اور وہ لوگ جنھوں نے ہجرت کی اللہ کی راہ میں ، پھر وہ قتل (شہید) کیے گئے یا وہ مر گئے البتہ ضرور رزق دے گا ان کو اللہ رزق بہت اچھا اور بلاشبہ اللہ، البتہ وہی ہے سب سے بہتر رزق دینے والا (58) البتہ ضرور داخل کرے گا وہ ان کو اس مقام میں کہ وہ پسند کریں گے اسے اور بلاشبہ اللہ البتہ خوب جاننے والا بردبار ہے (59)
[58] یہ آیت کریمہ اس شخص کے لیے بہت بڑی بشارت ہے جس نے اللہ کے راستے میں ہجرت کی، وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور دین کی نصرت کی خاطراپنا گھر بار، مال اور اولاد چھوڑ کر وطن سے نکلا۔ اب یہ شخص خواہ اپنے بستر پرجان دے یا جہاد کرتے ہوئے اللہ کے راستے میں قتل کردیا جائے، اللہ تعالیٰ پر اس کا اجر واجب ہوگیا ﴿ لَيَرۡزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزۡقًا حَسَنًا﴾ ’’اللہ تعالیٰ انھیں اچھا رزق عطا کرے گا ‘‘ عالم برزخ میں اور قیامت کے روز جنت میں داخل کرکے اچھے رزق سے نوازے گا۔ اس جنت میں آرام، خوشبوئیں ، حسن، احسان اور قلب و بدن کی تمام نعمتیں جمع ہوں گی۔ اس میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہجرت کرنے والے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں کشادہ اور اچھے رزق کی ذمہ داری اٹھائی ہے، خواہ اللہ تعالیٰ کے علم میں وہ بستر پرجان دے یا اللہ کے راستے میں شہید کر دیا جائے، ان سب کے لیے رزق کی ضمانت ہے۔ اس لیے ہجرت کرنے والے کو یہ وہم لاحق نہ ہو کہ جب وہ اپنے گھر بار اور مال و اولاد کو چھوڑ کر نکلے گا تو محتاج ہو جائے گا کیونکہ اس کا رازق وہ ہے جو سب سے بہتر رزق عطا کرنے والا ہے۔ یہ اسی طرح واقع ہوا جس طرح اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا تھا۔ مہاجرین سابقین نے نصرت دین کی خاطر اپنا گھر بار، اولاد اور مال چھوڑ دیا تو ابھی کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں سے بہت سے شہر فتح کروائے، انھیں لوگوں پر اقتدار و اختیار عطا کیا تو انھوں نے ان شہروں سے مال حاصل کیا اور اس مال کے ذریعے سے سب سے دولت مند ہوگئے۔
[59] اور انکا حال اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مصداق ہوگیا : ﴿ لَيُدۡخِلَنَّهُمۡ مُّدۡخَلًا يَّرۡضَوۡنَهٗ ﴾ ’’اور اللہ ان کو ایسی جگہ میں داخل فرمائے گا جس کو وہ پسند کریں گے۔‘‘ اس سے مراد یا تو وہ شہر ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں پر فتح كيے، خاص طور پر مکہ مکرمہ کیونکہ اہل ایمان مکہ مکرمہ میں نہایت مسرت اور رضا کی حالات میں داخل ہوئے تھے … یا اس سے مراد آخرت کا رزق اور جنت میں داخل ہونا ہے۔ پس آیت کریمہ رزق کی دونوں اقسام، یعنی رزق دنیا اور رزق آخرت دونوں کو جمع کرنے والی ہے لفظ کا اطلاق دونوں کے لیے درست اور معنی دونوں کے صحیح ہے۔ ان تمام معانی کے اطلاق سے کوئی امر مانع نہیں ۔ ﴿وَاِنَّ اللّٰهَ لَعَلِيۡمٌ ﴾ اللہ تعالیٰ ظاہری اور باطنی، گزرے ہوئے اور آنے والے تمام امور کا علم رکھتا ہے۔ ﴿ حَلِيۡمٌ ﴾ مخلوق اس کی نافرمانی کرتی ہے اور بڑے بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتی ہے مگر وہ کامل قدرت رکھنے کے باوجود سزا دینے میں جلدی نہیں کرتابلکہ ان کو پیہم رزق مہیا فرماتا اور اپنے فضل سے انھیں نوازتا ہے۔