختی! یہ کیسی کتاب ہے کہ کوئی چھوٹا یا بڑا عمل ایسا نہیں جو اس میں لکھنے سے رہ گیا ہو اور وہ اپنے تمام اعمال کو موجود پائیں گے۔‘‘ ﴿ وَكَفٰى بِنَا حٰؔسِبِيۡنَ﴾ اللہ تعالیٰ کی اس سے مراد خود اپنا نفس کریمہ ہے اور وہ حساب لینے کے لیے کافی ہے، یعنی اللہ اپنے بندوں کے اعمال کا علم رکھتا ہے، ان اعمال کو کتا ب میں درج کر کے ان کی حفاظت کرتا ہے، وہ ان اعمال کی مقدار کے مطابق ثواب اور ان کے استحقاق کا بھی علم رکھتا ہے اور وہ عمل کرنے والوں کو ان کی جزا عطا کرے گا۔