Tafsir As-Saadi
3:81 - 3:82

اور (یاد کرو) جب لیا اللہ نے عہد (تمام) نبیوں سے ، البتہ جو کچھ دوں میں تمھیں کتاب اور حکمت سے، پھر آئے تمھارے پاس کوئی رسول جو تصدیق کرنے والا ہو اس کی جو تمھارے پاس ہے، تو تم ضرور ایمان لانا ساتھ اس (رسول) کے اور ضرور مدد کرنا اس کی، اللہ نے فرمایا کیا تم اقرار کرتے ہواور قبول کرتے ہو اس پر میرا عہد؟ کہا انھوں نے، اقرار کیا ہم نے، اللہ نے فرمایا تو تم گواہ رہنااور میں بھی تمھارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں(81) پس جو کوئی روگردانی کرے گا بعد اس (عہد) کے، تو وہی لوگ ہیں نافرمان(82)

[82-81] ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ اس نے نبیوں سے پختہ عہد و پیمان لیا، کیونکہ انھیں کتاب دی ہے جو اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور حکمت دی ہے جو حق و باطل کے درمیان اور ہدایت و گمراہی کے درمیان فرق کرنے والی ہے۔ کہ اگر اللہ تعالیٰ کوئی رسول بھیجے جو ان کے پاس آنے والی وحی اور کتاب کو سچا مانے۔ تو تمام نبیوں کو چاہیے کہ اس پر ایمان لائیں۔ اس کی تصدیق کریں اور اپنی امتوں کو بھی اس پر ایمان و تصدیق کا حکم دیں۔ چنانچہ اللہ نے تمام انبیاء علہیم الصلوۃ والسلام پر واجب کیا ہے کہ ایک دوسرے پرایمان لائیں اور ایک دوسرے کی تصدیق کریں۔ کیونکہ ان کے پاس جو بھی احکام آئے ہیں اللہ کی طرف سے ہیں۔ اور اللہ کی طرف سے آنے والی ہر چیز پر ایمان لانا اور اس کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔ وہ سب ایک اکائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چونکہ محمدﷺخاتم النبیین ہیں۔ لہٰذا تمام انبیائے کرام پر واجب ہے کہ جس نبی کو بھی آپuکا زمانہ ملے، وہ آپ پر ایمان لائے۔ آپ کی پیروی کرے اور آپ کی مدد کرے۔ کیونکہ آپ ان کے امام، پیشوا اور متبوع ہیں۔ یہ آیت کریمہ نبیﷺکے بلند مرتبے اور عظمت شان کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپﷺتمام انبیاء علیہم السلام سے افضل اور ان کے سردار ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام سے اقرار لیا ﴿ قَالُوۡۤا اَقۡرَرۡنَا ﴾ ’’تو سب نے کہا: ہمیں اقرار ہے‘‘ اور اے اللہ! ہم تیرا حکم قبول کرتے اور اسے سر آنکھوں پر رکھتے ہیں۔ ﴿ قَالَ فَاشۡهَدُوۡا ﴾ اللہ نے انھیں فرمایا: اپنی ذات کی طرف سے بھی اور اپنی امتوں کی طرف سے بھی گواہ رہو۔ ﴿ وَاَنَا مَعَكُمۡ مِّنَ الشّٰهِدِيۡنَ ﴾ ’’اور میں بھی تمھارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں‘‘ ﴿ فَمَنۡ تَوَلّٰى بَعۡدَ ذٰلِكَ ﴾ ’’پس اس (پختہ وعدے اور عہد) کے بعد بھی (جس پر اللہ اور اس کے رسول کی گواہی ہے) جو پلٹ جائیں‘‘ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴾ ’’تو وہ یقیناً پورے نافرمان ہیں‘‘ لہٰذا جو شخص بھی یہ دعویٰ رکھتا ہے کہ وہ انبیائے کرام کا پیروکار ہے۔ یہودی ہو یا عیسائی یا کوئی اور۔ اگر وہ محمدﷺپر ایمان نہیں لایا تو وہ اس پختہ عہد کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ اس عہد شکنی کی سزا کے طورپر جہنم میں ہمیشہ رہنے کا مستحق ہوگیا ہے کیونکہ وہ نافرمان ہے۔