Tafsir As-Saadi
33:7 - 33:8

اور جب لیا ہم نے نبیوں سے عہد ان کا اورآپ سے اور نوح سے، اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم سے اور لیا ہم نے ان سے عہد بڑا پختہ(7) تاکہ وہ (اللہ) پوچھے سچوں سے ان کی سچائی کی بابت اور تیارکیا ہے اس نے واسطے کافروں کے عذاب درد ناک(8)

[7، 8] اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے تمام انبیائے کرام سے عام طور پر اور آیت کریمہ میں مذکور پانچ اولوالعزم رسولوں سے خاص طور پر نہایت پختہ اور موکد عہد لیا کہ وہ اللہ کے دین پر اور اس کے راستے میں جہاد پر قائم رہیں گے۔ اقامت دین اور جہاد ایسا راستہ ہے جس پر گزشتہ انبیاء و مرسلین گامزن رہے اور یہ سلسلہ افضل الانبیاء والمرسلین سیدنا محمد ﷺ پر آ کر ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ انبیاء کے نقش قدم پر چلیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انبیائے کرام اور ان کے متبعین سے اس میثاق کے بارے میں پوچھے گا کہ کیا انھوں نے اس عہد کو پورا کیا اور اپنے عہد پر پورے اترے تاکہ انھیں نعمتوں بھری جنت عطا کی جائے؟ یا انھوں نے کفر کیا تاکہ انھیں دردناک عذاب دیا جائے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ ﴾(الأحزاب:33؍23) ’’اہل ایمان میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جنھوں نے اللہ سے کیا ہوا عہد سچ کر دکھایا۔‘‘