Tafsir As-Saadi
35:1 - 35:2

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، پیدا کرنے والا آسمانوں اور زمین کا، بنانے والا فرشتوں کو قاصد پروں والے، دو دو تین تین اورچار چار، وہ (اللہ) زیادہ کرتا ہے پیدائش میں جو چاہتا ہے ، بلاشبہ اللہ اوپر ہر چیز کے خوب قادر ہے(1)جو کھول دے اللہ واسطے لوگوں کے (اپنی) رحمت سے تو نہیں کوئی بند کرنے والا اسے، اور جو وہ بند کر دے تو نہیں ہے کوئی بھیجنے والا اسے، اس کے بعد، اور وہ غالب، خوب حکمت والا ہے(2)

[1] اللہ تبارک وتعالیٰ خود اپنی ذات مقدس کی مدح و ثنا کرتا ہے کہ اس نے زمین و آسمان اور ان کے اندر موجود تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے۔ یہ اس کے کمال قدرت، وسعت اقتدار، بے پایاں رحمت، انوکھی حکمت اور احاطۂ علم کی دلیل ہے۔ تخلیق کائنات کا ذکر کرنے کے بعد اس چیز کاتذکرہ کیا کہ بے شک وہی ﴿جَاعِلِ الۡمَلٰٓىِٕكَةِ رُسُلًا﴾ ’’فرشتوں کو قاصد بنانے والا ہے‘‘ اس نے اپنے حکم قدری کی تدبیر اور اپنے حکم دینی کی تبلیغ کے لیے اپنے اور اپنی مخلوق کے درمیان واسطے کے لیے، فرشتوں کو پیغام رساں بنایا۔اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیغام رساں بنانے کا ذکر فرمایا اور ان میں سے کسی کو مستثنیٰ نہیں کیا، یہ ان کی اپنے رب کے لیے کامل اطاعت اور اس کے حکم کے سامنے ان کے سرتسلیم خم کرنے کی دلیل ہے جیسا کہ فرمایا:﴿لَّا يَعۡصُوۡنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمۡ وَيَفۡعَلُوۡنَ مَا يُؤۡمَرُوۡنَ ﴾(التحریم : 66؍6) ’’وہ اللہ کی حکم عدولی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔‘‘ چونکہ فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم سے، کائنات کی تدبیر کرتے ہیں اور تدبیر کائنات کا معاملہ ان کے سپرد کر رکھا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی قوت اور ان کی سرعت رفتار کا ذکر کیا، نیز آگاہ فرمایا کہ اس نے ان فرشتوں کو ﴿اُولِيۡۤ اَجۡنِحَةٍ ﴾ ’’پروں والے‘‘ بنایا ہے، جن کے ذریعے سے یہ فرشتے پرواز کرتے ہیں تاکہ نہایت سرعت سے اللہ تعالیٰ کے احکام کو نافذ کر سکیں۔ ﴿مَّثۡنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ﴾ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق ان فرشتوں کے دو دو، تین تین اور چار چار پر ہیں ﴿يَزِيۡدُ فِي الۡخَلۡقِ مَا يَشَآءُ ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تخلیق کی بعض صفات ، مثلاً: قوت میں، حسن میں، اعضاء میں، حسن آواز اور لذت ترنّم میں ایک دوسرے پر فضیلت اور اضافہ بخشا ہے۔ ﴿اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيۡءٍ قَدِيۡرٌ ﴾ اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اپنی قدرت کو نافذ کرتا ہے، اس کی قدرت کے سامنے کسی چیز کو دم مارنے کی مجال نہیں۔ مخلوقات میں ایک دوسرے پر تخلیق میں اضافہ بھی اس کی قدرت کے تحت ہے۔
[2] پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ تدبیر کائنات، عطا کرنے اور محروم کرنے میں وہی اکیلا اختیار کا مالک ہے، چنانچہ فرمایا:﴿مَا يَفۡتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنۡ رَّحۡمَةٍ فَلَا مُمۡسِكَ لَهَا ﴾ ’’اللہ تعالیٰ اپنی رحمت لوگوں کے لیے کھول دے تو کوئی اسے بند کرنے والا نہیں اور جسے وہ بند کر دے۔‘‘ یعنی اگر وہ ان کو اپنی رحمت سے محروم کر دے ﴿فَلَا مُرۡسِلَ لَهٗ مِنۢۡ بَعۡدِهٖ﴾ ’’تو اس کے بعد کوئی اسے کھولنے والا نہیں۔‘‘ اس لیے یہ چیز اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنے اور ہر لحاظ سے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کا محتاج سمجھنے کی موجب ہے، نیز یہ اس چیز کی بھی موجب ہے کہ صرف اسی کو پکارا جائے، صرف اسی سے ڈرا جائے اور صرف اسی سے امید رکھی جائے۔ ﴿وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ ﴾ اور وہ تمام چیزوں پر غالب ہے ﴿الۡحَكِيۡمُ ﴾ ’’حکمت والا ہے۔‘‘ یعنی وہ ہر چیزکو اس کے مناسب حال منزل و مقام پر نازل کرتا ہے۔